
نگہت فرمان
حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک نام نہیں، یقینِ کامل کی وہ روشن مثال ہیں جن کی جدوجہد،تگ
و دو اور قربانی کو رب کریم نے قیامت تک انسانوں کے دلوں میں زندہ رکھنے کے لیے حج و عمرے کے لازمی ارکان میں شامل کردیا ۔وہ صبر کی ایسی عظیم مثال ہیں جن کی آنکھیں تو اشک بار ہوتی ہیں مگر دل اپنے رب سے بدگمان نہیں ہوتا۔تصور کریں تپتے صحرا میں ایک ماں اپنے شیر خوار کو سینے سے لگائے کھڑی تھی۔ریت دہک رہی تھی، ہوا آگ برسارہی تھی اور دور تک زندگی کا کوئی نشان نہ تھا۔مگر ان کے اندر یقین کا ایک پورا جہاں آباد تھا۔وہ جانتی تھیں کہ جس راستے پر اللہ لے آئے، وہاں تنہائی نہیں ہوتی۔
جب حضرت ابراہیمؑ کے قدم واپس پلٹے تو یہ جدائی کسی ناراضی کی نہیں، رضا کی جدائی تھی۔ایک طرف اللہ کے حکم پر سر جھکائے خلیل اللہ تھے، دوسری طرف اسی حکم پر سر تسلیم اطاعت خم کیے بی بی ہاجرہ تھیں ۔یہ محبت عام نہیں تھی بلکہ ایسی والہانہ و خاص تھی جس میں پورا گھرانہ شریک تھا وہ منظر بھی تاریخ میں محفوظ ہوگیا جب ایک ماں ممتا سے مجبور ہو کر صفا و مروہ کے درمیان دوڑ رہی تھی اس یقین کے ساتھ کہ جس رب کے حکم پر وہ اس بیاباں میں ہیں وہ انہیں ضائع نہیں کرے گا اور رب کو ان کی یہ ادا ایسی پسند آئی کہ رہتی دنیا تک اس یقین کو دوام بخشا اس عمل کو عبادت بنادیا۔
انھوں نے دنیا کو سکھادیا کہ مایوس ہونا ایمان والوں کا شیوہ نہیں ۔
سات چکر تھے معمولی نہیں میلوں کے فاصلے تھے مگر ہر چکر میں یقین تھا۔قدم تھک رہے تھے مگر توکل تھا۔پیاس بڑھ رہی تھی مگر دعا لبوں پر اور یقین دل میں تھااور پھر ریت کے سینے سے زم زم پھوٹ پڑا۔یہ صرف پانی نہین تھا بلکہ اللہ کی طرف سے ان کے یقین کی گواہی تھی، اعلان تھا کہ جو اللہ پر بھروسا کرتا ہے، اس کے لیے بنجر زمینوں میں بھی رحمت کے چشمے جاری ہوجاتے ہیں۔
آج صدیوں بعد بھی لاکھوں انسان صفا و مروہ کے درمیان دوڑتے ہیں تو دراصل بی بی ہاجرہ کے یقین پر رشک کرتے ہیں۔ایک ماں کی سعی کو یاد کرتے ہیں ،ایک ایسی ہستی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جس نے ثابت کردیا کہ عورت اگر اللہ سے جڑ جائے تو نسلوں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اسوہ بتاتا ہےخواتین کی گود میں صرف بچے نہیں پلتے، مستقبل پروان چڑھتا ہے۔کردار بنتے اور قومیں سنورتی ہیں ۔وہ ہمیں سکھاتی ہیں کہ آزمائشیں راستہ بند نہیں کرتیں بلکہ بعض اوقات وہیں سے زم زم پھوٹتے ہیں جہاں انسان کی امید ختم ہونے لگتی ہے۔



































