
لطیف النسا
سبحان اللہ!کتنا اچھا پیغام تھا جو میری ہی سوچ تھی۔ لوگ شدت پسند کا لفظ استعمال کرتے ہیں کہ فلاں شدت پسند ہے اور یہ کہ ہر چیزکی زیادتی
یقیناً بری ہوتی ہے لیکن اگر ہم اللہ کی محبت میں شدید ہو جاناہر بندے کا شوق ہو نا چاہئے کیونکہ اس میں بڑی ہی طاقت ہے کیونکہ کہا گیا کہ واحد اللہ کی محبت ہی پکی اور سچی ہے جسمیں ہمیں حیا اور بے حیائی میں فرق دِکھنے لگتا ہے۔
انسان کسی دوسرے رشتے سے مطلب شوہر، بیوی، ماں، باپ بیٹی یا بیٹے سے بے شک بے حد اور بے لوث محبت کرتے ہیں مگر پھر بھی ہماری محبت اُن سے اتنی شدیدکبھی بھی نہیں ہوسکتی جتنی اللہ کی محبت سے تبدیلی آتی ہے یعنی ہر برائی کو چھوڑ کر بندہ اپنے آپ کو تبدیل کر دیتا ہے۔ اسی اللہ کی محبت کی وجہ سے ہمارے اندر اتنی طاقت آجاتی ہے کہ ہم برائی کو زورِبازو سے دور کر کے بھلائی اپنے قریب کرلیتے ہیں۔ دوسروں سے محبت تو عارضی ہوتی ہے کسی بھی وقت ان میں کمی آجاتی ہے۔ہم کسی انسان کی محبت میں اپنے آپ کو اگر بدلنا چاہیں بھی تو تھوڑا بہت وہ بھی چند دنوں تک، یہ محبتیں بھی تبدیل ہوتی رہتی ہیں کبھی کسی سے، تو کبھی کسی سے، یہ محبت تو کسی فرد کے متاثر ہونے سے بھی ہو جاتی ہے وہ بھی عارضی کیونکہ کسی دوسرے ماحول میں ہم اس محبت پر اتنی شدت سے قائم بھی نہیں رہ سکتے مگر واحد اللہ کی محبت ایسی ہے جس میں ہمیں شدید ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ برائی کو چھوڑنا اوراچھا ئی کو اپنانا صرف اللہ کی محبت اس کی شکر گزاری اور اس کی رحمت کے وجہ سے ہوتی ہے۔اللہ کی طرف سے اللہ کی محبت اگر خالص ہو اور شدید ہو تو ہی ہم اپنے اندر ایک تبدیلی دیکھتے ہیں کیونکہ اسی تبدیلی کا اثر ہمیں اپنی روح تک محسوس ہوتا ہے۔ ہر برائی سے بچ کر سکون اور تھوڑا بھی برا ہو جائے تو بے سکونی کا محسوس ہونا صرف اللہ کی محبت اور شدید محبت پرمنحصر ہے۔ بندوں کی محبت میں وہ شدت ہو ہی نہیں سکتی، دراصل ہم دوسروں سے بلکہ اپنے خونی رشتوں سے بھی دراصل اللہ کی محبت کی وجہ سے ہی محبت کرتے ہیں بس یہ بات ہمیں اچھی طرح سمجھ آجانی چاہئے۔ یہ لفظ صبغۃ اللہ مجھے بڑی دیرمیں سمجھ آیا۔ اللہ کا شکر ہے۔ جتنا بھی سمجھ آیا یہ بھی میرے رب کا فضل ہے ورنہ جب تک اس خالق، مالک،رازق کا حاکم کا صحیح شعورنہ ہو اس کے رنگ سمجھ نہیں آتے جب میں نے پہلی مرتبہ پڑھا تھا تو خود بخود دل چاہتا تھا کہ کیسا ہوتا ہے اللہ کا رنگ؟ کائنات میں ہر جگہ ہر طرف اسی کے رنگ بکھرے ہیں۔ واقعی سچ ہی تو ہے:
تیرے رنگ رنگ، تیرے رنگ رنگ
میں جہاں بھی جاؤں دنیا میں۔
تیرے جلوے ہیں میرے سنگ سنگ
تیرے رنگ رنگ، تیرے رنگ رنگ
