
صفورا جبین
تمام عبادات نماز روزہ حج زکوٰۃ قربانی کا ایک ہی مقصد ہے ،اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ۔اللہ نے خود قرآن میں سکھایا ۔
ان صلا تی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین
(سورہ انعام آیت 162 )
ماضی کے ولی اللہ ، اللہ کے قرب کے لیے ہر آن سرگرداں رہے ،جب سارا دن اللہ تعالیٰ سے رابطے میں ہوں تو خواب میں بھی اللہ سے اللہ کا قرب حاصل کرنے کا پوچھتے ۔ابو یزید بسطامی بتاتے ہیں اللہ نے فرمایا نفس کو پیچھے چھوڑ کریحییٰ البقا کے بارے میں امام جوزی لکھتے ہیں جب انہوں نے خواب میں پوچھا اللہ تو میری دعا قبول نہیں کرتا تو اللہ نے فرمایا تمہاری دعا سننا مجھے اچھا لگتا ہے ۔
ام احمد بن حنبل نے اللہ سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا
و بکلامی مراد میرے کلام کے ساتھ جڑ کر پوچھا سمجھ کر یا بغیر سمجھے، فرمایا دونوں طرح سے (برصغیر میں ایک وقت وہ بھی آیا جب کچھ اسکالرز نے قرآن کا ترجمہ کرنا چاہا تو انہیں کافر قرار دیا گیا اور ہمارے آباؤ اجداد سمجھے بغیر اللہ کے زیادہ قریب تھے) ۔ماضی کے ہابیل قابیل ہوں یا موجودہ دور کے فلسفہ قربانی کو سمجھنے والے ہابیل اورا سٹیٹس سمبل بنانے والے قابیل ہر دور میں نظر آتے ہیں،قرآن سے جڑے لوگ ہی ان خرافات سے محفوظ رہ کر قربانی کو بچا سکتے ہیں۔ نیکی کرنا آسان جبکہ سنبھالنا مشکل ہوتا ہے ۔
ابو دردہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت معاذ رضی اللہ نے کہا مجھے نصیحت کیجیے ،فرمایا اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے تم اللہ کو دیکھ رہے ہو ،کہنے لگے اللہ کو دیکھنے کا احساس کیسے پیدا ہو، فرمایا 3 طرح سے۔۔۔
خود کو مردہ تصور کرو کہ مردہ ہر آن اللہ کی قدرت دیکھ رہا ہو گا ۔۔
ہر درخت اور پتھر کے پاس اللہ تعالیٰ کو یاد کرو (ہم ہر وقت پتھروں میں ہی ہوتے ہیں)
جب گناہ ہو جائے تو نیکی کرو
قرآن حق ہے حق سے مراد نظام ہے ،مقصد ہے۔ قرآن اللہ کا قول ہے ،کائنات اللہ کا فعل ہے، اللہ کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں ،دونوں ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔۔
جماعت کا پروگرام ہر دل تک قرآن سرکاری سرپرستی میں ہو تو پاکستان کی کایا پلٹ جائے اور شریعت ایک ضرورت بن جائے اور لوگ رحمتوں کے سائے ہو ں مگر مصیبت یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان موسیٰ کے بھیس میں سامری ہیں، سامری نے بھی دین کے نام پہ الو بنایا آج بھی لوگ اسی نظام کو ووٹ دیتے ہیں جس نے ذلت اور محرومی کے سوا کچھ نہیں دیا۔
آج بنیان مرصوص میں چند گھنٹوں کے جہاد نے پاکستان کو دنیا میں سر بلند کر دیا اور پاکستانی سمجھ گئے ہمارے سلیبس سے جہاد کی آیات کیوں نکالی جا رہی تھیں۔۔ اللہ ہمیں اپنا قرب اور دین کی سمجھ عطا فرمائے ۔آمین
جو ملے حیات خضر مجھے اور اسے میں صرف ثناء کرو
تیرا شکر پھر بھی ادا نہ ہو تیرا شکر کیسے ادا کرو ں
تیرے لطف کی کوئی حد نہیں گنوں کس طرح کہ عدد نہیں
میں بھول جاؤں مجھے معاف کر مجھے بخش دے جو خطا کرو
تو رحیم ہے تو کریم ہےتو حلیم ہے تو عظیم ہے
ملیں ماہتاب و نجوم اگر تو میں روشنی سے لکھا کروں



































