
تحریر: ڈاکٹر رانا خالد محمود قیصر
میر تقی میر کی زندگی مصائب شکست وریخت اور نرنگی زمانہ سے عبارت ہے، ان عناصر نے ان کی زندگی اور شعری رجحان کو بری طرح متاثر کیا ہے
،ان کے ہاں یاسیت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ ایک میر ہی نہیں ان کے ہم عصرشعرائےدلی بھی اس طرح کی مایوسی وناکامی کا شکاررہے ۔اس ماحول نے ان کے بیانیے اور اظہار یہ کو شکست خوردہ بنا دیا تھا، میر کے ہم عصروں کی شاعری میں یاسیت نے ایک اسلوب متعین کیا ۔ اس دور میں تمام باشند گان دلی اور شعراء حتی ٰکہ بادشاہان تک بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکے۔ آخری مغل تاجداروں نے کسمپرسی کا سامنا کیا اور فقیرانہ زندگی بسر کی ۔ان کا کوئی حکم نہیں چلتا تھا، بس نام کے بادشاہ تھے۔
دلی کئی بار اجڑی اور تسلسل کے ساتھ مصائب کا سامنا کیا۔ دلی کے رہنے والوں نےامراء وخواص کا زوال دیکھا ،غالب کا عہد گو کہ میر کے بعد کا ہے مگر غالب بھی یورش زمانہ سے محفوظ نہ رہ سکے اور پکار اٹھے ۔
تو بھلا کر تیرا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے
با الفاظ دگر۔۔۔
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
میر کی زندگی میں یاسیت کے سائے کچھ اپنوں کی عطا تھی اورکچھ میرکی افتاد طبع ۔۔۔اس افتاد طبع کےساتھ عصری افر تفری دگرگوں معاشی حالات اوربد امنی نے معاشرتی و سماجی اقدار کو بری طرح پامال کر دیا تھا ۔ان کا اثر میر کی زندگی پر تادم مرگ رہا۔ میر نے جس فقیرانہ انداز میں زندگی گزاری وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ اپنوں کی بے مروتی ان کی اپنی انانیت اور ان معمولات کی وجہ سے بد دماغی بھی طاری رہتی تھی ۔دلی کی زندگی میں میر کا دکھ بانٹنے والا کوئی نہ تھا ۔ یوں میر نے شاعری کو اپنا مونس وغم خواربنا لیااوررنج و محن کی باتیں شاعری میں ڈھلنے لگیں۔
غلام رسول مہر لکھتے ہیں "میر عمر کےآخری حصےمیں ضعف بصراوربعض دوسرے امراض میں مبتلا ہو گئے تھے،میل جول اوراختلاط سےمتنفرتوپہلے سے تھے ہی، امراض کی شدت نے انہیں بالکل گوشہ نشیں بنا دیا تھا ۔
دلی میں آج بھی ملتی نہیں انہیں
تھا کل تلک دماغ جنھیں تاج و تخت کا
ڈاکٹر جمیل جالبی کےمطابق" میرکی آپ بیتی گویا جگ بیتی بن گئی ہے۔انہوں نےشعر کے پردے میں غم لٹایا ہے۔ان کی شاعری فقط ان کی ذاتی زندگی کا نوحہ نہیں بلکہ اس دور کے پورے عہد کا آئینہ ہے"
میر تقی میر کے فقیرانہ لہجے میں ایک ایسی انفرادیت ہےجس کےوہ حقدار تن تنہا ہیں۔ فقیرانہ انداز میں بھی سادگی اور ایک خاص کشش ہے۔ قلبی احساسات و تاثرات ان کا خاصہ ہے ایک اور خاص بات یہ ہےکہ ان کی زندگی اور شاعری میں ان کی خودداری اور تنک مزاجی بھی ہے ،ان حالات کو رام بابو سکینہ نے یوں لکھا ہے:
" میر صاحب کی بد دماغی اور نازک مزاجی کو آزاد نےبڑے مبالغےسےبیان کیاہےلیکن اس میں شک نہیں کہ وہ نازک مزاج تھےراجہ ناگرمل جو ان کا بڑا قدردان تھا ،اس کی رفاقت محض اس وجہ سے چھوڑ دی کہ میر کو ان کا انداز تخاطب پسند نہ تھا"
مصائب۔۔ شخصی و مصائب۔۔عصری میر کی زندگی پرکچھ اتنےزیادہ اثرانداز ہوئے کہ شاعری ان سےمتاثر ہوئےبغیرکیسےرہ سکتی تھی ۔ان کا لہجہ التجائیہ اور افسردگی سے بھرپور تھا میر تقی میر کا فقیرانہ لہجہ ایک باشعوراورجیتے جاگتے انسان کو اس طرح متاثر کرتا ہے کہ قاری یا سامع خود بخود افسردگی کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
شام سے کچھ بجھاسا رہتا ہے
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
ہم فقیروں سے بے ادائی کیا
آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا
میر کے انفرادی و امتیازی رنگ کا کوئی مقابلہ نہ کر سکا ،البتہ سودا؟ میر نے اپنی دھاک دبستان دہلی میں تو بٹھائی ہی تھی مگردبستان لکھنو میں بھی خوب رنگ جمایا ، یہاں بھی میر کے رنگ میں ہجرت اپنوں کی بے اعتنائی اور یاد ماضی نے پیچھا نہ چھوڑا ایک بات خصوصیت کی حامل ہے کہ میر نے ہمیشہ اپنے فن کی ناقدری کا شکوہ کیا ہے ،یہ انداز فقیرانہ انہیں معاصرین میں ہمیشہ ممتاز رکھتا ہے۔
یوں اٹھے آہ، اس گلی سے ہم
جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے
کوئی ہو بادشاہ کوئی یاں امیر ہو
اپنی بلا سے بیٹھ رہے جب فقیر ہو
معشیت ہم فقیروں کی اخوان _ جہاں سے لے کر
کوئی گالی بھی دے تو کہہ بھلا بھائی بھلا ہوگا
میر کے عہد کے مصائب ان کی شاعری کی ایک شان ہیں یہی مصائب ہیں جنہوں نے میر کو منفرد بنا دیا، ان کےسادگی اور قلندرانہ منش صرف ان تک محدود نہ رہی یہ فقیرانہ روش آئندگان نے بھی اپنائی ۔ مہر کی سادگی سلاست اور التجائی لہجہ اردوشاعری میں ان کی شناخت کے طور پر یاد رکھا جائے گا ۔ میر کی زبان سے ایسے اشعار وترا کیب خوشنما لگتی ہیں کہ پڑھتےہی قاری کا ذہن میر کی طرف خود بخود چلا جاتا ہے ۔یہ میر کی فقیرانہ روش کی بڑی کامیابی ہے ۔ میر کا یہ رنگ سفر کرتا ہوا عصر، موجود تک کامیابی سے آن پہنچا ہے ۔ گو عصر حاضر میں روشنیوں کی چکا چوند سے یاسیت کا رنگ مصنوعی طور پر پھیکا پڑ چکا ہے اور مصنوعی طور پر رجائیت و نشاط انگیزی کا عنصر نمایاں ہوتا جا رہا ہے مگر کلاسیکی غزل کا رنگ ہمیشہ غالب رہے گا اور میر کا نام ہمیشہ اردو شاعری میں تابندہ رہے گا ۔




































