
عرشمہ طارق
"لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب ...... گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب"
آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں علامہ اقبال کے اس کلام کی کوئی مثال نہیں ملتی۔
پیارے نبی حضرت محمد صلی علیہ وسلم آپ ہی لوح ہیں،آپ ہی قلم ہیںاور سراپا الکتاب ہیں۔اس وسیع وعریض آسمان کی حیثیت آپٌ کی ذات کے سمندر میں ایک بلبلے جیسی ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی قولِ مبارک ہے کہ رسول اللہ ٌ کے وصال کے بعد کچھ نو مسلموں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تھا کہ ہمیں حضور ٌ کے روز مرہ کے معمولات و اخلاق کے بارے میں کچھ بتائیں تو انہوں نے فرمایا،"کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟آپٌ مجسم قرآن تھے گویا کہ تیرا وجود الکتاب حضرت عائشہ صدیقہ کے اس قول کی تعبیر ہے یعنی آپٌ کا مکمل وجود قرآن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
لوح،قلم،کتاب تینوں کا تعلق علم سے ہے۔علم اللّہ تعالیٰ کی لا محدود صفت ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام کو خلافت ِارضی دینے کے ساتھ ہی کلُ کا کلُ بنیادی علم جنت ہی میں دے دیا گیا تھا۔اور علمِ وحی کا آغاز زمین پر خلیفہ کی حیثیت سے متمکّن ہونے کے بعد شروع ہوا تھا اور رفتہ رفتہ ہر آنے والے نبی کو انکی قوم کی ذہنی سطح کے مطابق ملتا رہا جسکی تکمیل حضرت محمد ٌپر نزول ِقرآن کی صورت میں ہوئ۔
پہلی وحی سورۂ علق کی شروع کی پانچ آیات کے مطابق آپٌ کی ذات مبارکہ میں اسی علم الاسمأ کی تجدید کی گئی۔فرمایا،"اے محمد ٌاپنے پروردگار کا نام لےکر۔ پڑھو جس نے عالمَ کو پیدا کیا جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم یعنی سچا اور فیاض ہے۔اس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا،انسان کو وہ باتیں سکھائیں جنکا اسکو علم نہ تھا۔یعنی حضرت محمد ٌکو اللہ نے پڑھا دیا تمام خلق کا علم اور پڑھا دیا انسان کی تخلیق کا علم اور اپنی شانِ کریمی سے وہ سب بھی پڑھا دیا جو آپٌ نہیں جانتے تھے۔
لوحِ محفوظ وہ تختی ہےجس پر تمام کائنات کی تقدیر یعنی علمِ الٰہی درج ہے۔حضرت محمد ٌلوح کا علم بھی رکھتے ہیں گویا کہ آپ ٌکی زندگی کے تمام اعمال،افعال اور اقوالِ مبارکہ اس علم کے عین مطابق ہیں جو لوح کا علم ہے جو قلم کا علم ہے اور جو قرآن کا علم ہے۔آپٌ کے علم کی کیفیت ایک بحرِ بیکراں کی سی ہے اور وہ علم اس قدر وافر اور گہرا ہے کہ اس گنبد نما چھت جیسے آسمان کی حیثیت آپٌ کے سامنے ایک حباب کی سی ہے یعنی پانی کا وہ قطرہ جو ہوا بھر نے سے پھول کر پانی کے اوپر آجا تا ہے۔جو بہت ادنیٰ اور ناپائیدار ہوتا ہے جبکہ اللّہ نے نبی کریم کو وسیع وعریض،بلندوبالا ابدی جنت کا مالک بنا دیا ہے جو انتہائی مضبوط دیرپا ہے۔اس مٹی اور پانی سے بنی ہوئی دنیا کو رونق اور تابناکی آپٌ کے جلوۂ افروز ہونے سے ملی اور اس دنیا کے معمولی ذرات کو آپٌ نے اپنے فیض سے چمکاکے دنیا کے افق پر روشن سورج بنا کر طلوع فرما دیا ہے۔جب حضور ٌ کا جلوہ اس دنیا کے باسیوں کو نصیب ہوا تو اس دنیا کی زیب و زینت کو آرائشِ وزیبائش کے معنی ملے اور اسمیں موجود انسانوں کو بامِ عروج نصیب ہوا۔آج بھی اس آب و خاک کے عالم میں آپ کے ظہور سے ہی چمک دمک،رونق اور تابناکی ہے۔
آپٌ کا ہی کمال ہےکہ معمولی اور بے وقعت افراد کو آپٌ نے اپنی صحبت میں تعلیم سے،تربیت سے،تزکیۓ سے ایسا چمکایا جیسے آسمان سے سورج طلوع ہوکر روشن ہو جاتاہے۔آپٌ نے بیشمار صحابہ کرام کو اپنی نگاہوں کے فیض سے خورشیدِ تاباں بناکر دنیا کے افق پر یوں طلوع فرما دیا کہ آج بھی عالمِ انسانیت فخر سے انکا نام لیتی ہے۔جنکا مطلوب و مقصود آخرت کے سوا کچھ نہ تھا۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ،"بہترین کلام اللّہ کی کتاب اور بہترین سیرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سیرت ہے۔(مسلم)
اللّہ تعالیٰ ہمیں پیارےنبیٌ کی سیرت پر عمل کرنے والا اور آخرت سنوارنے والا بنائے۔آمین یا رب العالمین





































