
ثمینہ الیاس
کراچی صرف ایک شہر نہیں، یہ خوابوں کی بستی ہے۔ یہاں ہر گلی میں امید کی کوئی کہانی بستی ہے اور ہر چہرے پر جدوجہد کی
لکیر ہے مگر افسوس! یہ شہر جو پورے ملک کو روزگار دیتا ہے، آج خود سانس لینے کو ترس رہا ہے۔ٹوٹے راستے، اُبلتے نالے، اندھیرے، بے خوف جرائم اور بے حس نظام،یہ سب کراچی کا مقدرکیوں بنا دیے گئے؟ ہیں جو شہر رات دن جاگ کر ملک کی معیشت کو سہارا دیتا ہے، اسے بار بار نظر انداز کیوں کیا جاتا ہے؟
یہاں کے لوگ صبر کی تصویر ہیں۔ بجلی نہ ہو تو پسینہ بہا کر کام کرتے ہیں، پانی نہ ہو تو دعاؤں سے گزارہ کرتے ہیں، امن نہ ہو تو بھی زندگی سے ہار نہیں مانتےمگر کب تک؟ کب تک کراچی کے باسی صرف برداشت ہی کرتے رہیں گے؟
کراچی کو صرف وعدے نہیں، توجہ چاہیے، صرف تقریریں نہیں، عملی انصاف چاہیے۔ یہ شہر لاوارث نہیں۔یہ پاکستان کی شہ رگ ہے، گر اسے زخمی رکھا گیا تو پورا جسم کمزور ہو جائے گا۔
آؤ! کراچی کو اس کا حق دیں۔ اسے امن، سہولت اور عزت دیں
جینے دو کراچی کو—کیونکہ اگر کراچی زندہ ہے، تو پاکستان زندہ ہے۔
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متففق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )




































