
ثمینہ الیاس
ہر سال 7 اپریل کو دنیا بھر میں عالمی یومِ صحت منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد لوگوں کو صحت کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرنا اور بہتر صحت کے لیے
اقدامات کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ یہ دن دراصل عالمی ادارۂ صحت کے قیام کی یاد میں منایا جاتا ہے جو 7 اپریل 1948 کو وجود میں آیا تھا۔
صحت کی اہمیت
صحت انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے, اگر انسان صحت مند ہو تو وہ اپنی زندگی کے تمام کام بہتر طریقے سے انجام دے سکتا ہے۔ اچھی صحت نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور روحانی سکون کا بھی سبب بنتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ"صحت ہے تو سب کچھ ہے"۔
عالمی یومِ صحت منانے کا مقصد
عالمی یومِ صحت منانے کا بنیادی مقصد لوگوں کو صحت کے مسائل کے بارے میں آگاہ کرنا اور انہیں صحت مند زندگی گزارنے کی ترغیب دینا ہے۔ اس دن مختلف ممالک میں سیمینارز، واکس، آگاہی مہمات اور صحت سے متعلق پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔
اس دن کے اہم مقاصد میں شامل ہیں۔۔۔
صحت کے عالمی مسائل پر توجہ دلانا
لوگوں کو بیماریوں سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کرنا
صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینا
طبی سہولیات کی اہمیت اجاگر کرنا
صحت مند زندگی کے لیے چند اہم اصول
صحت مند زندگی گزارنے کے لیے چند سادہ مگر اہم اصول اپنانا ضروری ہیں ۔
متوازن غذا استعمال کریں جس میں پھل، سبزیاں اور غذائیت سے بھرپور چیزیں شامل ہوں۔
باقاعدہ ورزش کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں
صاف پانی پئیں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں
پوری نیند لیں تاکہ جسم اور دماغ تازہ رہیں
ذہنی سکون کے لیے مثبت سوچ اور عبادت کو اپنائیں
اسلام اور صحت
اسلام بھی صحت کی بہت اہمیت دیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں صفائی، اعتدال اور صحت مند زندگی کی تعلیم دی گئی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت۔"
یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں اپنی صحت کی قدر کرنی چاہیے اور اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
عالمی یومِ صحت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی یافتہ معاشرہ بن سکتا ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں صحت مند عادات اپنائیں تو نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کو بھی صحت مند بنا سکتے ہیں۔آئیں اس عالمی یومِ صحت کے موقع پر یہ عہد کریں کہ ہم اپنی صحت کا خیال رکھیں گے اور دوسروں کو بھی صحت مند زندگی گزارنے کی ترغیب دیں گے۔




































