
ثمینہ الیاس
ہرسال 23 اپریل کو دنیا بھر میں عالمی یومِ کتب منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں کتابوں کی اہمیت
مطالعے کی عادت اور علم کے فروغ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ کتابیں صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ یہ انسان کی سوچ، شخصیت اور معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
کتابیں انسان کی بہترین دوست ہوتی ہیں۔ یہ نہ صرف ہمیں علم دیتی ہیں بلکہ ہمیں سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کا سلیقہ بھی سکھاتی ہیں۔ ایک اچھی کتاب انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہے۔ تاریخ، سائنس، ادب یا مذہب ہر میدان میں کتابیں رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں کتاب پڑھنے کا شوق پیدا کرنا اور پبلشنگ انڈسٹری کو فروغ دینا ہے۔ خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کو کتابوں کی طرف راغب کرنا اس دن کا اہم ہدف ہے تاکہ وہ سوشل میڈیا اور غیر تعمیری مصروفیات کے بجائے علم کی طرف آئیں۔
آج کی نوجوان نسل تیزی سے ڈیجیٹل دنیا کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ ایسے میں کتابوں کا مطالعہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھروں، اسکولوں اور معاشرے میں کتاب پڑھنے کی عادت کو فروغ دیں۔ روزانہ صرف 20 منٹ کا مطالعہ بھی انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔
جو لوگ کتابیں پڑھتے ہیں، ان کی گفتگو، سوچ اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت دوسروں سے بہتر ہوتی ہے۔ کتابیں انسان کو صبر، برداشت اور وسیع النظری سکھاتی ہیں، یہ ہمیں مختلف ثقافتوں، خیالات اور تجربات سے روشناس کرواتی ہیں۔
روزانہ کچھ وقت کتاب پڑھنے کے لیے مخصوص کریں
بچوں کو کہانیاں سنا کر ان میں دلچسپی پیدا کریں
دوستوں کو کتابیں تحفے میں دیں
لائبریری کا استعمال بڑھائیں
عالمی یومِ کتب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کتابیں ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہیں،اگر ہم ایک باشعور، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں کتابوں سے اپنا رشتہ مضبوط کرنا ہوگا۔
"کتاب ایک ایسا چراغ ہے جو زندگی کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے۔"




































