
رانا خالد محمود قیصر
سچل سرمست اورشاہ عبداللطیف کےسوانح نگاروں نےاکتارہ اور تنبورے کا ذکر کیا ہے۔ ان موسیقی کےآلات کو سندھ صوفی ازم کا جزو لازم
قرار دیا جاتا ہے۔کچھ یہی حال مولانا رومی کے ہاں ملتا ہے کہ رقص میں وجد کرنے کے بعد رقص کرنے کے لئے سرکنڈے سے بنائی ہوئی بانسری مرلی سے مسحور کن سر لوگوں کے اذہا ن اور قلوب کو سرمستی اور سرشاری کے قریب کر دیتے تھے۔ صوفیاءکی شاعری میں اخلاقیات اور روحانیت کا درس ملتا ہے۔ یہی حال ہمیں عصر رواں کے ممتاز اور کہنہ مشق شاعر راجا کوثر سعیدی کے ہاں نظر آتی ہے کہ وہ نوائے کوثر انااعطینٰک الکوثر کے نام پر دو شعری مجموعے منظر عام پر لا چکے ہیں جس میں نوائے کوثر ایک غزلیہ مجموعہ جب کہ دوسرا شعری مجموعہ نعتیہ مجموعہ ہے۔ دوسرا شعری مجموعہ ہمیشہ شاعر کی شاعرانہ کاوش پر استحکام کی روایت کی کڑی ہوتی ہے۔ وہ اپنے کلام کی نیت میں ماہر ہیں اور اظہار کا سلیقہ جانتے ہیں جس کا اظہار ان کے شعری مجموعے میں جا بجا ضو بار ہے۔ وہ ایک فعال شعری سفر کے حامل ہیں۔ یہ شعری سفر تازہ کاری، ندرت خیالی اور وسیع شعری کینوس کا عکاس ہے۔
اک سمندر پر نہ برسو رات دن
دشت میں بھی بادلو جل تھل کرو
بادہ خواروں کی شکایت کا ازالہ ہو گا تب
مے کدے کا ہم کو بھی ساقی بنا کر دیکھئے
درج بالا اشعار میں سمندر، دشت، بادلو، جل تھل، بادہ خواروں،مے کدے اور ساقی کی لفظیات کا استعمال ان کے شعری فکر و فن پر دلالت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ سارے زمانے کا دکھ بیان کر رہے ہیں اور یہی خدمات بہتری اور خوش حالی کے لئے پیش کر رہے ہیں۔ یہ ان کی درون ذات کی کیفیت کی عکاسی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ شاعر بہ حیثیت انسان ہر چیز پر مداوا، دادرسی اور عنایت اپنے محبوب سے وابستہ کر لیتا ہے۔ جب کہ حسرت و یاس، حزن و ملال اور ہجر کے لمحات کو وہ جان لیوا لمحات قرار دیتا ہے۔ محبوب کی داد رسی اور ہجر و فراق کا سوز و گداز ہی دراصل روایتی شاعری کی اصل روح اور چاشنی ہے۔
چاند نے تارے نہ گننے کی اجازت ہم کو دی
رات کے پہلو میں بے آرام ہو کر رہ گئے
ڈھلتا گیا ہے حسن بھی سورج کے ساتھ ساتھ
اب شب سے پوچھنے کی بھی حاجت نہیں رہی
قافلے جانے کہاں پہچان پائیں گے انہیں
راہزن ہوتے ہوئے بھی میر بن جاتے ہیں لوگ
راجا کوثر سعیدی کا سفر اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے۔ وہ اس میں سب کو شریک کر کے اجتماعی سطح کا پیغام عام کرنے کی جستجو میں ہیں۔ یہ جذبہ ان میں سرمستی، سرشاری اور وجد طاری کر دیتا ہے۔ یہ ماحول کوئی ماورائی ادا نہیں ہے۔ یہ ادا اور فضا ان کے شرف و توقیر میں اضافہ کر رہا ہے۔ کہتے ہیں:
