
خیر النساء
میرے وطن کے گلی کوچے ایک بار پھر وطن کے اپنے ہونہار سپوتوں کےباعث غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ بیروزگاری،غربت اور افلاس کے باعث سٹریٹ
کرائمز کا تناسب پھر سے بڑھ چکا ہے۔ اقبال کے شاہین قومی بے ضابطگیوں کے باعث کرگس کا روپ دھار چکےہیں۔ قوم کا قیمتی سرمایہ اورمستقبل کی معمار نوجوان نسل نظام کی پستہ حالی کے باعث بے راہ روی کا شکار ہو چکی ہے۔
تمام سرکاری شعبوں میں میرٹ کی بجائے سفارش اور رشوت کو ترجیح دی جا رہی ہے جس کے باعث نہ صرف حق داروں کا استحصال ہو رہا ہے بلکہ ملک کا تنظیمی ڈھانچہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔ ہر محکمہ کرپشن اور نا اہلی کے باعث پستہ حالی کا شکار ہے۔
دوسری طرف مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ ایک عام آدمی اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سےقاصر ہے۔ بجلی،گیس،پانی کی لوڈ شیڈنگ کے باعث نظام زندگی درہم برہم ہوچکا ہے۔ مزدور دن بھر مشقت کرنے کے باوجود اپنا اور اپنے کنبے کا پیٹ پالنے سے قاصر ہے۔ اپنے ٹومی کے لئے ائیر کنڈیشنز لگوانے والے حکمرانوں کی عوام سرما کی ٹھٹھرتی سرد ترین راتوں میں کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار پڑی رہی۔ اس سب کے بعد اگر غریب کو کوئی مہلک بیماری لگ جائے تو بیچارہ ہسپتالوں کے باہر ہی دھکے کھاتا ہوا جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے کہ آبادی کے مقابلے میں سرکاری ہسپتالوں کی تعداد انتہائی قلیل ہو چکی ہے۔
اس نازک وقت میں مشکلات سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہےکہ ملک کی باگ ڈور ایمان دار اور با صلاحیت قیادت کے سپرد کی جائے جو ملک کا نظم و نسق اعتدال کے ساتھ چلا سکے۔ عوام اپنی قسمت کا فیصلہ دانشمندی سے کریں۔ ملک کو لوٹ کر کھانے والوں سے اپنی پیاری مملکت کو بچا کر رکھیں۔ اب ہمیں جان لینا چاہیے کہ راہ نجات صرف اور صرف کتاب وسنت پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔ اسی صورت میں ہم پر اللہ کی رحمت کا نزول ہو سکتا ہے ورنہ ہم بحثیت قوم برسوں اسی معاشی،سماجی،اخلاقی اور معاشرتی بحران کا شکار رہیں گے جس میں کئی دہائیوں سے مبتلا ہیں۔ اب پاکستانی قوم کو خود بد عنوانی کے خلاف ہم آواز ہو کر اٹھنا ہو گا۔کیونکہ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
جسے ہو نہ خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا





































