
رانا خالد محمود قیصر
گزشتہ دنوں الائیڈ بینک کی سالانہ عمومی اجلاس ہوا،اجلاس میں بینک کے حصص یافتگان نےشرکت کی۔ الائیڈ بینک کے کچھ ہی فیصد حصص بینک مالکان سے بچے رہ گئے
ہیں، جن ملازمین کے پاس بینک کے حصص موجود ہیں انہوں نے اس اجلاس میں شرکت کی۔ عمومی کارروائی کے بعد ارباب اقتدار نےملازمین یا حصص یافتگان سے ایک مختصر سی ملاقات کی۔ پنشنرز نے ایک صفحہ پرمشتمل ایک یاداشت پیش کی جس میں اختصار کے ساتھ اہم نکات درج تھے۔
اجلاس کے بعد غیر رسمی گفتگو میں بینک کےوہ ڈویژنل ہیڈ شریک تھےجو ہر ایک عدالتی تاریخ پرتواترسے پیش ہو رہے ہیں۔ یہ اعلیٰ افسرہرایک نازک پہلو پر دسترس رکھتا ہےمگر اجلاس کے بعد غیر رسمی گفتگو میں یوں ظاہر کر رہے تھےجیسے انہیں کسی بارے میں پتہ ہی نہ ہو۔
کچھ دنوں سے پنشنرز نے ہیڈ آفس لاہور کےسامنےاپنی پنشنرز کےحقوق کیلئےمظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرہ نظم وضبط وامن وامان کے حوالےسے یادگار تھا۔اس پر بھی الائیڈ بینک کی انتظامیہ نےپولیس کو طلب کر لیا۔ مذاکرات کے بعد پنشنرز کے نمائندوں نے اس یقین دہانی پر کہ آپ کے مطالبات کیلئے مذاکرات کا کوئی دن مقرر کر لیتے ہیں۔ پنشنرز متاثرین نے جب اعلیٰ افسران سے رابطہ کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ابھی رمضان المبارک کے دن ہیں بعد میں کوئی دن طے کر لیتےہیں۔
یہاں سوچنے کی بات یہ ہےکہ ''کیا رمضان المبارک میں بینک اپنا کاروبار بند کر دیتا ہے۔ وہ ملاقات کا وعدہ ابھی تک پورانہیں ہوا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پنشنرز کو کم ازکم پنشن 8000 روپےادا کی جائے گی مگر الائیڈ بینک انتظامیہ نےاس میں بھی کوئی نرم گوشہ نکال ہی لیا اورمحض 26 پنشنرز کو 8000 ادا کرکےباقی کو خیرباد کہہ دیا۔ یاد رہے کہ اس معاملے میں توہین عدالت کی درخواست عدالت میں تاریخ لگنے کی منتظر ہے۔
بائیس پنشنرز کا مقدمہ تکمیل کےمرحلے میں ہے۔ پشاور کورٹ نے متفقہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو معاونت کیلئےمقرر کیاہےجس کےذمہ یہ کام ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کے مطابق اعداد وشمارجمع کروائے تاکہ پنشنرز کو ان کے بقایاجات اور نظرثانی شدہ پنشن ادا کی جائے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق آخری بنیادی تنخواہ، سروس کی مدت آخری پنشن کی رقم ادا کی جائے گی جبکہ عدالتی فیصلے کے مطابق جو طریقہ کار برائے پنشن 22ملازمین ہوگا وہ طریقہ کار تمام ریٹائرڈ ملازمین پر لاگو ہوگا۔ یہ معاملہ تقریباً پانچ سال سے اپنے منطقی انجام کا منتظرہے۔
عدالتوں سے انصاف تو مل جاتا ہے مگر اس میں دیر بہت لگ رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ عدلیہ میں عملہ کی کمی بھی ہے جبکہ دیگر عوامل میں بے وجہ لمبی تاریخیں اہمیت کی حامل ہیں۔الائیڈ بنک کے ریٹائرڈ ملازمین اپنے مقدر کے فیصلے کے منتظر ہیں کہ کب دادرسی ہو اور ملازمین آسودہ حال ہوسکیں۔
ریٹائرمنٹ کی طبعی عمر 60 سال کے بعد پنشنرز زبوں حالی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی کسی کے بچے اچھی نوکریوں پر لگ جاتے ہیں تو وہ آسودہ حال رہتے ہیں، باقی جن پر ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں وہ پریشان رہتی /رہتے ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ بیماریوں کیساتھ زندگی گزار رہےہیں، کسی ریٹائرڈ پنشنر کی دوائیں 12ہزار ماہانہ میں آتی ہیں مگر ان کی پنشن محض 4000 روپے ہے۔
الائیڈ بینک کی انتظامیہ سے تمام ریٹائرڈ ملازمین کی جانب سے گزارش کی جاتی ہےکہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے اور عدالتی فیصلوں کے تمام پہلوؤں پر حقیقی انداز میں عمل کر وا کر ریٹائرڈ لوگوں کی دعائیں لیں۔
پنشنرزابھی تک کم از کم ماہانہ پنشن 8000 سے بھی محروم ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ الائیڈ بینک کے مالکان، ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ اور قانونی شعبے پنشنرز کی دادرسی میں مزید کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے تاکہ پنشنرز کے دیرینہ مطالبات کو عدالتی فیصلے کے مطابق عملی جامہ پہنایا جاسکے۔اس طریقے سے پنشنرز اپنی بقیہ ماندہ زندگی شاید آرام سے گزار سکیں۔




































