
ڈاکٹررانا خالد محمود قیصر
اُردو غزل کو یہ مقام حاصل ہو چکا ہےکہ وہ برعظم پاک وہند میں قومی، تہذیبی مزاج سے ہم آہنگ ہے۔ غزل کے دامن کی وسعت، موضوعات وخیالات کے
پھیلاؤ اور کیفیت نے غزل کو قبول عصر کی سند عطا کی ہے۔ غزل کے سرمائے میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ عصر موجود میں یہ احساس یقین میں بدل چکا ہے کہ اب غزل میں موضوعات کی کوئی قید باقی نہیں رہی اور اب بھی غزل کے امکانات بہت وسیع نظر آرہے ہیں۔ اب شاعر کے جذبات کسی گھٹن یا قید کے زیراثر ہونے کی بجائے آزاد ہیں، البتہ غزل کے مخصوص ومقرر عروضی نظام پر کاربند ہونا شرط بھی ہے اور لازم بھی۔
غزل کے انداز سخن میں سلاست، روانی، معنویت اور غنایت کو اہم مقام حاصل ہے۔ شعراء میں اب بھی انفرادیت اور فوقیت کی کشمکش جاری ہے۔ عصری چشمکوں، رقابتوں اور معاصرانہ چھیڑ چھاڑ میں عصر موجود کے مرد قلندر، فیاض علی فیاض کا ادبی وشعری سفر کامیابی سے جاری ہے۔ وہ اپنی دھن میں لگے ہوئے ہیں، زمانہ کیا کہتا ہے انہیں اس سے سروکار ہرگز نہیں ہے۔ بس وہ تو اسی دھن میں مگن ہیں
اک دیا تو جلا دیا ہم نے
فرض اپنا نبھا دیا ہم نے
حساس طبیعت کے مالک ہونے کی وجہ سے دنیا کی غفلت اور کورنظری کا ذکر کچھ یوں کرتے ہیں
یہاں ایک نکتے پہ سب متفق ہیں
تمہیں روشنی کی ضرورت نہیں ہے
اور زمانے کی بےخیری سے صرف نظر بھی نہیں کرتے
جس نے پہنے ہوئے تھے دستانے
اُس کو منصف بنا دیا ہم نے
فیاض علی فیاض کی شعری ریاضت کا رشتہ سماج سے جڑا ہوا ہے۔ لہٰذا ان کی شاعری میں انسانی رویوں سے ربط بہت گہرا ہے۔ ان کے حسن اور فنکاری سے زیادہ انسانی رویوں پر توجہ ہے۔
رات پہرے پر ہمارا بھائی تھا
خوف سے سہمے رہے ہم رات بھر
جو بویا تھا کاٹ رہے ہیں
اب کیا رونا میرے بھائی
درج بالا رویوں کیلئے مجنوں گورکپوری ''نکات مجنوں'' صفحہ 55 پر لکھتے ہیں ''ادیب کوئی راہب یا جوگی نہیں ہوتا اور ادب ترک یا تپسیا کی پیداوار نہیں ہے۔ ادب بھی اسی طرح ایک مخصوص ہیئت اجتماعی، ایک خاص نظام تمدن کا پروردہ ہوتا ہے جس طرح کہ کوئی دوسرا فرد اور ادب بھی براہ راست ہماری معاشی اور سماجی زندگی سے اسی طرح متاثر ہوتا ہے جس طرح ہمارے دوسرے حرکات وسکنات''۔
اُن کا گھر جلنے لگا تو اس قدر شور وفغاں
آسماں مجھ پر گرا ہے میں مگر خاموش ہوں
اے کاش کہ خورشید نکل آئے اُفق پر
انسان نے صدیوں سے سویرا نہیں دیکھا
فیاض علی فیاض نے اپنی شاعری میں سماجی تقاضوں کو مقدم رکھا ہے۔ ان کے شعری اقدار اور فنی افکار عصر موجود سے ہم آہنگ ہیں۔ ان کی شاعری میںداخلیت اور خارجیت کی خط فاصل کھینچنا ذرا دشوار ہے وہ اسلئے کہ ان کے ہاں ادب کا سماجی شعور ان کی ریاضیت پر سمجھوتہ کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ فیاض نے ضبط غم، ضبط نفس اور ضبط قلم کا شعور قائم رکھا ہے۔ یہ ہنر یہ فن فیاض علی فیاض کی شاعری کا خاصہ ہے۔ ملاحظہ فرمائیے!
