
نگہت پروین
،،شہید کی جو موت ہےوہ قوم کی حیات ہے۔۔۔ وہ شخص کتنا عظیم ہے جس نے آج اپنے پورے خاندان کی قربانیوں کے بعد خود بھی
جام شہادت نوش کیا۔۔
بیت المقدس کی آزادی کے لیے اپنی قوم کی شانہ بشانہ ہروقت کھڑے رہنا،قوم کو جگائے رکھنا۔اس کو ہمت بندھانے،جدوجہد جاری رکھنے اور جہاد کو زندہ رکھنے والے اسماعیل ہنیہ کی شخصیت روشن چراغ تھی ایسا روشن چراغ جس کی روشنی ان کے جانے کے بعد بھی فلسطینی قوم کو جگائے رکھنے اور اسرائیل کی بزدلی پر ٹھپا لگانے کی طاقت دے گئے ۔
محرم کے مہینے میں امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اپنےخانوادے کے ساتھ ظلم و جبر کےخلاف نکلےتھے۔آج وہی یاد تازہ ہو گئی کہ اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے معصوم پھول بھی اور جوان بیٹے بھی اور کئی افراد شہید ہو کرجدوجہد کی تاریخ رقم کر گئے ہیں ۔بزدل اور ظالم اسرائیل اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر کےبھی سرنگوں ہوگا کیونکہ مسلمان شہید ہو کر امر ہو جاتا ہے اور ظالم اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکے گا۔





































