
رانا خالد محمود قیصر
افرادی قوت، معتدل موسم اور قدرتی وسائل ایک ملک اور قوم کیلئے سرمایہ ہوتے ہیں۔ خوش قسمتی ہےکہ پاکستان ان نعمتوں
سے مالا مال ہے۔ 62 فیصد نوجوان آبادی کا حامل ملک نہ جانے کیوں پریشان ہے۔ معتدل موسم ہماری زراعت کیلئے نعمت خداوندی کا درجہ رکھتی ہے۔ قدرتی وسائل سے بھرپور دفینے قدرتی راز افشا ہونے کے منتظر ہیں۔ پاکستان کے جفاکش عوام قدرت کی عطا کردہ نعمتوں سے استفادہ کرنے سے قاصر ہیں، پانی کے بے جا زیاں نے ہمیں قدرتی نعمت سے دور کر دیا ہے۔
کشمیر کی مرغزار وادیوں،دریائےسوات، دریائے کابل اور دریائےسندھ کا بپھرا ہوا پانی جب جہلم، چناب کی نہروں سے ملتا ہے اپنی غیرمعمولی طاقت کےسہارے بدمست ہاتھی کی مانند قدرتی مناظر کو تہس نہس کرتا ہوا مینگروز سے اُلجھتا ہوا بحیرۂ عرب سے جا ملتا ہے، یہ بے قابو اور وافر مقدار میں عطا کر دہ پانی فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتا ہوا دریائے سندھ کے کناروں سے اُبلتا ہوا لوگوں کی املاک کو تباہ کر دیتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ قدرت کی عطا کردہ یہ نعمتیں ضائع کیوں ہوتی ہیں۔اقوام عالم اس بارش کی پانی کو ترستے ہیں جو پاکستان میں ہر سال ضائع ہو رہا ہے۔
جب پانی کے عطیۂ خداوندی کو ذخیرہ کرنےکی بات آتی ہے تو پہلی نظر کالا باغ ڈیم پر پڑتی ہے۔داسو، بھاشا اور دیگر چھوٹے چھوٹے پانی کے ڈیم اپنی بساط کے مطابق پانی کا ذخیرہ تو کرتے ہیں مگر یہ چھوٹے چھوٹے ڈیم بارش کے پانی کا دباؤ برداشت نہیں کرسکتے۔ لبالب بھرنے کے بعد بندوں کا ٹوٹ جانا ہرسال تباہی مچاتے ہیں۔کوہ سلیمان اور کیرتھر کی پہاڑیوں سے آنیوالا بارش کا پانی تباہی کا سامان بن جاتا ہے۔ ان پہاڑیوں سےآنےوالا پانی کا بہاؤ اتنا شدید ہوتا ہے کہ راستے میں آنیوالے سڑکوں اور ریلوے کی آبی گزرگاہوں کو تباہ کر دیتا ہے۔
دوسرا المیہ یہ ہے کہ مقامی زمینداروں، جاگیرداروں نے پانی کی قدرتی گزر گاہوں کو بند کر کے قبضہ جما لیا ہے، ان آبی گزرگاہوں کی زمینوں پر زراعت، فصلیں کاشت کی جارہی ہیں لازمی ہے کہ ہم قدرت کی صناعی کو بدل تو نہیں سکتے اس کا نقصان مصنوعی راستے تلاش کرنے کیساتھ ساتھ کاشت شدہ فصلوں کی تباہی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اکثر وبیشتر مال مویشی بھی بہہ جاتا ہے جو کہ سالوں کی کمائی ہوتی ہے۔
دریا کے قدرتی بہاؤ میں ایک اہم رکاوٹ کچے کی زمینوں میں برداشت سےزیادہ کاشت کاری بھی ہے۔ پاکستان کے طول وعرض پر پھیلے ہوئے دریائی اور نہری نظام اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
کسانوں اور زمینداروں کو ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنتا ہےان عوامل کا تدارک ضروری ہے۔
کیا ہم 74 سال سے زیرالتوا کالا باغ ڈیم کو بنا سکتے ہیں، کالا باغ ڈیم کو دیوتا اور نجات دہندہ کا درجہ 1950 میں دیا گیا تھا مگر اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہم اس نجات دہندہ کو پاؤں پر کھڑا نہیں کرسکے۔ ہاں ایک بات ہے کہ گزشتہ 45 سالوں سے کالا باغ ڈیم پر سیاست ضرور ہورہی ہے۔ منصوبہ سازوں نے کالا باغ ڈیم کو زراعت اور توانائی کے شعبے کو مضبوط کرنے کیلئے اہم قرار دیا تھا۔ ایک سروے کے مطابق کالا باغ ڈیم کا ابتدائی تخمینہ پانچ ارب ڈالر لگایا تھا جو اب ایک بے قابو عفریت کی مانند نہ جانے کہاں پہنچ چکا ہوگا۔