
عرشمہ طارق
سردیوں کی اندھیری رات تھی ہر طرف خاموشی کا راج تھاچاند بھی کبھی کبھاربدلیوں کی اوٹ سے جھانک لیتا یا کسی آوارہ کتے کے بھونکنے کی آواز
آجاتی ایسے میں ایک گھر کا دروازہ آہستگی سے کھلا کوئی چادر میں لپٹا ہوا ہاتھ میں کچھ سامان اور ایک بیگ لئے باہر آیا دائیں بائیں محتاط انداز میں نظر دوڑائی اور ہلکے سے دروازہ بند کرکے تیز تیز قدموں سے سڑک کی طرف جانے والے راستے پر آگیا وہاں پہلے سے کوئی اس کا انتظار کررہا تھا اس نے دیکھتے ہی پوچھا"کسی کو شک تو نہیں ہوا سب چیزیں احتیاط سے رکھ لیں کچھ رہ تو نہیں گیا ؟"یہ کہہ کر سامان اپنے ہاتھوں میں تھام لیا ؟"ہاں رکھ لیں لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے"لرزتی آواز میں کہا گیا "گھبراؤ نہیں مجھ پر بھروسہ رکھو۔ اب جلدی یہاں سے نکلو ہمیں اسٹیشن تک جانا ہے
"یہ کہہ سڑک سے تھوڑا فاصلہ رکھ کر تیز قدموں سے چلنا شروع کردیا " ہم کوئی رکشہ یا ٹیکسی کر لیتے ہیں کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعدپھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ بمشکل کہا گیا "بے وقوف مت بنو ہم پر شک ہوجائے گا ہمت سے کام لو بس تھوڑا ہی فاصلہ رہ گیا ہےگاڑی تین بجے تک آئے گی ہم اسوقت تک پہنچ جائیں گے۔ یہ لو پانی پیو"اسی وقت ایک موٹر سائیکل سوار انہیں بغور دیکھتا ہوا پاس سے گزرا اور فوراً پلٹ کر واپس آیا وہ ایک ادھیڑ عمر کا آدمی تھا گرجدار آواز میں بولا" کون ہو تم دونوں اورکیا چرا کر بھاگ رہے ہو جان کی سلامتی چاہتے ہو تو سچ سچ بتادو "یہ کہہ کر اس نے پستول نکال لی اور لڑکی کے سر پر رکھ دی "ہم چورنہیں ہیں اور اپنی مرضی سے گھر سے نکلے ہیں،"لڑکی نے کپکپاتے ہوئے کہا اور اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے اس شخص نے ساتھ کھڑے ہوئے لڑکے کو زور دار تھپڑ رسید کیا اور کہا "یہ سامان میرے حوالے کرو اور یہاں سے نو دو گیارہ ہو جاؤ پلٹ کر دیکھا تو گولیوں سے چھلنی کردوں گااب پستول کارخ لڑکےکی طرف تھا لڑکے نے اپنی جان بچانے کے لئے سامان اس شخص کے حوالے کیا اور بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی۔ "ارے مجھے چھوڑ کر کہاں جارہے ہو۔"لڑکی اس کے پیچھے لپکی لیکن اتنی دیر میں لڑکا کافی دور جا چکا تھا۔
"دیکھ لی اس لڑکے کی اصلیت جو بیچ راستے میں تمہیں چھو ڑ کر اپنی جان بچاکر بھاگ کھڑا ہوا تم اس کے بھروسے پرماں باپ کی عزت داؤ پر لگا کر نکلی تھیں"لڑکی کی آنکھوں میں خوف اور حیرت کےملے جلے تاثرات تھے اس شخص نے بتایا"میں ایک ریٹائرڈ پولیس آفیسر ہوں اور تم دونوں کو دیکھ کر پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ کیا ماجرا ہے میں چاہتا تو اس لڑکے کو پولیس کے حوالے کردیتا لیکن اس طرح بات پھیل جاتی اور تم اس کو مظلوم سمجھتی رہتیں اب مجھے اپنے گھر کا پتہ بتاؤ تاکہ بحفاظت تمہیں چھوڑآؤ ں۔
گلی کے کونے پر پہنچ کر اس شخص نے کہاجہاں تک میرا اندازہ ہے کسی کو تمہاری غیرموجودگی کا پتہ نہیں چلا کیونکہ ابھی تک اندھیرا اور خاموشی ہے جس آہستگی سے آئی تھیں، اسی طرح جلدی سے واپس چلی جاؤ۔ تم ابھی نادان ہو آئندہ کبھی کسی کی باتوں میں آکر ایسی غلطی مت کرنا میں بھی بیٹیوں والا ہوں اور مجھے پتہ ہے کہ بیٹیوں کی عزت پر حرف آجائے تو ماں باپ جیتے جی مر جاتے ہیں یقیناً تمہارے ماں باپ کی کوئی نیکی تمہارے آگے آئی ہے جو آج تم غلط ہاتھوں میں جانے سے بچ گئیں۔ اب جاؤ اور گھر جاکر شکرانے کے نفل ادا کرو خدا حافظ، یہ کہہ کر وہ شخص تیزی سے اس جگہ سے نکل گیا۔





































