
نگہت پروین
ڈاکو تو ڈاکو ہیں چاہے کچےکے ہوں یا پکے کے۔۔۔ انتہائی ظالمانہ حرکت کےمرتکب ہوتے ہیں کسی کےحلال کمائی کو یوں لوٹ لیتے ہیں جیسےان کا حق ہے۔ سارے پیسے
پستول کی زور پر چھین کر لے جاتے ہیں ۔ اب بھلا وہ شخص اپنا پورا مہینہ کیسے گزارے گا ۔اس کے کیا مسائل تھے؟ اس کے گھر کوئی بیمار تھا یا کسی کی فیس دینی تھی یا بیٹی کی شادی تھی یہ ڈاکو کے مسئلے نہیں ہیں۔۔۔ انہیں ڈاکہ ڈالنا ہے آپ کی جیبوں پر ۔۔۔
موبائل،موٹر سائیکل،کار چھیننا تو ان کا محبوب مشغلہ ہے ،اتنے مزے اور آسانی سے یہ اس کام کرتے ہیں کہ دوسرا جو شخص گزر رہا ہوتا ہے دیکھ رہا ہوتا ہے کہ ڈاکے کی واردات ہو رہی ہے اس مگر کنی کترا کر گزر جاتا ہے،جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔تو بات تو صحیح ہے ،آخر کسی کے لیے کون اپنی زندگی اجیرن کرے گا ۔
ان ڈاکوؤں سے کون ٹکر لے گا کواہ مخواہ کوں کہ ڈاکو تو اسلحے سے لیس ہوتے ہیں اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بڑی بڑی مقتدر شخصیات اس کے پیچھے ہوتی ہیں، ان کی سرپرستی ڈاکوؤں کو حاصل ہوتی ہے ۔ ہمارا سوال حکومت سے یہ ہے کہ آخر عوام کو تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے تو وہ کیوں اس ذمہ داری سے غافل ہے ۔عوام کہاں جائیں ؟ کس سے فریاد کریں ؟جان و مال کا تحفظ عزت اور آبرو کا تحفظ تو حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت فوری طور پر عملی اقدامات کر کے عوام کو تحفظ فراہم کرے کیونکہ ان کچے پکے کے ڈاکو وں سے جان بھی محفوظ نہیں اور نہ عزتیں محفوظ ہیں ۔ ان کے طریقہ واردات بھی عجیب ہے ،حکومت کو فورا ًعوام کو تحفظ کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔





































