
عرشمہ طارق
"دروازہ کھولو جلدی دروازہ کھولو" اتنی سی دیر میں اسامہ نے کئی بار زور زورسے دروازہ پِیٹ ڈالا "کیا مصیبت آگئی صبر نہیں ہوتا تم سے
دروازہ توڑو گے کیا ۔تھوڑی سی دیر تو لگتی ہے آنے میں"اس کی بہن نے جھنجھلاکر دروازہ کھولا " تمہیں دھوپ اور گرمی میں باہر نکلنا پڑے تو پتہ چلے برا حال ہوگیا میرا ۔اوپر سے اس کھٹارا بائیک کا ٹائر بھی پنکچر ہوگیا تھا، ہر وقت کی یہی مصیبت ہے" اسامہ نے غصے میں بائیک کی چابی زور سے پھینکی اور فریج سے ٹھنڈا پانی نکال کر کھڑے ہوکر غٹاغٹ چڑھا گیا "اسامہ یہ کیا طریقہ ہے۔ گرمی اور غصے میں ساری تمیز ہی بھول گئے ہو کیا۔"امی نے اسے ٹوکا شور کی آواز سن کر ابا بھی کمرے سے باہر آگئے "میاں صاحبزادے شکر کرو کہ تمہارے پاس بائیک تو ہے کسی کے پاس تو یہ بھی نہیں ہوتی ۔وہ بھی تو اسی گرمی میں بسوں میں چنگچیوں میں سفر کرتے ہیں یا جو لوگ ریڑھی لگاتے ہیں، روز کے کمانے والے ہیں، وہ بھی انسان ہیں۔ ہم بھی بسوں میں سفر کرتے تھے اور کبھی کبھار تو کرائے کے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے تو کتنی کتنی دور پیدل ہی سفر کرتے تھے "ابو نے اسے احساس دلاتے ہوئے کہا"
بس ابو رہنے دیں نہ تودادا نے اپنی اولاد کے لئے کوئی جائیداد بنائی، نہ ہی آپ نے ہمارے لئے کچھ کیا ۔گورنمنٹ جاب ہوتے ہوئے بھی ایک گھر تک تو آپ بنا نہیں سکے۔سیکنڈ ہینڈ ہی سہی کم از کم ایک گاڑی ہی خرید لیتے۔ انہیں دیکھیں شاہد صاحب کو آپ کے ساتھ ہی کام کرتے تھے کیا عالیشان گھر بنایا ہے اور ان کے بچوں کے پاس نوکریاں ہیں ۔اپنی اپنی گاڑیاں ہیں"اسامہ نے بدتمیزی کی حد ہی پار کردی۔ "چپ ہو جاؤ بے ادب ،شرم نہیں آتی باپ کے آگے زبان چلاتے ہوئے جاؤ اپنے کمرے میں"امی نے اسامہ کو دھکیلتے ہوئے کہا۔
صاحبزادے جنکی مثال تم دے رہے ہو یہ تم بھی جانتے ہو کہ انہوں نے کونسی کمائی سے گھر بنائے ہیں اور بچوں کو گاڑیاں دی ہیں۔ اللہ کا شکر ہے ہم ہزاروں سے بہتر ہیں۔ میرا ضمیر مطمئن ہے میں نے ہمیشہ ایمانداری سے کام کیا اورحلال کا لقمہ تم لوگوں کو کھلایا ہے"۔ باپ کو بیٹے کی سوچ اور الفاظ نے بہت دکھ پہنچایا تھا "تو آپ کی اس ایمانداری کا ہمیں کیا فائدہ ہوا ۔نہ کبھی آپ نے میری جاب کے لئے سفارش کی ۔نہ کبھی اتنی رقم دے سکے کہ میں بیرونِ ملک جاکر کچھ کرلیتا ۔ کب سے اچھی نوکری کے لئے خوار ہورہا ہوں "یہ کہہ کر وہ سامنے رکھی کرسی کو ٹھوکر مارتا ہوا کمرے میں چلاگیا اور ابو نے اپنے لرزتے ہوئے وجود کو سنبھالنے کے لئے دیوار کا سہارا لیا۔
"جس باپ نے اپنے منہ کا نوالہ تمہیں کھلایا اپنی ضرورتوں کو نظر انداز کرکےتم لوگوں کی ضرورتیں پوری کیں۔ اچھی تعلیم دلوائی آج انہیں یہ صلہ دے رہے ہو۔ اللہ کا دیا سب کچھ تو ہے ہمارے پاس ۔پھر کیوں ایسی باتیں کرکے باپ کا دل دُکھاتے ہو اپنے سے نیچے والوں کو دیکھو گے تو خود ہی منہ سے شکر کا کلمہ نکلے گا اور اوپر والوں کو دیکھو گے تو اللہ کی ناشکری کرتے رہوگے جوکہ تم کررہے ہو ۔رب کی نعمتوں کو گننا شروع کروگے تو شمار نہیں کرسکو گے" امی نے دوپٹے کے پلو سے آنسو پوچھتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر چلی گئیں۔