بعض مرتبہ حالات سے تنگ آکر بندہ شکایات پرابھرتا ہے،پریشا ن ہو جاتا ہے، کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ سمجھتا ہے کہ ہم بنا کسی وجہ سے بنا کسی قصور کے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، توڑے جا رہے ہیں۔ جتنا سہہ رہے ہیں اتنی ہی اذیت دوبارہ آ جاتی ہے بڑھتی ہی جاتی ہے۔ جتنا اللہ کی جانب بڑھتے ہیں اتنا راستہ تنگ اور مشکل بھی ہوتا جاتا ہے۔ لیکن وہی اپنا یقین اور پختہ ایمان کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی اور اگرہمیں کبھی ایسا لگے تو ہمیں دوباتیں تو معلوم ہی ہیں کہ کبھی مایوس نہ ہونا، نا امید نہ ہونا رب کی ذات سےاور یہ کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ظاہر ہے وہ جورب ہے وہی تو سب ہے اسکا معیار ہی اتنا بلند ہے کہ ہماری سوچ نہیں پہنچ سکتی وہ تو اپنے بندوں کو بہت ہی چاہتا ہے انھیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ آپؐ کو بھی جسطرح مشکلات اور تضاد حالات پر تسلی دی گئی تھی" وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضیٰ " یعنی عنقریب تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تمہیں راضی کر دے گا۔ یہ ظاہر ہے صبر کرنے والوں کیلئے انکے رب کا وعدہ ہے۔ اور اللہ کے وعدے ہمیشہ ہی سچے ہوتے ہیں، پکے ہوتے ہیں۔ بس ان وعدوں پر پکا یقین لانا ہی در اصل ہمارے یقین کا امتحان ہے۔ چھوٹے بچے کو اپنی ماں پر کتنا یقین اور کتنی محبت ہوتی ہے جب وہ بے بس ہوتا ہے۔ اگر چہ بڑے ہوکر اتنی شدت نہیں ہوتی بالکل اسی سے کہیں زیادہ محبت اور شدت ہمیں اپنے اندر اپنے رب رحیم کیلئے بسانی ہوگی جب ہی ہم اور ہمارے اعمال خالص ہو سکتے ہیں۔
آخر کار جب ہر بندہ خالص شے پسند کرتا ہے اوراسپیشیلٹی چاہتا ہے تو کیا میرا رب اس کا سب سے زیادہ حقدار نہیں؟ خود ہی جواب نکلتا ہے کیوں نہیں!بس اے رب رحیم ہمیں اپنی محبت میں خالص کر دے، شدید کردے تو اس دنیا کے سارے فتنے فساد خود بخود ختم ہو جائیں۔ مگر بندوں کو بھی اس کی محبت کیلئے مخلص ہونا پڑے گا،ہر جگہ ہر وقت ہر معاملے میں خالصتا ً رب کی رضا کے تابع اور فرمان! کسی کا کوئی ڈر نہ خوف بس مجھے میرے رب کیلئے سب کچھ کرنا ہے۔
رب کی رضا کیلئے گو یاو ہی بات کہ دعا کریں کہ غفلت دور کرکےمیرا دل اپنے فضل سے بدل دے کیونکہ جو شخص نیکی لیکر آئے گا تو اس کیلئے دس گناثواب ہے تو کیوں نہ اس دعا کو ہی عملی جامہ پہناتے رہیں کہ میری نماز میری قربانی میرا جینا اور مرنا اللہ کیلئے ہے جو کہ عالمین کا یعنی سارے جہاں کا رب ہے تو کتنی محبت محسوس ہوتی ہے۔ اسی لیئے ہمیں ایک دوسرے کیلئے بھی اور خود اپنے لئے بھی ایمان میں پختگی کی دعائیں مانگتے رہنا چاہیے۔





































