
نگہت پروین
کیا عورتوں کا کام بس بچے پالنا اور چولہا جھوکنا ہے؟ ہم اپنی نصف آبادی کو گھروں میں بند رکھ کر بھلا کیسے ترقی کر سکتے ہیں ؟
کیا عجب بحث ہے۔عورت کا مقام اور عورت کے بغیر ترقی ہو سکتی ہےیا نہیں تو بحیثیت مسلمان پہلی بات ہمارا دین عورت کو ہر حیثیت یعنی بیوی ،بہن ،بیٹی اور ماں کے عزت کا مقام دیتا ہے اور اس کا کام خاندان کو مضبوط بنانے کے ساتھ افراد کے درمیان محبت ،تعلقات میں استواری اور درجہ بدرجہ احترام ہے کا فروغ ہے ۔ گھریلو کام تو عورت کی قدر وقیمت بڑھاتے ہیں، رہی یہ بات کےعورت اگر گھر سنبھال رہی ہے تو معاشرہ کیسے ترقی کرے گا ۔
عورت کی گود میں پلنے والی نسل معاشرے کی ترقی کا ضامن ہے۔اس کے علاوہ عورت گھرمیں رہ کر بھی بہت سارے امورانجام دے کرمثلا ٹیوشن پڑھا کر ،اخباراور رسائل میں اپنی تحریروں کےذریعے، کھانا پکا کر دفاترمیں ان کی ترسیل ،اسکول کی کینٹین میں ریفریشمنٹ کی چیزوں کی سپلائی کرکے،لڑکیوں کےلئے امورخانہ داری کی کلاسیں ارینج کرکے،سلائی کڑھائی کرکے،دینی تعلیمات دےکربھی اپنے فرائض منصبی سنبھالتے ہوئےمعاشرے میں ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ غرض عورت گھر میں رہ کر بھی معاشرے اور خاندان کا مددگار ہے ۔
مغرب نےعورت کے متعلق اپنےمعیارات قائم کیے ہیں۔ مغربی معاشرے میں عورت کو تحفظ حاصل نہیں۔ خاندانی نظام موجود نہیں ،عورت کو گھر سے ہرحال میں نکال کر مختلف اداروں میں بےانتہا محنت کروا کرشوپیس کی حیثیت دی جاتی ہے۔ احترام ،عزت اور قدر کا کوئی معیارعورت کے لئے نہیں ۔ اولاد ماں کو وہ حیثیت ہی نہیں دیتی جو اس کا حق ہے اورنہ والدین مغربی معاشرے میں تربیت کے ذمہ دار بنتے ہیں۔
اگر ہم اسلام اور مغرب کا تقابل کریں توپہلی خصوصیت سامنے آتی ہےعدل اورانصاف قرآن کریم میں سورہ نساءمیں عورتوں کےحقوق بتائےگئےہیں۔ شادی کا بندھن عورت کو تحفظ اور باعزت مقام دیتا ہے۔ اسلام نے عورت کو معاشی ،معاشرتی ،سیاسی سارے حقوق دیے ہیں اور اولاد کی تربیت کے لئے گھر میں دادا دادی ،نانا نانی جیسے محترم رشتے بھی موجود ہوتے ہیں مگر مغرب میں ایسا کوئی تصور نہیں عورت کا جنسی استحصال کرکےاس کو زینت اورعریانیت کا سمبل بنا دیا گیا ہے۔ مغرب کی عورت اعصابی تناؤ کا شکارہوکرشمع محفل بنی ہوئی ہے۔اس کے برعکس اسلامی معاشرے میں مسلم عورت شوہر پرست ،باپردہ اپنی بہترین تربیت کے نتیجے میں بہترین گھر داری کرنے والی شوہر کی محبوبہ ہے۔ اب مغرب کی عورت اسلام کی طرف راغب ہو رہی ہے۔اس لیے کہ وہ تھک گئی محنت کر کےبھی اورعزت نفس کھو کربھی۔
مغربی عورت اسلام کے خاندانی نظام سےمتاثر ہوئی اورپرسکون زندگی ،والدین کی عزت ،خاندانی رشتوں کی مضبوطی اس کو تحفظ کا حصار لگتی ہے تو دین اسلام کے خصوصیات اس کی افادیت کسی بھی معاشرے میں عورت کو باعزت مقام اور معاشرے میں ترقی میں مددگار و معاون بناتا ہے.





































