
عرشمہ طارق
"یارندیم تمہارے بھائی کے ایڈمیشن کا کیا ہوا"مسلسل دو دفعہ پوچھنے پربھی ندیم نے جواب نہیں دیاتورافع نے چڑ کر اس کے کانوں سے ہینڈ فری نکال
دیے"یہ کیا بدتمیزی ہے"ندیم نے رافع کو گھورا"جناب بدتمیزی بلکہ بد تہذیبی یہ ہے جوآپ کررہے ہیں ، سب ساتھ بیٹھےہیں اوریہ موبائل میں مگن ہیں یہ محفل کےآداب کےخلاف ہے"رافع نے حسبِ عادت اخلاقیات کا درس دیا"اورشعیب تم بھی دائیں ہاتھ سے کھاؤ"تنویرنے بھی شعیب کوٹوکا"تم میسج پڑھنے اورجواب دینےمیں اسقدرمِحوہوکہ تمہیں اندازہ ہی نہیں ہورہاکہ بائیں ہاتھ سے کھارہےہو"یارایک توہم تم دونوں مولویوں سےبہت تنگ ہیں تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سےجانے نہیں دیتے۔دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور تم دونوں دائیں بائیں کےچکر میں پڑے رہتے ہو"ندیم نے رافع اور تنویر کو چڑانےوالے اندازمیں کہا تودونوں نےتیزنظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
ہم چاروں کا یونیورسٹی میں آخری سال تھااور اس وقت فارغ پیریڈ میں کینٹین میں بیٹھےاپنے پسندیدہ سموسوں اور برگر سے لطف اندوز ہورہے تھے اکثر ہماری کسی نہ کسی موضوع پر تکرارہو جاتی تھی۔
ابھی وہ دونوں جواب دینے ہی والے تھے کہ شعیب کا موبائل پھر بجنے لگا،اس نےایس ایم ایس پڑھااورفوراًہی جواب دے کررافع اورتنویر کی طرف متوجہ ہوا"ہاں تو میں کیا کہہ رہا تھا"اس نے موبائل جیب میں رکھتےہوئے کہا"تمہیں جو کہنا تھا کہہ دیا اب میرا جواب سنو"تنویر نےسنجیدگی سے کہا"پہلی بات تو یہ کہ سوچ سمجھ کر بات کیا کرویہ نہیں کہ جومنہ میں آیا کہہ دیا،یہ دین کامعاملہ ہے اوردائیں بائیں کا طریقہ ہمارے نبیٌ کی سنت ہے"۔"سوری یار میرے منہ سےغلطی سےنکل گیا تھا"شعیب نے نادم ہوکر اعتراف کیا۔ رافع بھی کچھ کہنے کے لئے بےتاب ہورہا تھااسلئے فورآ بولا"تم اور ندیم جو ہروقت موبائل میں لگے رہتےہو۔ اس سے تمہاری پڑھائی کا کتنا حرج ہوتا ہے،وقت برباد ہوتا ہے،کانوں میں ہینڈ فری لگاکے ہرچیز سےبےخبرہوجاتےہواتنی اتنی دیر ایس ایم ایس کرتے رہتے ہو پتہ بھی ہے اس کے کتنے مضر اثرات ہیں؟
جدید سائنسی تحقیق کےمطابق اس طرح کرنےسےکلائی اورکندھوں میں تکلیف ہوجاتی ہے،بینائی کمزورہوجاتی ہے،سماعت
پر اثرپڑتا ہے،ذہنی اورجسمانی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں،دل کے لئے خطرناک ہےاورتو اورریڑھ کی ہڈی بھی اثرانداز ہوتی ہے"۔"ہائیں! یہ ریڑھ کی ہڈی کا اس سے کیا تعلق ؟شعیب نے حیرت سے آنکھیں گھمائیں۔
"بھائی جب موبائل کی گھنٹی بجتی ہے تو ایک جھٹکا سا محسوس ہوتا ہےجس طرح تمہیں حیرت کا جھٹکا لگا ہے"رافع نے مسکرا کر اسے چھیڑا "اس جھٹکے کا اثر ریڑھ کی ہڈی پر پڑتا ہے"۔
"2007ء میں امریکی سائنسدان ڈیورا ڈیوس کی ریسرچ کے مطابق موبائل فون کا زیادہ استعمال دماغ کےکینسر کا سبب بنتا ہے اس سائنسدان نے خبردار کیا کہ آئندہ سالوں میں موبائل فون کے بےجا استعمال سے لوگوں کی صحت کی تباہی دیکھی جائیگی۔"
تنویرنے اپنا برگرختم کرکے ہاتھ صاف کئےاورفکر مندی سےکہا کہ"والدین اپنےبچوں کے ہاتھوں میں مہنگے مہنگے موبائل دے کر بہت فخر محسوس کرتے ہیں جبکہ انہیں سمجھنا چاہیےکہ اس سےنوجوان نسل میں بےراہ روی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ جووقت پہلے گھروالےایک دوسرے کے ساتھ گزارتے تھےاب وہ وقت موبائلوں کی نظرہوجاتا ہے۔رشتوں میں فاصلے پیدا ہوگئے ہیں اس لئے میرےبھائیوں ابھی وقت ہے سنبھل جاؤ اپنے آپ کو بھی اس کے تباہ کن اثرات سے بچاؤ اور اپنے ارد گرد رہنے والے اپنے پیاروں کو بھی، آئی بات سمجھ میں"
"چلو یار اس موضوع پر مزید باتیں بعد میں کریں گے ابھی سر احمد کی کلاس کا وقت ہورہا ہے"رافع کے یاد دلانے پر سب کتابیں سمیٹ کر مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔





































