
نگہت پروین
ڈھال کا مطلب ہے جو چیز آپ کو ہرطرف سےاور ہر طرح سے بچائےیعنی کوئی حملہ ہو رہا ہے تو ڈھال آپ کو بچائےگی ، یعنی بچانے والی
چیز کو ڈھال کہتے ہیں
اب روزہ ڈھال ہے کیسے؟
دراصل روزہ میں ہر برائی ، ہرگناہ سےبچاتا ہےکیونکہ روزہ صرف کھاناپیناہی بند کرنا نہیں بلکہ ہمارے پورے جسم کےاعضاء کا روزہ ہوتا ہے
زبان انسان کو جنت یا دوزخ میں لےجانے کی ذمہ داری ہے۔اسی زبان سے ہم چغلی برائی ،غیبت اورطعنے دیتے ہیں۔ اب جب زبان کا روزہ ہو گیا تو ساری برائیاں نہیں ہوں گی۔ روزہ ان برائیوں کو نہ کرنے کے لئے ڈھال بن گیا
" آنکھ دنیا کی اچھائیوں اور برائیوں کو دکھانے کی ذمہ دارہے، اس سے فحش فلمیں، تصویریں، ٹی وی میں یاموبائل میں یا بے حیائی جیسے کام کرتے ہیں مگرجب آنکھ کا روزہ ہو گیا تو ان برائیوں سے بھی بچ گئے ۔روزہ اس طرح ڈھال ہوگیا۔
کان سے ہم موسیقی ، گانے بجانے سنتے ہیں دوسروں سے جھوٹ بھی سنتے ہیں اور ایک دوسرے کےخلاف باتیں بھی بنابنا کرسنتے ہیں مگر اب تو کان کا روزہ ہے یہ برائیاں ہم سے دور ہو گئیں کیونکہ روزہ ڈھال ہے۔
ہاتھ کا استعمال لڑائی جھگڑا،مار کٹائی، توڑ پھوڑ کے لئے ہوتا ہے مگر روزے کی حالت میں یہ کام جائز نہیں ہم نہیں کریں گے تو یہ ہاتھ کے لئے روزہ ڈھال بن گیا۔
پیرہمیں اچھی اور بری جگہ لے جانےکے ذمہ دار ہیں۔ انہیں پیروں سے چل کرسینما جانا، موسیقی کی محفلوں میں جانا، ناچ گانے کی محفلوں میں جانا لیکن اب روزہ ہے تو یہی پیرمسجد میں باجماعت نماز کے لیے جانا، درس کی محفل میں جانا، ذکر اذکار سیکھنے جانا اس طرح روزہ ڈھال بن گیا۔
رمضان کے مہینے میں قرآن کا نزول ہوا۔ رمضان اور قرآن کے مابین تعلق روزے دار کو اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اس سے ہدایت حاصل کریں قرآن کا تعارف اور اس کو سیکھنا روزہ ڈھال بن جاتا ہے۔روزہ رکھنے سے انسان بہت سی بیماریوں سے بھی بچاتا ہے۔ روزے دار کو اللہ سے قربت محسوس ہوتی ہے اور جب وہ غلط راستے پر چلنے لگتا ہے تو اللہ کی یاد اسے سیدھی راہ پر لے آتی ہے۔ روزے کا اصل مقصد تقویٰ حاصل کرنا ہے اور تقوی کا مطلب بچنہ اور پرہیز کرنا ہے تو جب ہم روزہ رکھ کر اپنے اعضاء پر کنٹرول کر کے تقویٰ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو روزہ ڈھال بن جاتا ہے۔ان میں سب سے اہم نفس کا کنٹرول ہے اور جس نے اس پر قابو پا لیا بس وہ فلاح پا گیا۔
حضرت موسیٰ نے ایک دفعہ اللہ تعالی سے پوچھا کہ میرے علاوہ آپ سے قریب کوئی ہے تو اللہ تعالی نے جواب دیا کہ آخری وقت میں ایک امت آئے گی، وہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوگی ۔ اس امت کو ایک مہینہ ایسا ملے گا جس میں وہ بھوکے پیٹ اور پیاسی زبان سے جب وہ افطار کریں گے تو میں ان کے قریب ہوں گا اورموسیٰ تیرے اورمیرے درمیان سترپردے کا فاصلہ ہے لیکن جب وہ افطار کریں گےتو میرے اور ان کے درمیان ایک پردے کا بھی فاصلہ نہ ہوگا اوراس وقت وہ امت جو بھی دعا مانگی کی میں فورا قبول فرما ؤں گا۔ غرض یہ کہ روزہ ایک ڈھال ہے جو جسمانی معاشرتی برائیوں سے بچا کر پاکیزگی عطا کرتا ہے۔





































