
افروزعنایت
سہیل !ـ کوئی ضرورت نہیں ریحان کے گھر قربانی کا گوشت بھیجنے کی ـ،ـ پچھلے مہینے ساجد کے بیٹے کی شادی میں ملا تھا لیکن مجھے سلام تک نہیں کیا
،دوٹکے کا آدمی اور اکڑ دیکھو اس کی ۔
سہیل کی نوبیاہتا بہو نرمین اپنے سسر کی بات سن کر حیران رہ گئی جبکہ اس کا سسر حج کی سعادت بھی حاصل کر چکا تھا، ــ اس کی شادی کو چند مہینے ہوئے تھے لیکن اس کا سسر گھر والوں کی ہر بات کی مخالفت کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا ، کسی بندے کو خود آگے بڑھ کر سلام کرنا اپنی توہینِ سمجھتا ،جبکہ گھر کے تمام افراد اس سے یکسر مختلف تھے اور تحمل سے برداشت بھی کر رہے تھے کیونکہ اکثر مقامات پر صبر وتحمل ،اور درگزر ضروری ہوتے ہیں تاکہ ماحول خراب نہ ہو ــ۔ــ
مذکورہ بالا صورتحال اکثر وبیشتر نظر آتی ہے ،جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی صرف جانور کی قربانی کی تعلیم نہیں دیتی بلکہ اپنی انا ضد ،حسد ، لالچ طمع ،بدگمانی غرور و گھمنڈ،اورلھو و لھب عادات و خواہشات کی قربانی کی تعلیم بھی دیتی ہے ، یعنی نفس کو ہر برائی سے بچانا بھی بڑی قربانی ہے ، اج کے ہمارے معاشرے میں مذکورہ بالا برائیوں کی قربانی نہ دینے کی وجہ سے معاشرتی استحکام عدم تحفظ کا شکار ہے، نفرتیں ،دوریاں ،بدگمانیاں غرور و تکبر جیسی ان ہی نفسانی عادات کی وجہ سے ہر شخص دوسرے سے نالاں اور بیزار نظر آتا ہے ۔
معزرت کے ساتھ کہوں گی کہ ہم میں سے اکثر نے دین صرف عبادات الہیٰ اور مساجد تک محدود رکھا ہے لیکن الحمدللہ دین اسلام کی تعلیمات اور احکامات تو رہن سہن ،معاملات ،زندگی غرض ہمارے ہر عمل سے جڑے ہوئے ہیں ،لہٰذ اس مرتبہ بیشک آپ بڑا حصہ قربانی کے گوشت کا اپنے گھر والوں کے لئے رکھیں لیکن رب کو راضی کرنے کے لئے خلوص نیت سے ایک حصہ غریب اقربا و ملازمین کے لئے بھی ضرور نکالیں اپنے نفس کی پیروی کے بجائے ہر وہ عمل کرنے کی کوشش کریں جس سے دوسروں کی دل آزاری نہ ہو یہ کوشش یقیناً آپ کی نیکیوں میں شمار ہوگی، ان شاءاللہ



































