
نگہت پروین
لہولہوغزہ،لاشوں کے انبار،زخمیوں کی آہیں،گھر تباہ وبرباد،دواؤں کی قلت،مسائل کے انبارمگر اس گھورگھٹا میں فلسطینی عوام کا صبر،جوش اور
ہمت قابل دید ہے، ان کی نگاہیں مسلمانوں کو تلاش کررہی ہیں کہاں ہےمسلمان کہاں ہے مسلم سربراہان آج پورایورپ ایک ہوگیا ہےمگرمسلمان سربراہان مسلم ممالک ایک نہیں ہورہے اپنےاپنے مفادات کی کرسی پربراجمان ہیں ۔کیاان کو معصوم بچوں کی آہیں اورلاشیں نظرنہیں آرہیں ؟ کیا گھر کے گھراجڑے نظر نہیں آرہے؟ کیا حمیت ختم ہو گئی؟ اپنے اندر کی انسانیت کو تھپک کرسلا دیاہے؟ قرآنی ہدایت بھی یاد نہیں رہی۔ یہود و نصاریٰ کبھی تمہارے دوست نہیں ہوسکتے۔
عرب ممالک یورپ کو تیل کی ترسیل کیوں نہیں بند کرتےتمام اسلامی ممالک اسرائیلی مصنوعات کےبائیکاٹ کا اعلان کریں۔مسلم حکمرانوں خداراآنکھیں کھولو۔۔۔۔ معصوم بچوں کی آہیں آپ سے سوال کرتی ہیں۔ ہمارا کیا قصور ہے۔ اگرآپ سب مسلم حکمراں ایک ہوجاتے تواسرائیل تباہ ہو جاتامگر آپ سب اپنے اپنےعیش میں مست ہیں ۔ اپنےاپنے مفادات دیکھ رہے ہیں ۔ ماؤں کی گودوں میں ان کےمعصوم بچوں کی لاشیں یا ان کے سامنے ان کےجوانوں کی لاشیں آرہی ہیں ،ذراان کی دل کی کیفیت ایک لمحے کو محسوس توکرکےدیکھیں کلیجہ پھٹ جائے گا۔ پوراکا پورا خاندان تباہ ہوگیا، ایک بچہ بچ گیا ،اس کے الفاظ دل چیررہے ہیں ، وہ پوچھ رہا ہےکہاں ہے مسلمان؟کہاں ہےمسلم سربراہان؟کیوں نہیں ہماری مدد کوآتے؟
کیا ان کےدل پتھرکے ہوگئے ہیں، خون میں نہایا غذا صرف اللہ پرتوکل کیے جانیں لڑارہاہے۔ 57اسلامی ملکوں کی اجتماعی فوج کہاں ہے؟سارے مسلم سربراہ اپنی اپنی سیاست میں مست ہیں ،مسلمان ہونے کی حیثیت سے فلسطینیوں کےلیے امداد ، ڈاکٹرزدوائیں اورخوراک کا انتظام کرنےکی بجائے مذمتی بیانات دے رہےہیں ، اٹھ جاؤحکمرانو! اصل حاکم اللہ ہے جو بےخبر نہیں ہےمگر یہ وقت گزر گیا تو بڑا سخت حساب دینا ہو۔





































