
ڈاکٹررانا خالد محمود قیصر
عصر موجود کےنوجوان شعراء میں صداقتوں کےاظہارکا جذبہ نمایاں نظرآتا ہے۔بلاکسی روک ٹوک بلا کسی خوف وخطر ایسی بات کہہ جاتے ہیں جو بات کہنہ
مشق مصلحتاً نہیں کہہ پاتے۔ ترشی، تلخی،حجاب کو پس پشت ڈال کرجرأت مندانہ لہجہ آج کل کے نوجوان شعرا کا پسندیدہ موضوع ہے۔ یہ لہجہ متحرک شاعری کی علامت ہے۔ ویسے کبھی نوجوان شعراء عصری رویوں کا اثرجلد قبول کرلیتے ہیں۔ یہاں میرا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ سینئر شعراء عصری رویوں کا اثر قبول نہیں کرتے، وہ کرتے ضرور ہیں مگر استقامت اور مصلحت کے تحت اظہار کچھ دیر سے کرتے ہیں۔ ایسے عصر موجود کے نوجوان شاعر کامران صدیقی جن کا پہلا شعری مجموعہ ''سب تماشا ہے'' اشاعت پذیر ہوچکا ہے فرماتے ہیں۔
پھر مرا انتظار مت کرنا
میں اگر شام تک نہیں پہنچا
درج بالا شعر ایک عہد آشوب کا نوحہ ہے۔ایک تاریخ ہے،زندگی کے تجربات کامشاہدات اورتجربات کاعکس ہے۔ یہ انسانی جذبات، خیالات اورنظریات ہی ہیں جو نثر ہو کہ نظم دونوں پر اپنا اثر ڈالتے ہیں۔ داخلیت اور خارجیت تبدیلی شعور آدمیت پر گہرے نقوش مرتب کرتے ہیں اور خاص طور پر نوجوان تخلیق کار کے۔
اُسے تلاش نہ کر پائی میری آنکھ تو پھر
ہر اک جگہ پہ مجھے لیں وہی نظر آتا
پکارتی ہے وہ کمرے کی نیم تاریکی
وہ ادھ کھلی ہوئی کھڑکی بلا رہی ہے تمہیں
عصر موجود ایک نفسا نفسی کا دور ہے ۔اس عہد میں احساس زندگی نفسیات کے زیراثر ہے۔ تخلیق کار زندگی کی محرومیوں، تمناؤں اور نامداریوں، معاشرے کی زبوں حالی، شکست وریخت اور زندگی کے بدلتے زاویوں کے ساتھ اگر نبرد آزما نہیں ہوسکتا تو اپنے خیالات کو قرطاق میں ادب کو حقیقی انداز میں پیش نہیں کرسکتا۔ سیاسی اور سماجی زندگی کا دامن تھامے تہذیبی اقدار سے کنارہ کشی انتہائی مشکل کام ہے۔ کامران صدیقی نے کبھی حالات کی نوحہ خوانی نہیں کی وہ ہمیشہ اپنی منزل کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ تھکن ان کے پاس نہیں پھٹکتی اور پھٹکے بھی کیوں کہ کامران زندگی کی سنگلاخ راستوں اور بکھرے ہوئے سنگریزوں پر چلتے ہوئے اپنے لئے بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ
چھوڑ دے فکر انا یہ فلسفہ بیکار ہے
خامشی سے سر جھکا لے نوکری رہ جائے گی
آگیا ہے خواہشوں کو مارنا
مفلسی میں نت نئے جوہر کھلے
کامران صدیقی اپنے ہم عصر شاعروں میں حقیقت نگاری اورسہل ممتنع کو اختیار کرتے ہوئے کراچی کے ادبی اُفق پر اپنی جگہ بنانےمیں مصروف ہیں اور کسی حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ ان کی کامیابی کا سہرا ان کی زریں طبع آزمائی ہے۔ ان کے لہجے میں بے باکی اور بے ساختگی ہے۔ یوں کامران نہ تو زندگی کے الم سے گھبراتے ہیں اور نہ ہی کسی کے سامنے دست سوال دراز کرتےہیں۔ بس صبر قناعت اور حوصلہ مندی سے زندگی کا علم تھامے ہوئے ملنساری کا پرچار کررہے ہیں۔
اُردو شاعری میں میر وغالب کے عہد میں جس فکری وفنی اقدار کا تذکرہ ملتا ہےعصر حاضر میں بھی وہی مضامیں ترمیم، تنسیخ واضافے کیساتھ پائے جاتے ہیں۔ بس اظہاریہ الگ ہے۔ اب غزل میں بیانئے اور اظہارئیے کے تقاضے اور انداز تبدیل ہو چکے ہیں۔ عصر موجود میں جوں جوں لفظیات کا چناؤ، سادہ تراکیب وعلامات کا خوبصورت دروبست دیکھنے میں آرہا ہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ غزل زندہ ہے۔ کامران صدیقی بھی اس ہر اول دستے کے فرد ہیں اور اپنا حصہ بقدر جثہ ڈال رہے ہیں، نئے عہد میں نئے خیالات ملاحظہ ہوں
سمجھنے لگتا ہے ہر شے خریدے گا وہ
جوان کے ہو کے جو بیٹا کمانے لگتا ہے
اب کے بھی مجھ کو دار پہ کھینچا نہ جائے گا
یعنی کہ اب کی بار بھی حق پر نہیں ہوں میں
آئینہ اورکچھ نہیں یعنی، اک تماشا ہے ہو بہو کا بس
کامران صدیقی کی غزل میں گہرےاحساس اورمشاہداتی جذبات دل میں اُترتے ہوئےمحسوس ہوتے ہیں۔ ان کےشعری لفظیات اورموضوعات میں ہم آہنگی نے ابلاغ کو مؤثر بنایا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے غزل کو اہم مؤثر اور عالمی ادب کے برابر لانے کیلئے نئے رجحانات تلاش کئے جائیں کیونکہ جس رفتار سے عصری روئیے بدل رہے ہیں، ہمیں اپنے فکر وفن کو بھی نئے زاویوں میں ڈھالنا ہوگا۔ یہ نئے رجحانات اور روئیے نوجوان شعراء کی ترجیح ہونی چاہئے۔ کامران صدیقی سے اُمید کی جاسکتی ہے کہ اپنے دوسرے شعری مجموعے میں نئے شعری رجحان کو فوقیت دیں گے۔




