جانے کس روز تیری یاد کا بادل گرجے
اپنی آنکھوں میں جو آنسو ہیں چھپا رکھتے ہیں
چھوڑ آیا میں حد ادراک سے آگے اسے
آنہ جائے کل کلاں گھر میں وارفتگی
راجا کوثر سعیدی کے ہاں نوحہ بطور علم بغاوت کے بجائے شائستہ اطوار کی صورت میں ملتا ہے۔ ایسی نمائندگی اور ادبی صورت حال ان کی فکری و فنی اورتہذیبی نشونما کی عکاسی کرتی ہے اور یہی ان کا شاعرانہ وقار ہے۔
اخلاص خزینے ہوں جس گھر میں سدا کوثر
خالی انہیں کرنے میں کچھ وقت تو لگتا ہے
مجھ کو اپنی ذات کا عرفان حاصل ہو گیا
مہربانی، شکریہ بار دگر دیوانگی
ایک شاعر کے کلام میں محبوب سے جدائی کا منظر،عشق و دیوانگی، نت نئے تجربات کا ہنر ابلاغ و تر سیل ہے جو زندگی کی رعنائیوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی نظر آتی ہے۔ یہ جذب، سرشاری اور عقیدت شاعری کا حسن ہے۔ راجا کوثر سعیدی بھی ایک وسیع المطالعہ شاعر ہیں۔ راجا کوثر سعیدی حال کی بات تو کرتے ہی ہیں مگر اپنے فکری و فنی شعور کی مدد سے ایک توانا پیغام مستقبل کے لئے دیتے ہیں۔ یہی نکتہ ہمیں شاعر مشرق حکیم الامت علامہ اقبال کی شعری اپچ میں ملتا ہے۔ اقبال کی شاعری آج بھی قبول عام کی سند رکھتی ہے کوثر کے کلام میں بھی ایسے اشعار ملتے ہیں جو امید ہے کہ ان کے شعری اسلوب کو آگے بڑھائیں گے ۔ جیسا کہ ذیل کے اشعار
زور چلتا ہو جہاں تک سو چھپائے رکھنا
داغ سینے پر ابھر آئے تو پھر دیکھیں گے
ہاتھ آیا ہے کبھی گوہر نایاب بھی یوں
صوفیو!عقل کرو جس کو پانا ہے اسے ڈھونڈو
راجا کوثر سعیدی خوش نصیب شاعر ہیں کہ اللہ نے انہیںحمد و نعت کہنے کی سعادت بخشی اور اپنے خیالات، احساسات اور جذبات کو بیان کرنے کی قدرت غزل کی صورت میں بخشی۔ ان کے ہاں انسانیت سے محبت کی چاشنی، برجستگی، بے باکی، سرمستی و سرشاری اور عشق کا والہانہ پن جیسے آب و تاب سے ان کے شعری سفر کی عکاسی کر رہے ہیں۔ کوثر کے کلام میں آشوب، دیوانگی، وحشت و جنون اور آشفتہ سری جیسے موضوعات کم کم ہیں۔ وہ روایت کے پیروکار ہیں مگر جدید عہد کے مضامین سے بھی واقف ہیں اور گاہے بگاہے عصری مضامین بھی بیان کرتے ہیں مگر اغلب حصہ روایت پر مشتمل ہے۔ ان کی زبان میں سلاست و سہل ممتنع کی چاشنی ہے۔ تراکیب و محاورہ کا استعمال مستعمل کر دیا گیا ہے۔ روایت پسندی کو جدت سے متاثر نہیں کیا۔ ان کی قدرت طبع کا کمال ہے کہ وہ احسن انداز میں اپنا شعری سفر جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنی جولانئی طبع کے سہارے اچھے اشعار تخلیق کر رہے ہیں۔ دونوں شعری مجموعے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی ادبی حیثیت کو ایک شناخت عطا کی ہے۔ دعا ہے کہ ان کا یہ ادبی سفر یونہی جاری ہے۔




































