
اسماءحبیب
میں کچن کاکام نمٹا کر کمرے میں آٸ تو سب لوگ کمرے میں ٹی وی بڑےانہماک سے دیکھ رہے تھے۔۔۔”ارے بھٸ۔۔۔۔ کیا بات ہے۔۔تراویح کی تیاری نہیں
کرنی۔۔“۔۔۔”ہش ۔۔ہش“ کمرے مں یہ آوازیں گونجیں۔۔سب مجھے خاموش کرانے لگےاور ٹی وی کی طرف اشارے کرنے لگے۔۔گویا کوٸ مقدس عبادت ہو رہی ہو۔۔میری حیران نظروں نے ٹی وی کی طرف دیکھا تو کیا دیکھتی ہوں کہ ایک گیم شو میں ایک اداکارصا حب اچھل اچھل کر اونچی آواز میں فرماٸش کررہے تھے۔”لڑکیاں کدھر بیٹھی ہیں ۔۔مجھے لڑکیاں چاہییں۔۔لڑ کیاں کہاں ہیں۔۔““۔حاضرین میں سےشور اٹھا۔۔قہقہے۔۔۔چیخیں۔۔ہاٶ ہو۔۔اداکار صاحب خود بھی چناٶ فرمارہے تھے۔۔۔لڑکیاں خود بھی آنے پرتلی بیٹھی تھیں۔۔میک اپ زدہ اور مغربی تہذیب کے جلوے۔۔ سیلفیاں۔۔ ناجائز بےتکلفیاں۔۔۔مسکراہٹوں کے تبادلے۔۔۔میوزک کی دھنیں۔۔۔۔”ارے بھٸ۔۔کیوں آنکھ ،کان اورپیر کے روزے خراب کرنے پر تل گۓ ہیں ۔۔بند کریں۔“۔اشتعال کی ایک تیز لہر اٹھی۔۔جس نے میری آواز بہت تیز کر دی۔۔”افوہ ۔۔بابا اتنا مزا آ رہا ہے۔۔ماما کو چپ کرواٸیں۔۔““۔یہ منجھلا بیٹا تھا ۔۔ماں کی اپوزیشن اور بابا کا راٸٹ ہینڈ۔۔میں نے اسے بری طرح گھورا ”۔۔آچھا۔۔اچھااٹھ رہا ہوں۔۔آپ بابا کو اٹھاٸیں ناں۔۔“اف اس کے ترپ کے پتے۔۔ ”دیکھیں۔۔رمضان کامہینہ نیکیوں کا موسم بہار ہے۔۔اٹھیں ٹی وی بند کر دیں۔۔اور مسجد میں جاکر نماز کی تیاری کریں۔۔۔“ لہجہ نرم رکھا ۔۔۔”” ماما دیکھیں ۔۔ان مولوی صاحب کو۔۔““۔بڑے بیٹے نے آواز دی۔۔کیا دیکھتی ہوں کہ ایک مغرب زدہ چہرہ کھلے بالوں کے ساتھ دین کی باتیں بتا رہی تھیں ۔۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے شیطان کے منہ سے نیکی کی تلقین۔۔۔اس نیکی کی تلقین چہ معنی دارد۔۔”یہ کیا ہے۔۔؟“۔میرا منہ بن گیا۔۔” کمال ہے ماما۔۔۔آپ کو ہر بات پر اعتراض ہے۔۔““۔منجھلا جھنجھلایا۔۔۔
میں کس کام سے آٸ تھی۔۔یہ بھول گیالیکن سوچنے پرمجبور ہو گٸ۔کہ رمضان کے احترام کو کس طرح ختم کیا جا رہا ہے۔۔۔کیا جید علماء کا حق نہیں کہ اسلام کی تفسیر بیان کریں ۔۔




































