
ثمینہ الیاس
(گنتی کے چند دن — حج کا روحانی پیغام)
قرآنِ مجید کی یہ آیت انسان کو ایک گہرے احساس کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ زندگی کے کچھ
لمحات ایسے ہوتے ہیں جو عام دنوں جیسے نہیں ہوتے، بلکہ وہ اللہ کے قرب کا خاص ذریعہ بن جاتے ہیں۔ "ایامِ معدودات" سے مراد حج کے وہ چند مبارک دن ہیں جو ذوالحجہ میں آتے ہیں اور جن میں بندہ اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر اپنی بندگی کا عملی ثبوت پیش کرتا ہے۔
حج دراصل ان ہی "گنتی کے چند دنوں" کا نام ہے لیکن ان دنوں کی تاثیر پوری زندگی کو بدل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جب لاکھوں فرزندانِ اسلام ایک ہی لباسِ احرام میں ملبوس ہو کر اللہ کے گھر کے گرد جمع ہوتے ہیں تو یہ منظر انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ دنیا کی ساری تفریقیں ختم ہو جاتی ہیں—نہ کوئی امیر ہوتا ہے نہ غریب، نہ کوئی بڑا نہ چھوٹا—سب صرف اللہ کے بندے بن جاتے ہیں۔
ان دنوں میں "ذکرِ الہیٰ" کی خاص تاکید کی گئی ہے۔ حج کا ہر رکن ذکر سے جڑا ہوا ہے،لبیک اللہم لبیک کی صدائیں، عرفات میں دعائیں، مزدلفہ میں ذکر، اور ایامِ تشریق میں تکبیرات—یہ سب اس بات کا اعلان ہیں کہ بندہ ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھتا ہے۔ یہی وہ روح ہے جس کی طرف آیت اشارہ کرتی ہے کہ ان خاص دنوں کو اللہ کے ذکر سے بھر دو۔
حج ہمیں قربانی کا درس بھی دیتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم سنت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات کو قربان کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ یہ چند دن ہمیں سکھاتے ہیں کہ بندگی صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ اپنی زندگی کو اللہ کے احکام کے تابع کرنے کا نام ہے۔
"ایامِ معدودات" ہمیں وقت کی قدر بھی سکھاتے ہیں، یہ دن مختصر ضرور ہیں مگر ان میں کی جانے والی عبادات کا اجر بے حساب ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زندگی بھی دراصل چند دنوں کا سفر ہے—اگر ان لمحات کو اللہ کی یاد میں گزار لیا جائے تو یہی چند دن ہمیشہ کی کامیابی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
آخر میں حج کے یہ گنتی کے چند دن ہمیں ایک نیا انسان بنا کر لوٹنے کا پیغام دیتے ہیں—ایسا انسان جو دل سے پاک، نیت سے صاف اور عمل سے مضبوط ہو۔ یہی وہ روح ہے جو اس آیت کے اندر پوشیدہ ہے کہ اللہ کو یاد کرو، خاص طور پر ان دنوں میں کیونکہ یہی یاد انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب بنا دیتی ہے۔
اللہ ہمیں حج کی روح کو سمجھنے اور اپنی زندگی میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین



