کیوں جاکے درعشق پہ کرتے ہو جبیں خم
کیا میرے اُجڑنے کا تماشا نہیں دیکھا
جنہیں جھکانا تھا آسماں کو
کھڑے ہوئے ہیں وہ سر جھکا کر
فیاض علی فیاض کراچی کے ادبی اُفق کے اہم شاعر ہیں، آپ کےکلام میں زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اظہاریہ ملتا ہے۔ اُن کی ہاں جذبات کی نزاکت خیال، احساسات کی گہرائی، اپنے انفرادی انداز میں ضوبار ہے۔ ایک اور بات کہ فیاض صاحب کی شاعری میں موضوعات کو ایسے انداز میں بیان کرتے ہیں کہ اُن کا سلیقہ اظہار لفظوں کی در وبست قاری/ سامع کی ضرورت بن گیا ہے۔
اب گھر میں کوئی قیمتی سامان نہیں ہے
اک جان تھی سو ہم نے محبت میں لٹا دی
سلیقۂ اظہار کا ایک اور انداز سخن ملاحظہ کیجئے
تجدید مراسم کا میں منکر نہیں فیاض
کچھ غور تو کرلوں ذرا اقرار سے پہلے
''روسو کا کہنا ہے کہ میںحقائق کا سامنا نہیں کرسکتا اسلئے میں نے تخیل کی دنیا میں پناہ لی۔ اپنی کشتی کو پانی کے سپرد کر دیا'' لیکن فیاض کے نزدیک اُن کی اپنی شخصیت اہمیت کی حامل ہے۔ وہ نہ تخیل میں پناہ لیتے ہیں اور نہ ہی اپنی کشتی پانی کے سپرد کرتے ہیں۔ وہ اپنی شخصیت کے بارے میںکہتے ہیں
پھر وقت کے گرداب میں کھو جائے گی منزل
میں سایۂ دیوار میں اک پل جو رُکا بھی
فیاض علی فیاض درون ذات کا کرب بیان کرنے میں کمال مہارت رکھتے ہیں، وہ عصری رنج والم کی کیفیت کو اپنے انفرادی انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ہجر کے لمحات اور ہجر کی کیفیت کی مکمل ترجمانی اور تصویرکشی احسن انداز میں کرتے ہیں۔ ان کے ہاں اظہار غم تو ہے مگر نوحہ خوانی کے انداز میں نہیں یعنی ہجر والم کے لمحات میں نشاطیہ پہلو تلاش کر لیتے ہیں۔
پلاؤ تم کسی نفرت گزیدہ کو
محبت کی مسیحائی دکھاتے ہیں
فیاض علی فیاض کا ادبی سفر کسی کی تلاش میں آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ اس کی شناخت کرنا چاہتے ہیں، اسی لئے کہتے ہیںکہ ''یہ کون مجھ میں غزل سرا ہے''
فیاض صاحب کی غزل کے فکری وفنی پہلو پر غور وفکر کی ضرورت ہے، ان کے ہاں مجاز بھی حقیقت نظر آتا ہے۔ وہ فانی دنیا کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خدائے بزرگ وبرتر کی ذات مبارکہ ہی سب سے اعلی وارفع ہے۔
زاد سفر کی فکر نہیں ہے
سینے میں قرآن ہے مولا
فیاض علی فیاض کی شاعری پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر منظرایوبی لکھتے ہیں ''اُردو کے جدید غزل گو شاعروں میں ایسے شعراء کو اُنگلیوں پر گنا جا سکتا ہے جو زندگی کے موجودہ پرآشوب دور میں غزل نگاری کے فن کو بام عروج پر پہنچانے کیلئے اپنی فکری وذہنی توانائیاں روبکار لائے اوراس کی آبیاری کیلئے اپنا خون جگر صرف کیا۔ فیاض صاحب کا شمار بھی اسی قبیل کے غزل گویوں میں ہوتا ہے''۔ میں منظر ایوبی صاحب کی رائے کی مکمل تائید کرتا ہوں، آپ کے اطمینان قلب، سکون اور ایقان کے حوالے سے ایک شعر جو انسانیت کی فلاح وبہبود اور توشۂ آخرت لئے کافی ہے۔۔
اے جبین شوق اتنی جستجو اچھی نہیں
اک خدا کافی نہیں کیا بندگی کے واسطے




































