
عرشمہ طارق
"وقار بھائی بہت افسوس ہوا اللہ تعالیٰ آپ کےبیٹے کی مغفرت فرمائے اس کے درجات بلند کرے اور آپ سب کو صبرِ جمیل عطا
فرمائے آمین ۔اللہ جوان اولاد کا دکھ کسی کو نہ دکھائے "پروفیسر عبدالسلام صاحب نے دکھےدل سے کہا "سنا ہے، وقار بھائی کے بیٹے نے ان کی ڈانٹ پھٹکار اور سختیوں سے تنگ آکر خودکشی کی ہے۔ پُرسے کے لئےآئے ہوئے لوگوں میں سے ایک نے تجسس ظاہر کیا۔ دوسرے صاحب بھی تھوڑا نزدیک آکر راز داری سے بولے وہ پچھلی گلی کے ظہور صاحب ہیں نا ان کے بیٹے کو بھی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود نوکری نہیں ملتی تھی۔ بےچارہ غلط صحبت میں پڑگیا اور نشہ کرنے لگا ۔ کافی دن تک گھر نہیں آتاتھا۔ نشہ کرنے والا خود تو اذیت میں آتا ہی ہے ساتھ اس کے پورا گھرمتاثر ہوتا ہے ظہور بھائی بڑھاپے میں اس کے پیچھے خوار ہوتے پھرتے ہیں بہت دکھ ہوتا ہے انہیں دیکھ کر، جوان بیٹا بجائے اس کے کہ باپ کا سہارا بنتا اور ان پر بوجھ بن گیا " اس سے پہلے کہ وہ صاحب کچھ اور کہتے پروفیسر صاحب بولے اللہ ہمارے ملک کےنوجوانوں کو عقل و شعور اور ہمت دے۔ ہمیں ان بچوں کے حق میں دعا کرنی چاہیے "یہ کہہ کر پروفیسرصاحب اٹھ کھڑے ہوئےانہیں کالج پہنچنا تھا۔
"سر آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی سب خیریت ہےنا ؟"کلاس کے ایک بچے نے پروفیسر عبدالسلام کی غیر معمولی سنجیدگی اور اداسی دیکھ کر سوال کیا۔پروفیسر صاحب کچھ دیرخاموش رہے پھر کلاس کے بچوں سے مخاطب ہوئے آپ سب جانتے ہیں نا ہمارا ملک کتنی عظیم قربانیوں کے بعد حاصل ہوا"جی سر آپ نے پاکستان بننے سے پہلے کے اور بعد کے واقعات تفصیل سے بتائے ہیں۔ ایک بچے نے کھڑے ہوکر جواب دیا"تو بچو ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے آج ملک کو سیاسی ومعاشی بحران سے نکالنے کے لئے نوجوانوں کو ہمت اور حوصلے کے ساتھ سمجھداری سے کام لینا چاہیے۔
اس وقت ملک میں بے روز گاری ،مہنگائی اور غربت اتنی بڑھ گئی ہے کہ لوگ مایوس ہوکرخودکشیاں کررہے ہیں ۔ نشے جیسی لعنت میں گرفتار ہورہے ہیں ۔اپنا ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک جارہے ہیں لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے " تو سر ان حالات میں کیا کرنا چاہیے" ایک بچے نے فکرمندی سے پوچھا"سب سے پہلے تو میں ایک بہت اہم بات کہوں گا کہ باپ کی سختیاں برداشت کرنے کی عادت ڈالو تاکہ زمانے کی سختیاں برداشت کرسکو۔
"آج ملک کو پڑھے لکھے باشعور نوجوانوں کی قابلیت،صلاحیت ،جوش اورجذبے کی اشد ضرورت ہے۔ملک کے بگڑتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر آپ سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ آپ لوگ ملک و قوم کا سرمایہ ہیں۔ قائداعظم نے نوجوانوں کو ملک کا معمار کہا تھا ،جب معمار ہی ہمت ہار جائیں گے تو ملک کی باگ ڈور کون سنبھالے گا نوجوان سیاست کے میدان میں اتریں اور غلط روش کو بدلیں۔اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں کیونکہ حق کا راستہ ہی صحیح راستہ ہے۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو امن ومحبت کا گہوارہ بنادے۔ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کردے تاکہ کوئی اپنی مٹی اپنی شناخت کو چھوڑ کرغیروں کی سرزمین پر جانے کا نہ سوچے""
انشاء اللہ سر ایسا ہی ہوگا سب بچوں نے ایک جذبے کے ساتھ بلند آواز میں کہا۔





































