
نگہت پر وین
ٹمی کے قہقہےحراکا پیچھا کرتے رہےجب تک وہ کالج کی لابی سےنکل نہ گئی۔ حرا ذہنی طور پرسلجھی ہوئی نرم مزاج ،مذہبی رحجان والی لڑکی تھی
اورکالج میں اس کا آج پہلا دن تھا۔وہ اپنے عبائے میں نقاب کیےہوئے ٹمی سے پوچھنے لگی کہ فرسٹ ایئر کی کلاس کون سےکمرے میں ہوگی ۔ ٹمی ایک الٹراماڈرن ،بے باک پینٹ شرٹ پہنے ہوئے دوپٹے سے آزاد بوائے کٹ بالوں کےساتھ حراکو عبائے اورنقاب میں ملبوس دیکھتی رہ گئی، کہنے لگی کہ یہ تم نےکیا پہنا ہے، کیا تمہیں گرمی نہیں لگ رہی ۔ تم تو بالکل بونگی لگ رہی ہو۔ اتنے سارے کپڑے کوتم نے ضائع کر دیا۔ اس میں تو زبردست میکسی بن جاتی اورحرا کوکلاس بتانے کی بجائے اس کا مذاق اڑایااور قہقہ لگاتی رہی حرا ٹیمی کو دیکھتی رہ گئی کہ اس نے میرے پردے کا کتنا مذاق بنایا اورکلاس بھی نہیں بتائی ۔ اس سے مزید بات کرنا فضول ہے ۔ وہ آفس میں گئی ۔ ان سے پوچھ کر اپنی کلاس میں چلی گئی ۔
حرا کوکلاس میں دو بہنیں حنا اورثناء ملیں وہ دونوں حجاب میں تھیں ۔ حرا کےسلام کرنےپربڑے پرتپاک انداز میں ملیں اورحرا کو اپنے کلاس میں خوش آمدید کہا ۔ آپس میں تعارف ہواحنا اورثناء نےحرا سےکہا کہ آپ اپنے عبائےمیں نقاب کیے ہوئےبڑی پیاری اور مقدس سی لگیں ۔ اسی لیے ہم نےآپ کواپنا دوست بنا لیا۔ حرا نے کہا کہ بھائی جب ہم دوست بن گئے ہیں توآپ جناب کا تکلف نہیں ہوناچاہیےحرا نے کہا کہ تم دونوں باحجاب ہو اس میں بھی پاکیزگی کا پہلوہے اوریہ حجاب حیا کا پرتو ہے۔ حجاب مسلمان عورت کا شعار ہے۔ عصمت اور تحفظ کا نشان ہے۔ جبھی توتم نے اس کو اپنایا ہے۔ اتنے میں بیل بجی اورکلاس میں انگلش کا پیریڈ شروع ہو گیا اوران کی باتیں یہیں ختم ہوگئیں
*ایک دن کامن روم میں تینوں دوستیں گرم سموسوں اورچائے سےلطف اندوز ہو رہی تھیں کہ ٹمی وہاں آگئی۔ وہ سلیولیس قمیض جس کا گلا اتنا گہرا تھا کہ شرم سےسرجھک گیا۔ دوپٹے سےآزاد چست پینٹ جس میں اس کی ساخت نظرآرہی تھی ۔ اونچی ہیل پہنے ہوئے وہ اپنے اپ کوسپرسمجھ رہی تھی ،کہنے لگی کہ تم تینوں کے پاس اسلامی باتوں کے سوا کوئی موضوع بات کرنےکونہیں ہے۔آرے موبائل میں یوٹیوب دیکھو اس اداکاروں کی فیملی ڈانس ڈرامےہوتے ہیں فیس بک میں، ٹیوٹراستعمال کرو تو دنیا کی فلمیں فیشن اوربہت کچھ دیکھنے کو ملے گا۔ موبائل سےچیٹنگ کرکےمیرے تودو بوائے فرینڈز ہیں۔ حرانے کہا کہ دوست ہماری پڑھائی اتنی مشکل ہےکہ ان سب کا وقت نہیں ملتا۔
*ایک دن چھٹی پرجب ٹمی اپنی گاڑی کا انتظارکر رہی تھی تو تین چارلڑکے آئےاوراس کےلباس پراتنی بے ہودہ باتیں کیں۔ اس کے کٹے ہوئے بال ، اس کے میک اپ پر اتنی گندی زبان استعمال کی کہ وہ دل میں بہت زیادہ شرمندہ ہورہی تھی ۔ اتنے میں ایک لڑکا قریب آیااورکہنے لگا تم جیسی لڑکیاں تو لڑکوں کے ساتھ ٹائم پاس کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ چلو یارآج ہم حاضرہیں تمہارے لیے۔ یہ سن کر تو اس کے ہواس اڑگئے۔ وہ بہت پریشان ہو رہی تھی اورسوچ رہی تھی کہ میرااپنا قصورہے کہ میں اس حلیے میں ہوں جبھی تو ان لڑکوں کی اتنی ہمت ہوئی ۔ وہ ان کی گندی نگاہیں اپنےجسم میں چپھتی ہوہی محسوس کر رہی تھی ۔ ان کی آپس میں گفتگو میں وہ اپنے لیے غلیظ الفاظ سن رہی تھی۔ اسےآج اپنا حرا کہ عبائے کا مذاق اڑانا یاد آرہا تھا کاش ۔۔ میں آج پورے لباس میں ہوتی یا عبائے میں تو ان وحشیوں کی ہوس زدہ نگاہوں سے بچ جاتی ۔
*اگلے دن لابی میں تینوں دوستوں کو بیٹھا دیکھ کروہ سیدھی ان کےپاس چلی آئی ،اس کی آنکھوں میں تیرتی ہوئی نمی تینوں کونظرآرہی تھی اوراس کا لباس دیکھ کر تینوں حیران ہورہی تھیں کہ یہ کایا کیسے پلٹ گئی ۔ وہ تینوں سےمعافی مانگ رہی تھی۔اس نے کہا کہ میں نے حرا کے عبائے اورتم دونوں کےحجاب کا مذاق بنایا اورکل میری ذات مذاق بن گئی۔ اس نے کل کی ساری بات بتا کرکہا کہ میں الٹراماڈرن پرغرور اورتکبر میں مبتلا تھی۔ میرا حلیہ اسلام کے خلاف تھا کل کی صورتحال کے بعد جو میرے ساتھ پیش آئی مجھے حجاب اور ابا کی اہمیت پتہ چلی تم لوگ مجھےمعاف کردواوراپنا دوست بنا لوحنا بولی کہ ہمیں خوشی ہےکہ اللہ نے تم کو ہدایت دی تمہارے عزت رکھی اور آج تم دیکھو کیسی پیاری لگ رہی ہو۔
*اسے تحفے میں عبایا دیا جو وہ کب سے اپنے بیگ میں ٹمی کےلیے رکھے ہوئے تھی اور وہ ٹمی کے لیےدعا بھی کرتی تھی کہ یہ بے حیائی اسے باحجاب بنا دے ثناء نےکہا کہ ٹمی فطری طور پر تم بہت اچھی لڑکی ہو مگر معاشرے کے بگاڑ کا شکار ہو گئی تھی مگر اللہ بھی اس بندے کا ساتھ دیتا ہے جس میں ذرہ برابر بھی نیکی کی رمق ہوتی ہے اج سے ہم چاروں دوست سورہ نور کو تفسیر سے پڑھ کر ڈسکشن کریں گے جو خصوصی عورتوں کے بارے میں احکامات پر مبنی ہے ۔۔انشاءاللہ





































