
نگہت پروین
ہمارا ملک پاکستان لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر وجود میں آیا توجو اس کی بنیاد ہےنظام بھی تو پھر اللہ کا ہی ہونا چاہیے ۔ اللہ نے یہ دنیا بنائی ، انسان
پیدا کیے ،انسانوں کی زندگی کا مقصد اللہ کے دین کو اللہ کی زمین پر نافذ کرنا ہےاوراللہ کی نازل کردہ کتاب قرآن پاک میں سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی نے اسلامی حکومت کے لیے 18 نکات قانون بھی عطا کیے ہیں جن کےذریعے سے پورے معاشرے کی بھلائی،اداروں کی ترقی،تعلیم کا عروج،عوام کے حقوق وفرائض،خاندانی نظام کا قیام و بہتری اور اسلامی روایات کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنا سب موجود ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان کے قیام کے اتنےسال بعد بھی اسلامی حکومت قائم نہ ہوسکی ۔ ہم اس کی بنیاد اورمطلب کو پس پشت ڈال کربھول گئے جو بھی اقتدار میں آیا۔ اپنے فوائد سمیٹے اپنےخزانےبھرے اورمفاد پرستی کی اعلیٰ مثال قائم کی مگر ہوس پھر بھی نہ بھری ۔ جاتےجاتے ملک کو قرض کے بھنورمیں چھوڑ گئےجب بھی ملک میں الیکشن ہوئے وہی آزمائے ہوئے لوگوں نے اپنے اقتداراورحیثیتوں کا بےجا فائدہ اٹھایا اورعوام سے ایسے سہانے وعدے کیےکہ عوام مشکل زدہ زندگی گزارنے کے باوجود پھر جھانسےمیں آگئےکہ شاید اس دفعہ وعدے پورے ہوں گےمگر اللہ نے فرما دیا ہے کہ اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا،جس کو اپنی حالت بدلنےکا خیال نہیں ہوتا۔پھر دوبارہ عوام مایوس ہوئے اور بار بار مایوس ہوئے۔ اندھیرے نہیں چھٹے مگر اشرافیہ نے پیسوں کا کھیل کھیلا۔
عوام کوسوچنا چاہیے تھا کہ چہروں کے بدلنےسے نہیں نظام کے بدلنے سے ان کی زندگی بدلے گی ۔ اللہ کےنظام کو قائم کرنے کے لیے ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جن کے دل میں خوف خدا ہوجو خدا کے سامنےاپنے ذمہ داروں کے لیے اپنے آپ کو جواب دہ سمجھیں اوران کی تمام ترکوششیں اسلامی نظام کو قائم رکھنےکی ہوں اور اسلامی معاشرے میں جو اقتدار کےمنصب پرہواسےعوام کا امام بھی ہونا ہےتو پچھلے صاحب اقتدار کو عوام پرکھ چکے ۔ دین کے معاملے میں طفل مکتب نکلے، عوام کی ضروریات اور پریشانیاں اورمسائل صرف وہی سمجھ سکتا ہےجو عوام کے درمیان ہو وہ شخص کبھی نہیں سمجھے گا جس تک رسائی عوام کی ناممکن ہو، تو یقینی ہے کہ آزمائے ہوئےتواپنی روایات پر قائم رہیں گے، وہ اپنے وعدوں کو بھول جائیں گے جو انہوں نے عوام سے کیے تھے۔
عوام کوچاہیے کہ ان پر بھروسہ کریں جوعوام دوست ہیں جو اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود بھی عوام کی ترقی کے کام کررہے ہیں۔ عوام کےمسائل حل کر رہے ہیں ،عوام کی تعلیم کے لیےمنصوبے بناتے ہیں جن کے دامن ہردھبے اور ہرالزام سے پاک ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں اگرباگ ڈورعوام دیں گےتو دنیا کے ساتھ آخرت کی کامیابی بھی انشاءاللہ ہوگی۔
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگرکے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