واویلا یہ مچایا گیا کہ اس ڈیم کی تعمیر سے نوشہرہ ضلع کو نقصان پہنچے گا اور نوشہرہ ڈوب جائیگا حالانکہ نوشہرہ کی حفاظت کیلئے ڈیم کی اونچائی بھی کم کر دی گئی تھی (مجوزہ)۔ دریائے ستلج اور دریائے بیاس کی ویرانی کے بعد بہاول پور اور بہاول نگر کے وسیع رقبےویران پڑے ہیں۔ اس ضمن میں صوبہ سندھ کا موقف ہے کہ اس وقت جو پانی پختونخوا اور سندھ کی زمینوں کو سیراب کر رہا ہے وہ کالا باغ ڈیم کی صورت میں صرف اور صرف پنجاب کی زمینوں کو سیراب کرے گا۔
دیگر اعتراضات میں منگلا اور تربیلا کی تعمیر کےبعد گوٹری،بیراج کا ویران ہونا ہے۔ دریائے سندھ کے بہاؤ سے سندھ کے ڈیلٹا کی سیرابی بھی مقصود ہے جس کی وجہ سے سمندر کا خشکی کی طرف بڑھنے سے روکنا اور منگروز کی نشو ونما بھی ہے۔ سندھ میں آبی حیات کی کمی، کراچی کو پانی کی فراہمی میں کمی بھی اہم وجہ ہے۔یہ درست ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی صورت میں پنجاب پر تنقید سامنے آئی ہے۔ بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں وفاق اور پنجاب پر عدم اعتماد کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے 26 مئی 2008 کو کہا تھاکہ ''کالاباغ ڈیم عوامی رائےہموارہونے کےبغیرہرگزنہیں تعمیر کیا جائیگا، مزید یہ کہ صوبہ خیبر پختونخوا، سندھ اور دوسرے فریقین کی مخالفت کی وجہ سے یہ منصوبہ قابل عمل نہیں رہا''۔ اسی موضوع پر پاکستان کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ''اس منصوبہ کی قسمت دراصل عوامی رائے پر منحصر ہے، اس منصوبے کو پس پشت ڈال کر ہمیں دوسرے مسائل کی طرف توجہ دینی چاہئے اور بجلی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے متبادل منصوبوں پر غور کرنا ہوگا چونکہ یہ منصوبہ انتہائی متنازع شکل اختیار کر چکا ہے، حکومت اس بند کی تعمیر کیلئے کسی دوسری موزوں جگہ کی تلاش میں ہے''
قدرت کی نعمتیں اپنے بندوں، چرند وپرند، نباتات وجمادات کیلئے جاری وساری ہے۔پاکستان میں یہ نعمت بصورت پانی کے ہر سال رحمت ونعمت کی بجائے زحمت بنتی جارہی ہے۔ اگر آپ کالاباغ ڈیم کے نام سے ہی الرجک ہیں تو اس کا نام بدل لیں یا مقام بدل لیں۔ دیگر علاقوں میںکشمیر تا سندھ، پختونخوا تا بلوچستان ایسے مواقع موجود ہیں جن پرچھوٹےبڑے ڈیم پانی کے ذخیرے کیلئے قائم کئے جاسکتے ہیں۔ حالیہ یوٹیوب/ فیس بک سے ایک معلومات شیئر ہوئی ہے کہ چکوال کے ایک زمیندار نے پندرہ ایکڑ پر ایک ڈیم بنایا ہے جس میں برساتی پانی ذخیرہ کرکے آس پاس کے متعدد گاؤں سیراب ہو سکیں گے۔ ان کا مستقبل میں اس ذخیرۂ آب سے بجلی پیدا کرنے کا بھی ارادہ ہے۔ اس طرح اور زمیندار بھی اس سےاستفادہ کر سکتے ہیں۔
پانی کے وسائل کو مفید بنانے کیلئے ضرورت اس بات کی ہےکہ وفاق اور وفاق کی اکائیوں میں اعتماد پیدا کر کے ایسے منصوبے بنائے جائیں جس سے پانی کا ذخیرہ زراعت وبجلی کیلئے استعمال ہو سکے۔ اس ضمن میں تمام صوبوں کے مفادات کو مقدم رکھا جائے تاکہ رائے عامہ ہموار ہوسکے۔ پاکستان چونکہ ایک زراعت پر انحصار کرنیوالا ملک ہے لہٰذا پانی کو ضائع ہونے سے ہر حال میں بچانا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے ہمیں ذاتی مفادات اور سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھنا ہوگا۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔




































