
نگہت پروین
اے غزہ کے لوگوں میرا قلم تمہارا مقروض ہے کیونکہ میرا قلم ان جذبات،اللہ پر تمہارا توکل اوربھروسہ،تمہارا جذبہ جہاد،تمہارا القدس کو آزاد
کرانے کے لیے دلیرانہ جدوجہد جس میں تمہارے فوجی ہی نہیں عورت،مرد،بچے سب ہی جذبہ شہادت سے لبریز ہیں ، بھلا میرا قلم اتنے اعلیٰ اور ارفع عاملین وہ کیسے ان کی کوششوں ان کی ہمتوں ان کے جذبوں کو اپنے اندر سمو سکے گا؟
غزہ میں ہسپتال پر بمباری پورا ہسپتال تباہ و برباد ان کیو بیٹر میں ننھے ننھے معصوم بچے آکسیجن سے محروم ہو کر جنت کے پھول بن گئے، آئی سی یو میں جو مریض تھے کچھ شہید کچھ طبی امداد سے محروم ہو گئے۔اسپتال کی تباہی کے بعد مسجدوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ، وہ جو اپنے رب کو راضی کر رہے تھے کچھ لوگ جنت کی راہ چلے گئے ،کچھ اپنے اعضا سے معذور ہو گئے ۔ پھر اسکول بھی نہ چھوڑے۔ اس سکول کے بچے آپس میں بچھڑ گئے۔ کچھ راہ عدم کو چلے گئے۔ کچھ شدید زخمی اور کچھ اللہ کے مہمان بن گئے ۔ اسکول کے بچے حسرت سے کہتے ہیں کہ اب ہم کہاں پڑھیں گے ہمارا اسکول اتنا پیارا تھا؟
ان تینوں صورتحال میں جب سفید سفید کفنوں میں میتوں کو دیکھا تومیرا قلم خوں رنگ ہو گیا لکھا نہیں جارہا تھا کیونکہ ایک دو نہیں ہزاروں کی تعداد میں میتیں سفید کفنوں میں اسرائیل کی سفاکیت اور امریکہ کے مظالم کا منہ بولتا ثبوت تھیں۔
غزہ کی مائیں کیسے صبرکا نمونہ بنیں کہ معصوم بچے کی میت گود میں ہے اور کہا کہ تم تو اتنی اچھی جگہ چلے گئے ہم بھی وہیں آئیں گے وہ بین نہیں کر رہے ،وہ سینہ نہیں کوٹ رہیں جبکہ شوہر بھائی بیٹے شہید ہو گئے ہیں اور گھر کے گھر تباہ ہو گئے ہیں بس منہ پر ایک ہی لفظ ہے؛؛حسبی اللہ؛؛
کیا میرا قلم اتنا مضبوط ہے کہ ان کا یہ صبر ان کی یہ امید اور یہ اللہ پر بھروسہ لکھ سکتا ہے؟
غزہ کی تباہی اور مظالم کے ایسے ایسے مناظر دیکھے کہ دل کانپ گیا اور قلم لکھنےسے قاصر ہی رہا، اس ظلم و تباہی کو صحیح طور پر بیان نہ کر سکا؟غزہ کے لوگو !ہم تم سے شرمندہ ہیں صیہونیوں نے تمہارا کھانا پانی بجلی گیس سب تم پر بند کر دیا مگر پھر بھی تم باہمت عوام نے کہا کہ القدس کی آزادی تک جان سے لڑیں گے۔
ہم نے دیکھا قبروں کے لیے جو زمین کھودی ، وہاں بچے اندر کھیل رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم تو یہاں جائیں گے پھر ہم جنت میں جائیں گے ۔بیہ چوں کا حوصلہ ہے ،پتہ نہیں ماؤں کی کتنی پیاری تربیت تھی کہ موت سے ڈر نہیں اور جنت کا شوق ہے۔
میرا قلم مسلمان حکمرانوں کی بے حسی پر تڑپ رہا ہے ۔ بارہا میں نےلکھا کہ خدارا فلسطینی عوام کی مدد ان کی فوج کی مدد اور یکجا ہونے کا وقت ہے مگر حکمران نے سنی ان سنی کر کے اپنے اقتدار کے نشے کو یوں بڑھایا کہ ٹس سے مس نہ ہوئے اور مسلم حمیت کو بھی چکنا چور کر دیا۔
اس وقت باطل اتحاد میں ہے اور حق جدا جدا ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم ممالک یکجا ہو کر اسرائیل کے مددگاروں اور اسرائیل کے تسلیم کرنےوالوں کو اتنا کمزور کر دیں کہ وہ فلسطین کے آگے گھٹنے ٹیک دیں۔ دعا ہے کہ اے رب القدس کو آزاد کرانے کے لیے ہمارے قلموں میں وہ طاقت اور وہ اب و تاب دے کہ ہم اس کا حق ادا کر سکیں۔
اے غزہ کہ لوگو! ہم دل سے جان سے مال سے دعاؤں سے تمہارے سنگ سنگ ہیں اور ہمارا یہ قلم تمہارے جذبوں ہمتوں اور جذبہ جہاد کا امین رہے گا انشاءاللہ





































