
ڈاکٹر رانا خالد محمود قیصر
جسارت خیالی کا نام منظور حسین والد گرامی کا نام اللہ بخژ ہے،جسارت خیالی ان کا قلمی نام ہے۔ آپ تھہیم آباد، پہاڑ پورضلع لیہ پنجاب میں 1954 پیدا ہوئے۔
ایک کہنہ مشق تخلیق کار ہیں، نثر ونظم دونوں اصناف میں کمال تخلیقی ہنر کے حامل ہیں۔ تقدیسی ادب سے گہرا لگاؤ ہے۔ آپ کی تصانیف میں لامکاں سے زماں تک شعاع فرط، سطوت حرف، تذکرہ شعرائ، تونسہ شریف، اقبال سوکڑی، فن اور شخصیت و دیگر شامل ہیں۔ غالب کے نقش قدم پر (غالب کی زمینوں پر غزلیہ مجموعہ) اہم تصنیف ہے۔ خیال امروہوی سے اکتساب فیض کیا۔
جسارت خیالی سنجیدگی سے ادب تخلیق کر رہے ہیں، حالیہ نئی تخلیق ''مدح پیغمبرانقلاب ان کا نعتیہ مجموعہ ہے۔ اس کےبارے میں ڈاکٹرنثارترابی کی رائے نے جسارت خیالی کے ادبی قد میں مزید اضافہ کیا ہے۔
جسارت خیالی نےبھی نعت کی اس غزلیہ صورت کو اپنایا ہے اور اظہارکے لئے بے ساختہ آہنگ اورسیرت نگاری سےجڑی ہوئی عقیدت مندانہ کیفیات کو ایک خود سپردگانہ وارفتگی کے ساتھ بیان کرنے کی بھی سعی کی ہے۔ سادہ طرز اظہار کی حامل اس شاعری میں پیغام مبین کے براہ راست ابلاغ کا حوالہ مرکزی موضوع بن کر اُبھرا ہے۔
ڈاکٹر نثار ترابی نے جسارت خیالی کے لئے ''خود سپردگی وارفتگی'' کااستعارہ استعمال کرکے ان کے فن کا اعتراف خوب کیا ہے۔ یہ حقیقی اور زندہ شاعری کی علامت ہے۔
مرے آقا کو عظمت وہ ملی ہے
جہاں میں آپۖ کا ثانی نہیں ہے
حقیقتاً درج بالا شعر وارفتگی کے عالم میں عقیدت سےبھرپورانداز لئے ہوئے ہے،جسارت خیالی کے نعتیہ مجموعہ پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو ان کے کلام میں سادگی اور آسان فہمی کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔ فارسی اور عربی کی تراکیب نسبتاً کم نظر آتے ہیں۔ البتہ مدح سرائی میں بڑی احتیاط برتی ہے۔ حدود وقیود پر سختی سے کاربند ہیں۔ نورمجسم، ہادی برحق نبی پاکۖ کی زندگی مبارکہ اور پیش آنے والے واقعات کو دل کی عمیق گہرائیوں سے بیان کیا ہے۔
جسارت خیالی کے ہاں وسیع المطالعہ اور وسیع النظری نے نعتیہ مضامین کووسعت عطا کی ہے لیکن وہ ہرحال میں نور یزدانی و محبوب سبحانی کی تعریف وثنا میں عاجزی اختیار کئے رہتے ہیں۔ بقول شاعر
مزمل و مدثر کہہ کہہ کے پکارا
کس پیار سے لیتا ہے خدا نام محمد
اکبر میرٹھی
جسارت خیال کا انداز سخن بھی ملاحظہ کیجئے
کہاں مجھ میں تری مدحت کا آسکتا ہے قرینہ
کہ اکمل ذات ہے تیری تو دانش کا خزینہ
جسارت خیالی اپنے افکار میں ایک صوفی منش شاعر نظر آتے ہیں، وہ جب شعر لکھتے تو حب رسولۖ میں ڈوب کر لکھتے ہیں، تصوف اور طریقت سے قطعے نظر وہ حقیقت میں عشق احمد مجتبی میں فنا فی الرسول کے جانب اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے غزلیہ اور نعیتہ اشعار میں معنی آفرینی، مضمون آوری اور مدحت بصورت عقیدت ومحبت ذیل کے اشعار میں ملاحظہ فرمائیں۔
خدا بھی آپۖ پر نازاں ہے واللہ
یقیناً آپۖ فخر دو جہاں ہیں
اس حرص کی دنیا سے یہاں چھوڑ تعلق
آقاۖ کی محبت میں تو مخمور رہا کر
وہ پرنور پیکر نظر میں بسا ہے
ہیں بے کیف منظر یہاں چاندنی کے
رحمتوں کی بارش کا بھی ہوا ایسا اثر
دشت گلزار تو سرسبز ہوئے کوہ ودمن
مدینے کی سجاوٹ کو معطر
زمیں لائی گئی باغ جناں سے
جسارت خیالی نے مدینے کی سجاوٹ کےلئے باغ جناں سے لائی مٹی کا ذکرخیر کیا ہے۔ یہ درست ہےنبی پاکۖ کا حجرہ اقدس، ریاض الجنة جیسے پاک مقامات جنت کا ٹکڑا ہے جو نبی پاکۖ نے خود بھی فرمایا ہے۔ مگر نعت میں کچھ ایسے کلمات ادا کرنا جو حقیقت میں ممکنات میں نہیں ہیں کا تذکرہ کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اکابرین اسلام کا اس پر موقف جدا جدا ہے، زیل کا شعر توجہ کا طلب گار ہے
اک پل میں چلے آئے مری داد رسی کو
ہم نے جو مصیبت میں کبھی ان کو صدا دی
اگر امداد میں ہم حضرت بلال حبشی کی غلامی سے آزادی کا ذکر کریں یا کسی اورغلام کی آزادی کا ذکرکریں تو تاریخی طور پر ثابت ہوتا ہےکہ نورمجسم نبی پاکۖ نے خود اور دیگر اصحابہۖ کی مدد سےغلاموں کو آزاد کروایا تو یہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ لغت میں روز محشر، جام کوثر کی تمنا تو جائز ہے مگر ایسے مضمون ادا کرنا جو فی الوقت ممکن نہ ہوں کا اظہار مناسب معلوم نہیں ہوتا۔
جسارت خیال کےکلام میں خیالات کی فراوانی،جذبات وعقیدت کا اظہاراحسن انداز میں کیا ہے۔ یہ اندازسخن یقیناً نجات کا باعث اور توشۂ آخرت کے لئے کارآمد ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔




































