
صبا احمد
سنت ابراہیمی کے لیے لوگ حج کے لیے دنیا کے ہر کونے سے جمع ہوتے ہیں۔ مختلف لباس نسل و
رنگ ،بدو باش، زبان مگر احرام باندھ کر سب اللہ کے گھر ایک لباس دو چادروں میں جمع ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔
ہر چیز سےبے نیاز ،بس اللہ کی اور اس کے نبی حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی پیروی میں جہنوں نے اپنے رب کو سورج چاند ستاروں اور بتوں میں نہ پایا تلاش کیا، اس کی خدائی واحدانیت کو اپنے دل کے قریب پایا ، اپنے بیٹے اسماعیل کے ساتھ اس کا گھر پہلا زمین پر تعمیر کیا۔۔۔۔۔۔اپنے باپ آذر کے دین سے انکار کیا تو اللہ کو ان کی قربانیوں اور تلاش کو جلا بخشی ،اللہ تعالیٰ نے پنے متلاشی کو اپنی زیارت کروائی،اپنا فرمانبردار، مطیع و اطاعت گزار بنایا ۔۔۔۔
مسلمانوں کو اپنی خوشنودی گناہوں سے معافی کے لیے دنیا میں زیارت ،اللہ تعالی کے گھر کی حاضری کا حکم دیا ،ہر مسلمان کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سنت کی پیروی خود بھی کی اور امت مسلمہ کو بھی حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے" زندگی میں ایک بار جو استعاعت رکھتا ہو وہ اس گھر کی زیارت کرے اگر وہ نہیں کرتا تو وہ چاہے یہودی مرے یا نصرانی" ۔
حضرت ابراہیم نے اپنی ساری زندگی اللہ تعالی کی رضا کے لیے اس کی تلاش ، دریافت اور پانے کے بعد دین اسلام کے لیے آتش نمرود میں کودے ، سچ کا ساتھ دیا گھربار چھوڑا ہجرت کی پھر فلسطین کی سر زمین پر رہے، دین کی اشاعت کا کام بھی جاری رکھا ۔ اس کی دین کی اشاعت و ترویج کے لیے نوے برس کی عمر میں اولاد کی دعا کی وہ منظور ہوئی ، نعمت ملی خلیل للہ کا لقب ملا ۔۔۔۔۔ پھر امتحان شروع ہوا ،حضرت اسماعیل کو مکہ معظمہ بی بی ہاجرہ کے ہمراہ دن تنہاریگستان جنگل و بیابان میں چھوڑنے کا حکم دیا ۔"حضرت ابرہیم علیہ السلام جب شیر خوار بچے اور بچیوں کو اس بیاباں ریگستان میں تنہا چھوڑ کر جارہے تھے تو بی بی ہاجرہ نے پوچھا کہ کیا یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے ". تو آپ نے کہا "ہاں "۔ ایک مشکیزہ اور کھجوروں کے ساتھ وہ چھوڑ کر چلے گئے ۔۔
پانی ختم ہونے کے بعد ننھے اسماعیل کی شدت پیاس ،رونا بلبلانا، ماں کا صفا مروہ کی چٹیل پہاڑیوں پر چکر لگانا ۔۔۔زخمی پاؤں ماں نے کیسے چکر لگائے کسی مقام سے پانی نظر آجائے مگر اللہ کی قدرت کے اسماعیل کے پاؤں کی ایڑیوں کے رگڑنے کے مقام سے آب زم زم کا چشمہ نکلا جو چودہ سو سال سے بہہ رہا ہے۔ چشمہ جس کی افادیت و شفافیت میں آج تک کمی نہیں آئی ۔۔۔
پاکیزہ پانی بیماریوں کے لیے شفا ہے ،مناسک حج میں طواف کے بعد اس کا پانی پینا سنت اور تقویت کا باعث ہے۔ پھر بھی امتحان ختم نہ ہوا ،سعی اور میدان عرفات اور منی کو اہمیت ملی جہاں حجاج رو رو کر دعائیں مانگتے ہیں اور روز قیامت سب لوگ اسی میدان میں اکھٹے ہوں گے ۔۔۔۔ساری زندگی کے گناہوں سے مغفرت کی دعا جو ان کو پاک کرتی ہے ،وہاں امتحان اللہ تعالیٰ نے حضرت ابرہیم کو خواب میں تین دن تک اپنی سب سے عزیز چیز اللہ کی راہ میں قربان کرنے کو کہا ۔
خواب بیٹے کو بتایا "بیٹے نے کہا میں حاضر ہوں
