
ثمینہ الیاس
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی محبت،فرمابرداری اور اطاعت اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ اللہ نے جو حکم دیا، ایک ایسا حکم جو انسانی جذبات اور باپ کی
محبت کے بالکل خلاف تھا۔ ابراہیم علیہ السلام نے نہ صرف حکم کی تعمیل کی بلکہ دل سے تسلیم کیا، یہ اپنی سب سے بڑی خواہش (بیٹے کی محبت) کو اللہ کی رضا کے سامنے جھکا دینے کا نام تھا۔
اسی لیے قرآن مجید میں ارشاد ہے
﴿لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنْكُمْ﴾
(الحج: 37)
"اللہ کو نہ تو ان جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ تمہارا تقویٰ ہی اس تک پہنچتا ہے۔"
اپنی مرضی کو اللہ کی مرضی کے تابع کرناچاہے وہ مال ہو، وقت ہو، عزت ہو، یا کوئی پسندیدہ چیز۔
اللہ کے حکم پر چلنے کی تیاری، چاہے وہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔
ایثار اور قربانی کا جذبہ: دوسروں کے لیے کچھ دینا، غریبوں میں بانٹنا، اور اپنے نفس کو کنٹرول کرنا۔
اصل قربانی تو اُس وقت ہوتی ہے جب ہم اپنے اندر کے "بڑے بکرے" — یعنی نفسِ امارہ کی خواہشات، بری عادات، حرام کمائی، غیبت، حسد، اور دنیا کی محبت — کو ذبح کر دیتے ہیں۔ اصل کامیابی اللہ کی مرضی کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے میں ہے۔
قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں،
بلکہ اپنی خواہشات کو اللہ کی رضا کے تابع کرنے کا نام ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو قربانی کی، وہ محض ایک دنبے کی نہیں تھی بلکہ اپنے سب سے پیارے بیٹے اور اپنی پوری محبت کو اللہ کے حکم کے سامنے جھکا دینے کی تھی۔
اصل قربانی وہ ہے جو اندر سے ہو
اپنے نفس کی خواہشات کو ذبح کرنا
حرام سے آنکھیں بند کرنا
دنیا کی محبت کو دل سے نکالنا
اللہ کے حکم پر بے دریغ چل پڑنا
عید قربان کی یہ مبارک گھڑیاں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ۔۔۔۔
سب سے بڑی قربانی وہ ہے جو انسان اپنی "میں" کو اللہ کی محبت میں قربان کرتا ہے۔



































