
نگہت پروین
جمعہ کے دن مسجد میں درس ہوتاتھا میں وہاں جاتی تھی اتنی اچھی محفل تھی کہ کسی جمعہ کو ناغہ کا نہ سوچا ۔خواتین اتنی اچھی طرح ملتیں ۔ دعاؤں
سے استقبال اورالوداع ہوتا پھرپتا چلا ان خواتین کا تعلق جماعت اسلامی سےہےاورہر جمعہ کا درس ان کےشیڈول کا حصہ ہے۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ بچے بھی ساتھ ہوتےہیں مگر وہ درس کے درمیان اگر تنگ کریں تو دوسرے ایسے سنبھالتےہیں جیسے ان کے اپنے بچے ہیں اور دروس میں شرکت نےیہ بھی سمجھایا کہ یہ جماعت صرف دینی ہی نہیں دنیا کی کامیابیوں اور اپنے حصے کے کام کا پوراپوراادراک رکھتی ہے ۔ایک دوسرے کا خیال کبھی کوئی کمی یا پریشانی یا کوئی مسئلہ درپیش ہواتوبہنیں ایسےاگے بڑھیں جیسےسگی بہن یا بہترین دوست ہوں مجھےان کےدرمیان اپنا آپ محفوظ اورقابل عزت محسوس ہوا۔
اس جماعت میں کیا بچے،کیاجوان ، کیا بوڑھےسب ایک دوسرےکےدوست ہیں سب کےمسئلےیا پریشانیاں سانجھی ہیں۔کوئی کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا اگر ایک مصروف ہےتو دوسری بہن نے آگے پڑھ کراس کے کام کو سنبھال لیا۔ گویا ایک دوسرے کے بازوہیں محبت بےلوث ملی ، پیار بے غرض ملا ، سوچتی ہوں اللہ نےاحسان کیا ہے۔ اس اجتماعیت سےجوڑ کر ۔۔ مختلف پروگراموں میں شرکت کے لیے ہر طرح سےمدد کرنا آنےجانے کے لیے گاڑی مہیا کرنا ان معاملات میں ایثاراور قربانی دیکھنے کوملتی ہے۔
جماعت اسلامی میری تربیت کے لیےسلیبس تیارکرتی ہےاس کے پیچھے کتنی محنت اور مشقت کےساتھ پیاراور ہمدردی ہےکیونکہ مجھے کئی رکوعات اور آیات صرف اس سلیبس کی تیاری کےنتیجے میں یاد ہوگئیں اورقرآن کوسمجھنے کا موقع ملا۔ اس سلیبس کی تیاری ہرمہینے ہمارے کرنے کے لیے ہمارے اکابرین کی توجہ لگن اورمحنت سےاس کے لیے کام کرتے ہیں اس کا اندازہ اپنی روٹین پرنظرڈال کرہوتا ہےکہ ڈائری میں لکھنا اوراجتماع کارکنان میں رپورٹ دینا ہے تو اپنی عبادات ،اپنے روزمرہ کے کام ،سب میں ہم اہنگی آگئی ہے۔ بہت ساری دعائیں اورقرآن کےتراجم سے اپنےاعمال کو چیک کرنا آگیا ۔
میرے ساتھی اتنےبے لوث محبت کرنے والے،میری نشرواشاعت کی ناظمہ کی بات میرے دل میں گھرکرگئی ۔میں نےکہا کہ میں نےاتنا اوراتنا اورایسے اور ایسے لکھا مگر چھپا نہیں تو کہا کہ فکر نہ کریں قلم کی طاقت اس کا حق ادا کر کے اس قلم کی گواہی اللہ نے دیکھ لی بس اب چھپے یا نہ چھپے کتنی زبردست بات سمجھا دی دل میں سکون اگیا ایسے دوست تو قسمت والوں کو ملتے ہیں اورمیں اس معاملے میں بہت خوش قسمت ہوں۔