اسامہ نہاکر نکلا تو برآمدے سے باتوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ اس نے جھانک کر دیکھا تو کوئی عورت تھی جو مسالے اور پاپڑ وغیرہ بیچنے آئی تھی۔ دھوپ کی تمازت سے اس کا چہرہ تانبے کی طرح ہورہا تھا۔ امی نے حسبِ عادت اسےگھر میں بٹھالیا تھااور ٹھنڈا پانی دیتے ہوئے اس سے پوچھا"تمہارے گھر میں کوئی مرد نہیں ہے کمانے والا جو اتنی سخت گرمی اور تپتی دوپہر میں پریشان ہورہی ہو ۔
عورت نے قمیض کے دامن سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا " باجی چند مہینے پہلے میرےشوہر کا ایک حادثے میں انتقال ہوگیا تھا گھر میں ایک بوڑھی ساس اور دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ،انہی کی خاطر در در کی خاک چھان رہی ہوں ۔مالک مکان نے بھی کہہ دیا ہے کہ وقت پر کرایہ نہ دیا تو کہیں اور بندوبست کرلینا ۔میرے والدین بھی اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں اور شوہر کے رشتے داروں نے اس کے دنیا سے جاتے ہی آنکھیں پھیر لیں"۔ دکھ اور بے بسی اس کے لہجے سے ظاہر ہورہی تھی، عورت نے پانی پی کر گلاس میز پر رکھا اور جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ امی نے اس سے کچھ چیزیں خریدیں اور اس کے بچوں کے لئے کھانا اور گھر میں رکھے پھل وغیرہ بھی ساتھ دے دیے۔
اسامہ کا غصہ اور جھنجھلاہٹ ختم ہوچکی تھی اس نے ٹھنڈے دماغ سے سوچا کہ یہ ایک عورت ہوتے ہوئے کس طرح سختیاں برداشت کررہی ہے ،اس جیسے اور پتہ نہیں کتنے لوگ ہوں گے جو دو وقت کی روٹی کے لئے کتنی تگ ودو کرتے ہوں گے۔میں تو خوش نصیب ہوں کہ ماں باپ کے شفیق سائے میں پلا بڑھا ۔میرے باپ نے دن رات محنت کی خود بسوں میں سفر کیا جبکہ مجھے بائیک دلوائی خود پرانے کپڑوں پر گزارا کرکے ہمیں ہر خوشی کے موقع پر نئے کپڑے بنواکر دئیے، خود کھانے سے ہاتھ کھینچ کر ہمیں پیٹ بھر کر کھانے کا موقع دیتے۔ اللہ نے مجھے صحت دی صلاحیتیں دیں ،عقل و شعور دیا مجھے سفارش کے بجائے اپنی قابلیت پر اور اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہیے تھا ۔
جیسے جیسے وہ اللہ کی نعمتیں اور ابا کے احسانات شمار کررہا تھا اسکاسر ندامت سے جھکتا جارہا تھا۔ واقعی غصہ حماقت سےشروع ہوتا ہے اور ندامت پر ختم ہوتا ہے۔ بلاشبہ شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے، وہ کیسے وار کرتا ہے۔ اس نے سوچ لیا وہ ابا کے پّیر پکڑ کر معافی مانگ لے گا ۔انہیں منالے گا ،ان کے گلے لگ جائے گا" پتانہیں ابا معاف کریں گے یا نہیں "دل میں وسوسہ آیا شیطان کا ایک اور وار "نہیں میرے ابا بہت اچھے ہیں ۔وہ مجھے ضرور معاف کردیں گے"اس نے خود کو یقین دلایا اور بے اختیار اس کے قدم ابا کے کمرے کی طرف بڑھتے چلے گئے ۔





































