
رانا خالد محمود قیصر
آج کل اخبارات میں ایم ڈی کیٹ کے امتحانی نتائج پر شکوک کا اظہار کیا جارہا ہے۔ متاثرین نے عدالتوں سےبھی رجوع کیا ہے جس پر بیان بازی مناسب
نہیں۔ اعتراض یہ کیا جارہا ہے کہ 200 میں سے 192 یا اس سے زیادہ نمبر کیسےحاصل کئے؟ اس کا واضح جواب یہ ہے کہ پاکستان کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے بورڈز کے نتائج کا جائزہ لیں تو آپ کے سامنے یہ بات آئے گی کہ تعلیمی بورڈز میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن اکثر 93 فیصد سے زیادہ پر آتی ہے۔ اگر وفاقی تعلیمی بورڈ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ پہلی، دوسری اور تیسری پویشن 96 فیصد تک پہنچ جاتی ہے تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ 200 میں سے 192 نمبر لینا ان طلبا کیلئے کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
ہر سال ایم ڈی کیٹ کےامتحان پر یہی اعتراض اُٹھتاہےکہ پیپر لیک ہوگیا جس کی وجہ سےکچھ طلباء نے اس کا ناجائز فائدہ اُٹھایا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اُن عوامل کا جائزہ لیا جائے کہ پیپر لیک کیسے ہوا؟ اس عمل میں کون کون ملوث رہے؟ اُن کو سزا کیا ملی؟ کیا ہر سال پیپر بنانے والے لوگ / عامل وہی ہیں جو ہر سال پیپر بناتے ہیں۔ انکوائری کمیشن کی رپورٹ کا کیا بنا؟ کیا تحقیقی رپورٹ حقیقت پر مبنی تھی؟ وغیرہ وغیرہ۔
گزشتہ کئی برسوں سےطلباء متاثر ہو رہے ہیں۔ دوبارہ ٹیسٹ لینےوالوں کویہ بھی سوچنا چاہئے کہ متاثرہ طالب علم کے نمبرز پہلے نتیجہ سے کم ہوجاتے ہیں کیونکہ اس عمل کے دوران طلباء کا مورال گر جاتا ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں زیادہ نمبر اور دوبارہ ٹیسٹ میں کم نمبر لینے پر انہیں میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں مل پاتا جس سے معاشرے میں مایوسی پھیل جاتی ہے، اس مایوسی کا اثر دیگر طلباء پر بھی پڑتا ہے۔
ایم ڈی کیٹ میں حصہ لینے والے اکثر طلباء کوچنگ سینٹر میں دو سال تجرباتی مراحل سے گزرتے ہیں، انہیں زبان عام میں ''رٹو توتے'' کہتے ہیں یہ طلباء اپنے ہر ٹیسٹ میں دل وجان سے تیاری کرتے ہیں اور اکثر طلباء ان ماہانہ، ہفتہ وار امتحانات میں 90 فیصد اور 94 فیصد نمبرز حاصل کرتے ہیں۔ یہ سوالات وہی ہوتے ہیں جو ایم ڈی کیٹ کے سالانہ امتحانات میں پوچھے جاتے ہیں کیونکہ سوالات مجوزہ کورس سے ہی لئے جاتے ہیں۔
ان طلباء کو کوچنگ سینٹرز میں بارہا ان مواقع سے گزارا جاتا ہے اور یہ رٹو توتے اس معرکےکیلئے تیار رہتے ہیں۔ ان کے اعلیٰ وارفع نتائج پر شک نہیں کرنا چاہیے۔میرے مطالعے میں یہ بات ہے کہ ایک طالب علم اپنے ایم ڈی کیٹ امتحان میں دوسری بار بیٹھا اور اچھے نمبرز حاصل کئے مگر شور وغلغلہ اُٹھا کہ پیپر لیک ہوگیا ہے۔ کمیشن بیٹھا، تحقیقات ہوئیں اور دوبارہ ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں اس طالب علم کے نمبرز کم آئے اور وہ میڈیکل کالج میں داخلے سے محروم رہ گیا۔ مایوسی کی ایک اور فضا پیدا ہوگئی۔
اسی طرح سے میں ایک ایسے طالب علم کو جانتا ہوں جس کا سفارش سےدوردورتک تعلق نہیں ہے۔ ذہین طالب علم نے ایک بار پھر اعلیٰ نمبرز حاصل کئے ہیں اور میڈیکل کالج میں داخلے کیلئے پر تول رہا ہے، اگر اس موقع پر دوبارہ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ لیا جائے تو ممکنات میں سے ہے کہ یہ طالب علم مقررہ معیار سے کم نمبر لے اور داخلے سے محروم رہ جائے، یہ معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہوگا۔
اگر ایم ڈی کیٹ کا پیپر لیک ہو بھی جاتا ہے تو اس کا فائدہ بہت کم لوگوں کو پہنچتا ہے جبکہ دوبارہ ٹیسٹ کی صورت میں زیادہ نمبر لینے والے طلباء کم نمبر لیتے ہیں اور ایک بار پھر مایوسی پھیل جائے گی۔
شبانہ روز محنت کرنیوالے یہ مستقبل کے معمار اس بات کے متقاضی ہیں کہ خداراشفاف امتحانی طریقہ ہی واحدحل ہے۔ یہ معاملہ ہمارے ہاں ہی کیوں ہوتا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں کہیں ایسا نہیں ہوتا، اگر ہوتا ہے تو صرف اور صرف میرٹ پر۔ مگر ہمارے ہاں آج تک اور ہر سال ایم ڈی کیٹ کے پیپر آؤٹ ہونے کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔
یقینا یہ ہماری انتظامی امور کی شفافیت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ طلباء کا مورال زوال پذیر ہونے سے بچانے کیلئے امتحانات کے شفاف طریقے کو اپنایا جائے تاکہ اس سال اور آنیوالے دنوں میں اس اعتراض سے بچا جائے تاکہ قوم کے نونہال اور مستقبل کے معمار اپنے مستقبل کیلئے مزید ہمت اور جرأت سے محنت کرسکیں۔ خدارا اس دوبارہ ٹیسٹ کی اذیت سے طلباء کو بچایا جائے۔




































