
ڈاکٹررانا خالد محمود قیصر
غزل کہنا ایک مشکل کام ضرور ہےمگرنظم کہنا بھی کوئی کم نہیں ہے۔ خیالات میں تسلسل ایک ہی موضوع کو مؤثرانداز میں بیان کرنا اورخیالات کے
بیکراں سمندر کو ایک نظم کی صورت میں قرطاس ادب پر منتقل کر دینا یہ نظم کا ایک حسن ہے۔ نظم کی کوئی بھی قسم ہو، تخلیق کار کو اپنا مدعا بیان کرنا، لفظوں کا چناؤ، معنویت ومقصدیت، اختصار، زندگی کے ساز سے چھیڑ چھاڑ، واقعات اور مشاہدات، ذاتی تجربات اور وسیع المطالعہ ہونے کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔ زیرمطالعہ نظموں کا مجموعہ ''خاموش چیخیں'' نزہت افتخار کی نثری نظموں کا مجموعہ ہے۔ موضوعات کے لحاظ سے متنوع اقسام کے عنوانات منتخب کئے ہیں۔ زیادہ تر مضامین درون ذات کی گھٹن اور یاسیت پر مبنی ہیں شاید اس کی وجہ ایک یہ بھی ہوسکتی ہے کہ نزہت افتخار کا جھکاؤ ترقی پسند ادب کی طرف ہے۔ انہوں نے معاشرتی برائیوں پر گہری نگاہ رکھی ہے۔ اظہارئیے کا انداز ملفوف بھی ہے اور عیاں بھی۔ ایک نظم ملاحظہ کیجئے
سکون ہی سکون
سمندر سے موتی
دریا کا شور
زمین کی چکنی مٹی
غریب کی بھوک
کٹورے کی پیاس میں
ایک اندھے کنویں میں
میں بڑے سکون سے پھینک آئی
نظم کے حوالے سے سرسید احمد خان، محمد حسین آزاد اور الطاف حسین حالی نے جو راہیں متعین کی تھیں ان موضوعات کو پہلے بھی نظم کیا جاچکا تھا۔ مگر اشارہ جدید نظم کی طرف تھا۔ یوں طبع آزمائی ہوتے ہوتے نظموں کے موضوعات میں اضافہ ہونے لگا۔ یہ تبدیلی علامہ اقبال کے ہاں نظر آتی ہے۔ مغربی فن پاروں کے تراجم نے نئے موضوعات تخلیق کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر وزیر آغا کا یہ کہنا درست ہے کہ ''غزل مشرق کی پیداوار ہے اور نظم مغربی سےاسمگل کیا ہوامال ہے''۔ نثری نظم انگریزی ادب پروز پوٹم کا ترجمہ جسے اکابرین ادب نے ''ادب لطیف'' یا نثر لطیف قرار دیا۔ یوں مصری نظم، آزاد نظم کیساتھ نثری نظم نے جنم لیا چونکہ نثری نظم عروض قوائد وضوابط وزن، بحر، موزویت اور شعری آہنگ سے مبرا ہے۔ لہٰذا نثری نظم میں ایک تخلیق کار اپنی ذاتی منفرد انداز میں طبع آزمائی کرتا ہے۔ اگر ہم ماضی کے ذخیرۂ ادب کا جائزہ لیں تو ہمیں نثر رنگین نظر آتی ہے۔ ہم نثری نظم کو اس نثر رنگیں کا تسلسل قرار دے سکتے ہیں۔
نزہت افتخار نے خاموش چیخیں میں جو طبع آزمائی اختیار کی ہے وہ ایک خوش کن اور شگفتہ کاوش نظر آتی ہے۔ انتقام، زہر ہی زہر، کچرا کنڈی، کڑواہٹ، جنسی کتے، گواہ، تکمیل آرزو، سانڈ، مرد۔۔ نامرد، زندگی کے چٹخارے، خزاں کا گلاب، بھوک کھا گئی۔ کشکول، کتہ، برہنگی، حرام زادی، خواجہ سرا، دھوتی شلوار، کون ہے وہ گلی کے کتے، پڑوسن، لاٹھی، موت اور تم، بدنام زنامہ، ہیروئن، ہڈی اور وہ، چھولی میں آئینہ بھی جیسی نظمیں معاشرے میں پھیلی ہوئی بے راہ روی، من پسند خیالات کا عکس، معاشرتی حبس، درپردہ معاشرے کی بیماریوں جیسے موضوعات میں دل کھول کر لکھا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے نزہت افتخار کی نظموں میں عصمت چغتائی کی تقلید تو نہیں البتہ افکار کی خوشبو آتی ہے۔ عصمت چغتائی کو بھی اپنے افسانوں ناولوں پر ناز تھا اور وہ کہتی تھیں کہ زمانے نے میری دیگر تخلیقات کو بھلا دیا بس لحاف کو یاد رکھا۔ اسی طرح نزہت افتخار کی نثری نظموں میں بھی ایسے عناصر پائے جاتے ہیں جیسے بے باکی اور برخستگی کے حوالے سے مدتوں یاد رکھی جائیں گی۔ جنسی کتے سے انتخاب
بعض انسانی اعضاع قدرت کے
شہکار بنائے گئے ہیں
جسے جنسی کتے نوچ نوچ کر
اپنی گندی روح کی تسکین کرتے ہیں۔۔
ایک اور نظم حرام زادی سے انتخاب
ہائے بے چاری مرگئی، بیچاری
بہت پرخلوص وہمدرد تھی
دھیمے دھیمے کسی کے بولنے
کی آواز آئی
بڑی آوارہ تھی ایک کی
ہو کر نہیں رہی یار بدلنے کی
بڑی شوقین تھی حرام زادی
نقادوں میں سے چند سطور
اور میں آج تک شاعری کے نام
پر بک رہی ہوں، واہ واہ کی داد
سن سن کر میرا سینہ چھلنی ہوگیا
میں متا شاعرات کے نام کی
کئی کتابوں میں ملوں گی
کئی ایوارڈ سندیں جمع ہیں
جو میرا مذاق اُڑاتے ہیں
لوگ مجھے متا شاعرات کی
غزل کہتے ہیں۔۔
ایک اور نظم بہ عنوان ۔۔ میرا قصور کیا تھا
میں مٹی کا مکان تھی وہ
دھماکے کے ساتھ اچانک آیا
اور سیاہ بادلوں کی طرح چھا گیا
خوب برسا جم کر برسات ہوئی
میں روئی سسکتی رہ گئی
وہ میری مٹی کو ناپاک کر گیا
باپ بھائی نے بڑی خوموشی سے
مجھے دہکتے تندور میں ڈال دیا
اور مشہور کر دیا میں بھاگ گئی
کسی آشنا کے ساتھ
''وہ میری مٹی کو ناپاک کر گیا'' اور''کسی آشنا کےساتھ'' وہ انمٹ نقوش اوراستعارے ہیں جوشاعرہ نزہت افتخارکی نگارشات میں خاصہ کی صورت میں نثری نظم میں ضو بار ہے۔ نزہت افتخار نے نثری نظموں کو اپنے اظہارئیے کا ذریعہ بتایا ہے حالانکہ وہ پابند نظم اور غزل بھی خود کہتی ہیں۔ لہٰذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے عروضی نظام سے گھبرا کر پہلو تہی کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ نظم میں اپنا مدعا بیان کرنا اور اُسےنبھانا جان جوکھم کا کام ہے۔ نزہت افتخار اس کار خیر میں کامیاب نظر آتی ہیں۔




