میری قیادت کے افراد اللہ ان کی حفاظت فرمائے،ہر فرد کرپشن سے پاک ہے سرکاری اخراجات پراپنےعیش وآرام کو کبھی بھی انہیں استعمال کیا کیونکہ اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس رہتا ہے۔ میری قیادت عوام کےہر مشکل ترین مسئلے کےلیےنہ دن دیکھیں، نہ رات ، نہ سردی نہ گرمی، نہ بارش نہ طوفان ہردم چاک و چوبند وہ بھی فیملی والےہیں مگر قربان جائیے کہ اللہ کے احکامات اورجس جس مرتبے پر ہیں اس کے جواب دہی کے احساس نے انہیں قوی اور بہادر بنا دیا ہے ۔ سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں ۔ سب کے درمیان رہتے ہیں ۔ ایسا ہرگز نہیں کہ کوئی بات جماعت کےامیر سے کہنی ہوتو ٹائم لیا جائے گا یا درمیان میں لوگوں کی سفارش ہوگی۔ چاہےوہ ناظم ہی کیوں نہ ہو جماعت کا نظام ہی ایسا ہےکہ ہر فردجب چاہے اپنے امیر یا ناظم سےسہولت سے بات کرسکتا ہے کیونکہ وہ اونچےمحلوں میں رہنے کے بجائے عوام کے درمیان پائے جاتے ہیں۔
جماعت اسلامی کی دعوت اتنی واضح ،مکمل ، جامع اور باعمل ہے جس میں اللہ کی بادشاہت کا اقرار اورآخرت کی یقینی کا احساس نمایاں ہے، جس میں والدین کی خدمت کو بھی اورخدمت انسانیت کوشعاربنانے کی ہدایت ملتی ہے۔ اللہ کےبندے بنواورمنافقت سے بازرہو۔ زمام کارصالحین کےہاتھ میں دو پوری زندگی اللہ کی بندگی کا نمونہ بنو۔
کچی بستیوں میں جا کرقرآن پڑھانا، بڑاانوکھا تجربہ تھا،غربت میں بیٹھ کر غربت کا اندازہ ہوا۔ سلام ہے جماعت کوکہ قران کی تعلیم کےذریعے سے ہم لوگوں کوایک کردیا جماعت ہر سطح پر دین کا کام کررہی ہے۔ ساتھ میں دنیا سنوارنےکی تربیت بھی بیٹھک اسکول کی تعلیمی مصروفیات۔۔ خواتین کے لیے پروگرامز، تعلیم میں بالغان ، یوتھ کے پروگرام ،اطفال کے پروگرام ، جیلوں میں جا کرخواتین کے لیےقران کے دروس اور کمپیوٹر کورسز کروانا اورزندگی گزارنے کےلیے اچھی باتیں ان کوسکھائی جاتی ہیں ۔
جماعت اسلامی کا ادارہ الخدمت بہت زبردست کام کررہا ہے، الخدمت ہاسپٹل علاج کی سہولتیں مہیا کرتے ہیں ۔ یہ زندگی کے ہرمیدان میں مصروف عمل ہے۔
جماعت کےافراد صرف اپنی ہی نہیں بلکہ اپنےخاندانوں اپنے پڑوسیوں اپنے دوستوں اپنےرشتہ داروں سب میں یکجہتی اوردین کےساتھ دینے کا ایسا انمول نمونہ پیش کرتی ہےجس کی مثال نہیں ملتی۔ اتنا لکھنے پربھی میں شاید جماعت کی صحیح ترجمانی نہ کر سکوں مگر میری زندگی بدل گئی،کیونکہ میری جماعت نےمجھےسکھا دیا ہےکہ اگراللہ کےسامنے جواب دہی کا احساس ہردم ساتھ ہوگا توامر بالمعروف اورنہی عن المنکر کا کام آسان ہوجائےگا۔





































