
نگہت پروین
حرم کا بلاوا ،حرم جانے کی تیاریاں
حرم کے لیے سفر اور پھر وہاں جتنا عرصہ گزرا اور جس طرح گزراآنسو ،خوشی کےآنسو آ جاتے
ہیں ۔ یہ سوچ کر کہ اللہ واقعی بندے کی شہ رگ سے بہت قریب ہے۔میں نے بہت تڑپ تڑپ کر دعائیں مانگیں تھیں۔ حج کے بلاوے کے لیے اور جب نام آگیا تو سجدے میں گر گئی یا اللہ مجھے بلا لیا ۔ مجھے بلاوا آگیا بس پھر تیاریاں شروع ہو گئیں ، ہر ایک سے معافی کہ اللہ نے تو پاک کرنے کو بلا لیا ،پھرجہاز میں سوار ہوئے تو تمام مرد حضرات احرام میں یعنی دو چادریں کفن کا تصور آگیا اور عورتیں ستر سے ڈھکی ہوئی۔
سب نے جب مل کر لبیک اللہم لبیک تلبیہ پڑھا دل میں خون کی گردش بڑھ گئی ،یہ کیسی دعا ہے ،کیسی تمنا ہے ،کیسی تڑپ ہے ، میں حاضر ہوں۔ اے اللہ میں حاضر ہوں ۔ میں نے سب کچھ تیری رضا کے لئے چھوڑ دیا سر تسلیم خم کر لیا۔ بس میں حاضر ہوں ۔
جب پہلی دفعہ کعبے پر نظر پڑی اس کی ہیپت اور جلال نے اللہ کے وجود کا احساس دلایا اور اپنے گناہ گار ہونے اور کم مائیگی کا احساس ہوا ،پھر عمرے کے لیے جب طواف کیا، سات چکر لگائے ،سوائے دعا کے کچھ یاد نہ رہا۔ اللہ سے بہت قربت محسوس ہوئی تھکن کا احساس نہیں تھا کیونکہ اللہ کے سوا کچھ یاد نہیں تھا، مقام ابراہیم پر دو نفل پڑھ کر زمزم پی کر سعی کرنے گئے ،بی بی ہاجرہ ایک عورت اللہ نے ان کی سعی کو جو اونچے نیچے پتھریلے پہاڑوں پر دوڑی تو حج کا رکن بنا دیا، سات چکر اللہ۔۔۔ مشقت چاہتا ہے گرد آلود بندہ دیوانہ وار دوڑ رہا ہے۔ قرآن میں سورہ بلد آیت نمبر چار میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ لقد خلقنا الانسان فی کبد یقیناً ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔
آج آٹھ اذولحج ہے ،آج منی جانا ہے، بسیں روانہ ہو چکی ہیں، دور سے ہی منی کہ سفید سفید خیمے نظر آرہے ہیں، دل لرز رہا ہے ،اے اللہ آج سے حج شروع ہو گیا یا اللہ تمام عبادتوں اور دعاؤں کو قبول کر لینا۔
منی سے عرفات جانا ہے عرفات وہ جگہ ہے، جہاں حشر قائم ہوگا ،عرفات کے میدان میں دعائیں مانگتے ہوئے آنسو نہیں تھمتے۔ اللہ میں حاضر ہوں اے اللہ میں بس تیرے لئے حاضر ہوں ۔بس مجھے بخش دے ۔ میری مغفرت فرما دے ،عرفات سے مزدلفہ جانا ہے ،وہاں مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھنی ہے۔ ساری رات عبادت کے ساتھ دعائیں مانگنی ہیں، جہاں کا میدان کچھ نیچا اونچا اور پتھریلا ہے ،چٹائی بچھائی تو نیچے تک سرک گئی۔ پتا چلا دو خواتین کے بیچ میں میں آگئی اور وہ بڑی محبت سے کہہ رہی ہیں، بہن لیٹ جاؤ کوئی بات نہیں، ایسے ہی گزارا ہو جائے گا "ولا فسوقا ولا جدالا "حج کے درمیان کوئی لڑائی کوئی بیہودہ بات نہیں۔
وہاں کنکریاں چنی تین شیطانوں کو مارنا تھا یہ عمل "رمی "کہلاتا ہے، یہ تین وہ جگہ ہیں جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام بی بی ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو شیطان نے بہکایا تھا کہ حضرت اسماعیل کو قربان نہ کریں اور پھر طواف زیارت یعنی آخری طواف الوداعی طواف ،دل مچل رہا ہے ،دل رو رہا ہے ،واپس جانے کو دل نہیں چاہ رہا ،اللہ کا کتنا بھی شکر ادا کر لوں کم ہے، اس نے مجھے توفیق دی اور وہ جو ابراہیم علیہ السلام اسماعیل علیہ السلام نے رزق کی اور امن کی دعا کی تھی یقین جانیۓ، رزق کی فراہمی اتنی ہے کہ رب کے حضور سر نہ اٹھے جو اس کی میزبانی وہاں تھی اللہ پاک اس حج کو حج مبرور بنا دے اور زندگی میں پھر اپنے گھر کا دیدار کرواۓ۔ آمین



