آپ مجھے قربان کردیں ابا جان !مجھے ثابت قدم پائیں گے "
آپ حضرت حاجرہ اور بیٹے کے ساتھ قربان گاہ کے گئے ،راستے میں تین جگہ شیطان نے روکا ،انہوں نے اسے پتھر مارے وہ پتھر کا ہوگیا ۔
قربان گاہ پر حضرت اسماعیل کے گلے پر چھُری پھیری تو ندا آئی کے اے ابراہیم علیہ السلام! آپ کی قربانی قبول ہوئی، ہم نے حضرت اسماعیل کی جگہ مینڈھا جنت سے بھیجا ہے ،پھر حج کی سنت کی پیروی کا حکم ہو ا۔۔۔
حج دنیا کے عیش وآرام ،گناہوں کو معاف کرواتی ہے ،نیت آنسو اور تقویٰ زاد راہ لے کر آتے ہیں ۔
رسول اللہ صہ نے فرمایا "
کہ کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام لانا ،ہجرت کرنا اور حج کرنا پچھلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔"
"وہ اس طرح پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے وہ ابھی ماں کے پیٹ سے جنا ہو "
جہاں حاجی حج کر رہے ہوتے ہیں اور لبیک الھم لبیک لا شریک کالک لبیک پڑھ رہے ہوتے ہیں، وہاں دور بیٹھے مسلمانوں کے لیے تکبیرات ،مغفرت کے لیے ہیں ۔۔۔"
حضرت عائشہ رضہ اللہ عنہا سے روایت ہے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔۔
"کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالی نے عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرمایا ہو "۔
اور ذوالحج کے کے دس دن بہت افضل اور برکت والے ہیں۔
حج کے معنی قصد یا ارادہ کے ہیں ، اس سے نیکی اور تقوی ٰکی رغبت ملتی ہے ،یہ اجتماعی عبادت ہے ۔ حج کے زبردست اثرات انسان کے دل و دماغ پر رونما ہوتے ہیں۔وہ وقت، مال، جسمانی، قربانی کی اہمیت سیکھتا ہے ۔آرام و آسانیوں ، تعلقات، بہت سی نفسانی خواہشات اور لذتیں سب اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کر دیتا ہے ۔پرہیزگاری ،بندگی ذاتی غرض پرہیز گاری و تقوی سب اللہ کے لیے وقف کرتا ہے ۔ اللہ کے لیے شوق وعشق کی کیفیت مستتقل نقش ہوجاتی ہےجس کی مثال نبی کریم کا دور جہاد ہے ۔ اسلام کے لیے شہادت کا رتبہ محلوں کے عیش و عشرت سب قربان کردیا ، آج زندہ مثال مسجد اقصی کے لیے فلسطینیوں اور غزہ کے لیے ہے، اللہ کی بندگی و اطاعت قبلہ اول کی حفاظت میں قربانیاں دےرہے ہیں ۔غزہ کے لوگ تنہا ہیں ،امت مسلمہ سو رہی ہے ۔
حق و باطل میں یہی فرق ہے حق کے لیے اپنا سب کچھ اپنے گھر بار اولاد قربان کر رہے ہیں، بالآخر اللہ کا کلمہ بلند کرنے کو مصیبتیں بھوک پیاس مائیں بیویاں اپنے شوہر ، بچوں کی قربانیاں بچے والدین کی قربانیاں گھر کھنڈر بن گئے ہیں مگر پھر بھی حق کی گواہی دینے والے اپنے بچوں کے ساتھ یہاں بھی عرفہ کو تکبیرات پڑھتے ہیں ،باطل قوت اسرائیلیوں کا سر نیچا کرنے کو وہ انسان سے اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرانا چاہتے ہیں ۔ ۔
ایک خدا پرست آدمی فلسطینی کی طرح خدا پرست لوگ عزم وہمت اور جہاد فی سبیل اللہ کاجو سبق اللہ نے دیا کسی دوسری چیز سے نہیں لے سکتا ۔
یہی مرکز دین کے ساتھ اس کی وابستگی ہے اور اس واحد مرکز امن میں مناسک حج میں دوڑ دھوپ ،کوچ اور قیام سے مجاہدانہ زندگی کی مشق کرائی جاتی ہے ۔ ۔




































