
نگہت پروین
سورہ حج کی 27 اور 28 ایات کا ترجمہ
لوگوں کو اذن عام دے دو کہ لوگ دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار ائےتاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لیے رکھے گئے ہیں اور چند مقرر دنوں میں ان
جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں بخشے ہیں خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں۔حج کی برکت تھی کہ عرب کی اس عام بدامنی میں کم از کم چار مہینے امن کے میسر ا جاتے تھے جس میں تجارت بھی خوب ہوتی تھی حج کے دینی فائدوں کے ساتھ دنیاوی فائدے بھی کئی گنا زیادہ ہو گئے پہلے صرف عرب کے لیے رحمت تھا اب ساری دنیا کے اہل توحید کے لیے رحمت ہو گیا ۔قران کی ایات کا ترجمہ حج کے مقصد اور افادیت کو پوری طرح واضح کر رہی ہیں۔
حج عبادات میں پانچواں رکن ہے اور اللہ نے اس اہم فرض کی ادائیگی کے لیے استطاعت کو لازمی قرار دیا ہے کہ اگر اللہ تعالی نے اتنا عطا کیا ہے تو بندے کو اس کی استطاعت کے مطابق زندگی میں ایک دفعہ ضرور کرنا چاہیے ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تاکہ ہر ملک سے لوگ یہاں اللہ کے گھر کی زیارت کے ساتھ ساتھ حج کے ارکان پورے کریں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل اللہ کا خطاب ملا اور وہ حنیف اور یکسو تھے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اللہ تعالی نے جو بھی ازمائش بھیجی وہ بے چون و چرا ہر ازمائش میں پورے اترے ،،یکسو،،کا مطلب ہے،،ایک ہی سمت،،یعنی بت تراش کے گھر میں پیدا ہونے کے باوجود،،،رب،،،کی تلاش کی اور جب رب ملا تو پہلی ازمائش گھر بار اور باپ کو چھوڑنا پڑا مگر رب کی رضا کی خاطر چھوڑ دیا پھر اسماعیل علیہ السلام سو برس کی عمر میں اللہ نے اولاد کی صورت میں عطا کے ان کی قربانی سے بھی دریغ نہ کیا پھر حضرت حاجرہ اور حضرت اسماعیل ننھے سے بچے کو وادی ذی زرع میں چھوڑ دیا۔یہ اللہ کی سنت رہی ہے کہ انبیاء۔ پر جب بھی ازمائش آیا اور انکا بھروسہ اور توکل ازمائش میں پورا اترتا ہے تو اللہ کی مدد ضرور اتی ہے وہاں سے جہاں سے کوئی تصور نہیں کر سکتا
حضرت حاجرہ ایک عورت ان کا کردار امت کی عورتوں کے لیے مشعل راہ ہے کہ جب حضرت حاجرہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا کہ اپ کس کےحکم اور کس کے بھروسے پر وادی ذی زرع میں ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہیں کہا اللہ کے حکم سے تو حضرت حاجرہ کوئی سوال نہیں کرتی جہاں نہ پانی نہ کھانا بس اللہ کی رضا ہے اب بچے کو پیاس لگتی ہے تو صفا و مروا کی پہاڑیوں کے درمیان دوڑ رہی ہیں اللہ کو ان کی دوڑ اتنی پسند ائی کہ رہتی دنیا تک حج کا اہم رکن قرار دے دیا یہ اسلام میں ایک عورت کی شان ہے ۔جب پیاس سے بے چین ہوئے حضرت اسماعیل علیہ السلام تو ایڑیاں رگڑیں اللہ کے حکم سے زمزم جاری ہوا جو رہتی دنیا تک اللہ تعالی کا معجزہ ہے ۔حج میں لباس احرام کی صورت میں ہر بادشاہ اور فقیر کو ایک کر دیتا ہے دنیا میں امیر غریب ہی ہیں مگر اللہ کے دربار میں سب ایک ہی احرام میں ہیں تمام حاجی صرف اپنے اپنے تقوے کے لحاظ سے اجر حاصل کریں گے
حج کے شروع میں منی میں خیمہ بستی لگ جاتی ہے لاکھوں خیمے لگتے ہیں اور حج کی شروعات منی سےخیموں میں جا کر شروع ہو جاتی ہےعبادات اور ریاضت انتہا کو ہوتی ہے کہ اللہ نے ہمیں چن کر بھیجا ہے پھر پتہ نہیں موقع ملے یا نہیں اور پھر وقوف عرفات کے لیے حاجی عرفات کے میدان میں جمع ہوتے ہیں یہ وہی جگہ ہے جہاں حشر و قائم ہوگا اور قیامت کے دن تمام مخلوق یہاں موجود ہو کر اپنے اپنے اعمال کا حساب دے گی عرفات کے میدان میں بندوں کی ہچکیاں بندھ جاتی ہیں دعا کرتے کرتے کیونکہ معلوم ہے کہ یہاں کی دعائیں قبول ہوں گی ۔
میدان عرفات سے مزدلفہ کا سفر شروع مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ مزدلفہ میں ادا کی جائے گی یہاں ساری رات عبادت کر کے شیطان کو مارنے کے لیے کنکریاں چنی جاتی ہیں یہ تین شیطان وہ ہیں جنہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہکانا چاہا کہ بیٹے کی قربانی نہ کریں سنت ابراہیمی حجاج کرام ضرور کرتے ہیں اور اپنے جذبہ نافرمانی کو سر نگوں کرتے ہوئے شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں پھر 10 ذوالحج کو قربانی کر کے احرام اتارتے ہیں اور عید الاضحی مناتے ہیں ۔
پھر طواف ودا ع کا وقت ا جاتا ہے دل ڈر رہا ہے پتہ نہیں ائندہ اس قابل کو دیکھ سکیں گے یا نہیں یا پھر حج قبول ہوا یا نہیں حج مبرور ہوا یا نہیں کوشش تو بہت کی تھی کہ کوئی گناہ سرزد نہ ہو حج مبرور کی شرط ہی یہ ہے کہ حلال کمائی سے حج ہو اور کوئی گناہ سرزد نہ ہو ۔
،،،ایک حدیث ہے،،،
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب ہمارے خیال میں جہاد افضل العمل ہے تو ہم جہاد کیوں نہ کریں؟ اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے افضل جہاد حج مبرور ہے (بخاری)
دعا ہے کہ تمام حاجیوں کو اللہ تعالی حج مبرور عطا فرمائے اور تمام مسلمانوں کو حج کی توفیق عطا فرمائے امین





































