
نگہت پروین
ایک ادمی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آیا اوربتایا کہ میں اپنی بیٹی کولے کر جا رہا تھا کہ زندہ دفن
کردوں گا اوروہ راستے میں بار بار پیارسے پوچھتی بابامجھے کہاں لےجا رہے ہیں مگر میں چپ رہا اور اسے زندہ دفن کر دیا۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی داڑھی آنسوؤں سےترہوگئی،جہالت کا دورتھا مگرآج تو ترقی یافتہ دور ہے۔میری بہن عافیہ گزشتہ 20 برس سے زندہ درگورہے۔ آج نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تو موجود نہیں مگران کی امت تو موجود ہےمگر کیا کسی کواس کی فکر ہے،کسی کواس کا خیال ہےکوئی اس کے لیے روتا ہے ۔ کوئی اس کی رہائی کا منصوبہ بناتا ہے ؟
ستاون مسلم ممالک ہیں۔کیاکسی نےکوشش کی کہ ایک مسلم بیٹی اوربہن بغیر کسی جرم کے قید میں ہےوہ بھی 20 سال سے کسی ملک یاسربراہ نے کوشش کی؟ کیا مسلمانوں کا رویہ یہی ہونا چاہیے تھا؟
عافیہ کے ساتھ جو بہیمانہ سلوک وہاں ہوتا ہے،وہ سب کےعلم میں ہےان کی ماں کا انتقال ہوگیا مگر انہیں نہیں پتا۔ وہ آج بھی اسی امید میں ہے کہ اس کی ماں اس کے لیے دعا کرتی ہوگی۔ ان کا بیٹا تین سال کا ان کی گرفتاری کےدن سے آج تک غائب ہے۔ معلوم نہیں کس حال میں ہے؟یہ حالات اگرکسی بہن کےہوں تو دل سکون میں ہو سکتا ہے۔
خدارااٹھیے مسلم ممالک سےدرخواست اورالتجا ہےکہ ایک مسلم بیٹی کی رہائی کے لیے ہراس محاذ پر جائیےجہاں سے ہماری بہن عافیہ واپس آسکے، کوئی وجہ نہیں کہ تمام مسلمان اپنی بہن کے لیے اواز اٹھائیں اوروہ نہ سنی جائے ۔ بس شرط یہ ہے کہ اس سلسلے میں تمام پاکستانی سیسہ پلائی دیواربن جائیں اورعافیہ بہن کے لیے سر توڑ جدوجہد کریں۔ اللہ عافیہ بہن کا حامی و ناصرہو۔
آج ہم خاموش رہےتو بیٹیاں توسب کی سانجھی ہوتی ہیں،بس وہی درد وہی تکلیف محسوس کریں جیسےاپنی سگی بیٹی کے لیے پاکستان میں قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی سب موجود ہیں ۔کہاں ان میں آواز اٹھانے والے ۔ پارلیمنٹ میں سینیٹ مشتاق احمد صاحب وہ واحد شخص ہیں جنہوں نے عافیہ کے لیے نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ امریکی سینیٹرسےمل کر ملاقات کے مراحل جوکہ ناممکنات میں سےتھےطےکیے۔نہ صرف یہ بلکہ یہ کوشش اورمحنت کی بلکہ عافیہ کی بہن فوزیہ کولےکرامریکہ ملاقات کیلئے بھی گئے اور اب ان ہی کی کوششوں محنتوں سے 23 ستمبر کا دن عافیہ بہن کے لیے مقرر کیا گیا ہےتاکہ اس دن دعاؤں کے ساتھ عملی اقدامات پرزور دیا جا سکے۔
عافیہ کے لیےتاجروں،صنعتکاروں،اداکاروں قومی اورصوبائی اسمبلی کےافراد،لاکھوں بہن ،بھائی ،باپ اور لاکھوں مائیں، بیٹیاں ہم آواز ہوجائیں ۔سینیٹر مشتاق صاحب کے ہاتھ مضبوط کریں ایک جان ہوکر جدوجہد کریں تو اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کی مدد ضرور آئے گی مگریہ مدد اسی وقت آسکتی ہے جب تمام ادارے اور حکومت حتمی فیصلہ کرے ۔





































