
زرینہ انصاری
یوم مرد ہر سال19 نومبر کو منایا جاتاہے،صنف نازک کے حقوق کے لیےیوں توہرسال خواتین کا عالمی دن جوش وخروش سےمنایا جاتا
ہے،اخبارات میں عورتوں سےمتعلق مضامین شائع ہوتےہیں جبکہ بڑے بڑےسیمینارمنعقد کئے جاتےہیں۔علامہ اقبال نےیونہی نہیں کہا کہ "وجود زن سے ہےتصویر کائنات میں رنگ"دیکھا جائے توکائنات کے حسن میں رنگ واقعی وجود زن سے ہی ہےمگر جنس مخالف کی حیثیت بھی " یعنی " مرد کی اہمیت بھی اپنی جگہ
یاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىٕلَ لِتَعَارَفُوْاؕ-اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ (سورہ الحجرات)
ترجمہ:اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرداورایک عورت سے پیداکیااور تمہیں شاخیں اورقبیلےمیں تقسیم کیا کہ آپس میں پہچان رکھو۔ بےشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔ بےشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔
اسی لیےکہاجاتا ہےکہ میاں بیوی گاڑی کے دو پہیے ہیں اوردونوں پہیے ٹھیک ہوں گےتو گاڑی بھی صحیح چلے گی ۔اگر دونوں ایک دوسرے کے ہمدرد اورمحبت کرنے والےہوں گے،گھراورخاندان نہ صرف اپنا بلکہ شوہرکے خاندان کے معاملات بھی بیوی دیکھتی ہے اور باہر کے زیادہ ترمعاملات شوہر دیکھتا ہے۔معاش کی ذمہ داری مرد کی ہے کیونکہ وہ عورت کے مقابلہ میں زیادہ طاقتور ہوتا ہےمگراس وقت ایک عورت بھی باہرنکل کرمعاش کی ذمہ داری میں مرد کا ہاتھ بٹارہی ہے۔ مرد اور عورت دونوں کواللہ تعالیٰ نے الگ الگ صلاحتیں دی ہیں اور دونوں ہی کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں۔دونوں ہی اپنے اپنے دائرہ کارمیں مکمل ہیں۔
اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّهُ ؛ مرد عورتوں پرحاکم ہیں اس لیےکہ اللہ نےایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے(سورہ النساء 34)
اللہ تعالٰی نے اگرچہ مرد کو حاکم بنایا ہے،عورت پر ایک درجہ فضیلت دی ہے،جتنا بڑاعہدہ ہےتو پھر ذمہ داری بھی اتنی ہی بھاری ہے۔ اگر مرد حاکم ہےاوربیوی بچے رعیت تو پھران کے نان نفقہ ان کی تربیت سب باپ ہونے کےناطےمرد پرعائد ہوتی ہیں ۔ مرد بحثیت شوہر اور باپ شفقت کا پیکرہو کہ جب گھر داخل ہو تو گھر والے خوش دلی سے اس کا استقبال کرنےوالےہوں یہ نہ ہو کہ سخت گیربادشاہ والارویہ ہو کہ سب ہی اس سےپناہ مانگیں ۔
کسی باپ کی طرف سےاس کی اولاد کے لیےسب سےبہتر تحفہ یہ ہےکہ وہ اس کی اچھی تربیت کرے۔(رواہ الترمذی)
باپ کی بہترین تربیت یقیناً اولاد کے لیے ایک نایاب تحفہ ہے، یہی تربیت اس کی پوری زندگی کو سنوارتی ہے ،زندگی کے ہر میدان میں وہ میدان چاہے تعلیم کا ہو،جاب کا ہو یا پھر آخرت کی تیاری کا ۔





































