
ثمینہ الیاس
حیا کمزوری نہیں، عورت کی سب سے بڑی طاقت ہے ۔حیا کا مطلب خاموشی نہیں ، حیا کا مطلب خوف
نہیں اور نہ ہی حیا کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنی آواز، رائے یا صلاحیت کو چھپا لے،حیا دراصل شعور ہے۔حیا وہ روشنی ہے جو عورت کو یہ سکھاتی ہے کہ کہاں رکنا ہے،کیا کہنا ہےاور خود کو کس طرح باوقار انداز میں پیش کرنا ہے۔
آج کی عورت کو سب سے زیادہ جس بات میں کنفیوژن ہے وہ یہی ہے کہ یا تو حیا اختیار کرو، یا مضبوط بنو،حالانکہ سچ یہ ہے کہ حیا ہی عورت کو مضبوط بناتی ہے۔
حیا کیا ہے؟
خود کی قدر پہچاننا,اپنی حدود کا خود تعین کرنا،نگاہ، گفتگو اور لباس میں توازن رکھنا،یہ جاننا کہ سب کچھ ظاہر کرنا آزادی نہیں ہوتاحیا کیا نہیں ہے؟
ظلم سہنا،ناانصافی پر خاموش رہنا،اپنی تعلیم، ترقی یا رائے ترک کرنا،حق بات کہنے سے ڈر جانا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“حیا ایمان کا حصہ ہے”
کیونکہ حیا انسان کو گناہ سے روکتی ہے، کمزور نہیں بناتی۔ایک باحیا عورتاپنے فیصلے خود کرتی ہے،وہ کسی کے دباؤ میں نہیں آتی،وہ محبت کے نام پر خود کو ارزاں نہیں کرتی۔
اے میری پیاری بیٹی، اے میری بہن اور میری قابل عزت ماں!تمہاری عزت تمہاری حیا سے جڑی ہے،یاد رکھوتمہاری حیا تمہاری خاموشی کا نام نہیں۔اپنی آواز اٹھاؤ مگر وقار کے ساتھ۔آگے بڑھومگر اپنی اقدار کے ساتھ۔دنیا تمہیں بتائے گی کہ حیا پرانی سوچ ہے،مگر سچ یہ ہے کہ حیا وہ ڈھال ہے جو عورت کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔دن 14 فروری ہو یا سال کا کوئی بھی دن،عورت کا سب سے خوبصورت انتخاب حیا، خودداری اور شعور ہے۔





































