
نگہت پروین
آج نادیہ کالج گئی تھی مگر تین بجنے کو آئے نادیہ کا پتہ نہیں جبکہ وہ ایک سےڈیڑھ کے درمیان روز آجاتی تھی امی بہت پریشان تھیں، انہیں ہول اٹھ رہے تھے ۔ کبھی
جائےنماز پر جا کر نفل پڑھتیں ۔ کبھی کوئی وظیفہ اور آنکھیں دروازے پر لگی تھیں اور کان موبائل پر کہ کب اس کی کال آجائے شام کو حسین صاحب آفس سے آئے تو بیگم کو اتنا پریشان دیکھ کر پوچھا کہ کیا بات ہے۔
بیگم نے کہا کہ نادیہ صبح کی کالج گئی ہے، اب تک نہیں لوٹی میں نےاس کی تمام دوستوں کو فون کر لیا ہے، وہ کہیں نہیں ہے ، اب تو حسین صاحب کے چھکے چھوٹ گئے۔ سر تھام کر بیٹھ گئے اندھے اندیشوں نے ذہن میں گھر کر لیا۔ بیٹی کی عزت کا معاملہ تھا تھانے جاتے ہوئے ڈرتے تھے ،عزیزوں دوستوں پڑوسیوں کو بتانے سے بھی کچھ نہ ہوتا سوائے باتیں بنانے ،طعنے سننے اور مشورے دینے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ حسین صاحب سوچنے لگے کہ اب کیا کریں۔
ان کے چاروں طرف اندھیرا چھا رہا تھا ان کی بیٹی اغوا ہو چکی تھی یہ سوچ سوچ کا دماغ کی رگیں پھٹ رہی تھیں اور بیگم کا حال ان سےبرا تھا۔رات دو بجے گھنٹی بجی دروازے پر دوڑ کر حسین صاحب ہنچے ، دروازہ کھولا ،سامنے نادیہ کھڑی تھی ،اس کی ظاہری حالت اس کے شب غم کا فسانہ سنا رہی تھی۔
حسین صاحب نے نادیہ کو گھسیٹ کر گھر میں کیا اور دھڑ سے دروازہ بند کر دیا، اس خوف سے کہ کہیں کسی پڑوسی کی نظر نازیہ پر نہ پڑ جائے ،نادیہ امی سے لپٹی رو رہی تھی اور امی بھی رو رہی تھیں۔ آج امی کو اور حسین صاحب کو اللہ تعالی بہت یادآئے کہ اللہ تو انصاف کرنے والا ہے مگر اس دنیا میں ظلم اور زیادتی کا انصاف کس سے مانگیں بیٹی کو اغوا کرنے والے آزاد پھر رہے ہیں ،کہاں جا کر فریاد کریں ،کسی سے کہنا گویا بیٹی کی عزت کی دھجیاں اڑانے کے برابر تھا ۔ بس توبہ کے دروازے کو پکڑا اور تینوں نے رو رو کر اللہ سے گڑگڑا گڑگڑا کر معافی مانگی۔
ہمارا سسٹم اور نظام درست ہوتے تو کہیں شنوائی ہوتی مگر جب موقع آیا تھا کہ صالح افراد کا انتخاب کرتےتو ان کا انتخاب نہ کیا، اگروقت پر صحیح فیصلہ کر لیتے تو آج مجرم آزاد نہ ہوتے۔ صالح لوگوں نے صالح صلہ دی تھی کہ اسلامی نظام آگیا تو عافیت کا نظام آگیا ۔سمجھو مگر ہم مادہ پرست دنیا پرست اسلام کو مشکل سے سمجھتے ہوئے اس کے خلاف گواہی دی آج کس بات کا شکوہ؟
نہ صرف نادیہ کا قصہ بلکہ ہر گھر میں ایک نیا افسانہ سننے کو ملے گا،موبائل خریدنا ایک مشکل کام مگر کتنے آرام سے بندوق سر پر رکھی اور لوٹ لیا ،چوری ڈاکا ڈالنا تو بہت ہی عام سی بات ہے بھتہ خوری اپنا پیشہ بنا لیا ہے۔ بھتہ نہ دینے والے اپنے انجام سے لرز کر بھتہ دینے پر مجبورہیں ۔
نادیہ کے والدین کی طرح نہ جانے کتنے اور والدین اپنی بیٹیوں کی طرف سے پریشان رہتے ہیں کیونکہ عزتوں کے لٹیرے اللہ اور آخرت کے خوف سے آزاد ہیں۔ یہ لوگ معاشرے میں عزت سے رہ رہے ہیں اور باعزت لوگ ڈر ڈر کر زندگی گزار رہے ہیں۔ آخری یہ نظام کب بدلے گا کیسے بدلے گا؟کون بدلے گا؟یہ بدل بھی سکتا ہے یا نہیں,,,,,,,,
ہاں یہ بدل سکتا ہے ،اسے ہم عوام ہی بدلیں گے مگر شرط تو یہ ہے کہ جب گواہی کا وقت آئے یا انصاف کا وقت آئے تو حق کا ساتھ دینا ہے۔ اس وقت اگر حق کا ساتھ نہ دیا تو وقت گزر جائے گا اور پتا نہیں کب تک پچھتانا پڑے گا اور جب وقت آیا تھا تو ہم نے حق کا ساتھ نہ دیا ۔ گواہی کی اہمیت نہ جانی اور باطل کا ساتھ دیتے ہوئے لوٹنے کھسوٹنے والوں کا ساتھ دیا اب کیا رونا؟اب اگلے وقت کا انتظار کہ شاید انصاف والےآ ئیں گے تو شنوائی ہوگی مگر اللہ بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جس کو نہ ہو خیال خود اپنے بدلنے کا۔





































