
لطیف النسا
کتنے ہی افسوس کی بات ہے کہ لوگ آنکھوں میں دھول جھو نکتے ہیں یہ کہہ کر کشمیر میں ہر چیز نارمل ہے مگر جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے، انڈین
بے ضمیر فوجی کس حیثیت سے اُن پر مسلسل قبضہ کر کے مستقل ظلم ڈھا رہے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں؟ کس طرح بچوں کو لڑکوں کو انڈین فورسز
اٹھا کر لے جاتے ہیں کتنا مارتے اورزخمی کرتے ہیں۔ بنا ہتھیار کے نہتے لوگوں پر گھروں میں گھس کرجو چاہے کرتے رہتے ہیں کر رہے ہیں. بے چارے نہتے مسلمان اب تک مصائب کا شکار، نہ اپنی مرضی سے جی سکتے ہیں نہ مر سکتے ہیں! مرضی سے مرنا تو ایک، تکلیف کے حددرجہ ظلم کو بتانے کے لیے روکا گیا ہے ورنہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے وہ جانتے ہیں کہ صبر اور بردباری سے ہی اکیلے مقابلہ کیے جا رہے ہیں ظلم سہے جارہے ہیں۔ ان کی ظالم حکومت ہے انڈین بے ضمیر لوگ کیا جانیں کسی کا درد!گھروں میں گھس کریا مسجدوں کے ارد گردٹیئر گیس کے بم مار کر لوگوں کو مدہوش کرتے پکڑتے اور کہیں سے کہیں لے جاتے، مزید ظلم یہ کہ میڈیا کو پابند کیا ہے، ڈرپوک اتنے کہ باوجود ٹیکنالوجی اور انسانیت کا راگ الاپنے والے خودہی ظلم کی بد ترین تاریخ رقم کیے جا رہے ہیں۔کس طرح کشمیری لوگ ماں بہنیں بیٹیاں اپنے پیاروں کو ان کے رحم وکرم پر چھوڑے ہوئے ہیں مگر میں سوچتی ہوں کہ یہ اقوام متحدہ،انسانی حقوق کے ادارے اور اڑوس پڑوس اور دیگر مسلم ممالک جو ہندوستان کے مسلمان کیوں اس ظلم کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار نہیں بن جاتے؟ کسی کی اتنی جرأت نہ ہو، ظلم تو بڑھتا ہی رہتا ہے جب تک اسے طاقت سے نہ روکا جائے۔انسانیت کا دم بھرنے والے تمام لوگ اور خاص کر تنظیمیں کیوں اپنے ضمیر کو مار رہی ہیں اور دکھی بے بس اور بےکس عوام کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں؟ یہ بھی تو ایک ظلم ہے کہ ظالم کو کھلا چھوڑ دیا جائے اور وہ جو جی چاہے کرے! کتنا اچھا ہمارا مذہب اسلام ہے جو کہتا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور جس نے ایک انسان کو بچایا اس نے گویا پوری نسانیت کو بچا لیا۔
اس بات کو سب ہی دنیا کے لوگ اب سمجھتے ہیں۔ قولی طور پر اظہار بھی کرتے ہیں مگر عمل کی دنیا میں بے بس کیوں؟ اقوم متحدہ تو بالکل ہی بے بس ہے کہ کسی بھی ملک پر ظلم ہو رہا ہے تو اس کا کوئی مثبت اور فعال عمل نظر بھی نہیں آتا! جنگ تو خود ایک ظلم ہے، بمباری ہر کسی پر بھاری ہے اسے کیوں نہیں روکا جاتا؟ اور ہتھیاروں پر پابندیاں کیوں نہیں لگائی جاتیں؟ مظلوم کو حق ہے وہ بدلہ لے، چیخے چلائے مدد کیلئے پکارے۔ بیشک وہ اللہ ہی کی مدد کو اولیت دے رہے ہیں اس ذات پر یقین کئے اب تک برداشت کررہے ہیں مگر سوچنا ہمیں ہے کہ ہم کیا کررہے ہیں؟ اس ظلم کے خلاف ہمارے کیا اقدامات ہیں، حکومتی سطح پربھی اس دن کا احتجاج پرزور ہے! ہم تو خود اپنے چکروں میں ہیں! خدارا دوسروں کا دکھ بلکہ دوسرے نہیں اپنے ہی کشمیری بہن بھائیوں کا دکھ اپنا دکھ محسوس کرتے ہوئے دنیا کو ہلائیں خود بھی دعاؤں کے ساتھ ساتھ ہر طرح کی مد کے لئے حاضر ہیں۔ کتنے دن ہو گئے کشمیر کی ظلم و بربریت کی داستان تازہ کی تازہ ہے آئے دن مظالم بڑھ رہے ہیں۔ کس طرح نوجوانوں کے جنازے نکلتے ہیں؟ اور پھر ان پر مزید ظلم کہ بیرونی میڈیا سے کاٹ کر ایک بہت ہی بڑی قید کی شکل دیکر بے بس انسانوں کی آہ لی جارہی ہے۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز نہیں اور نہ ہی ظلم زیادہ عرصہ رہ سکتا ہے کتنا ہی دباؤ بڑھایا جائے لاوا کہیں نہ کہیں سے نکلے گا ضرور! اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے یہ بے ضمیر دنیا پرست لوگ کیا جانیں کہ رب کی پکڑ شدید ہے وہ "شدید العقاب "ہے۔ مگر موقع ہر کسی کے پاس ہے اپنے کشمیری بھائیوں کی یک جہتی اور آزادی کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی۔
آج کے تناظر میں مخالف قوتوں کو طاقت سے ہی صحیح، جھنجھوڑنا ہو گا۔ بین الاقوامی انسانی تنظیموں کو بھی اس مسئلہ پر ضروری توجہ دینی ہوگی اور ظلم کرنے والوں کو ہر طرح سے سرزنش کرنی ہوگی۔ اگر ہندوستانی کشمیر کو اپناہی حصہ سمجھتے ہیں جو کے نہیں ہے تو کیا اتنا جانوروں جیسا سلوک اس کشمیر کے حسین خوبصورت، خوب سیرت بہادرنہتوں پر کرنا جائز ہے؟ کیا ان کا ضمیر انہیں یہ سکھاتا ہے کہ ظلم سے خون خرابہ کریں۔ بذد لی دیکھا کہ خون بہا کر جیت جائے؟ یہ بہادری یا انسانیت نہیں بلکہ انتہائی درجے کی بزدلی اور جاہلیت ہے۔ ہندوستان کے مسلم بھی اس لئے بہت کچھ کر سکتے ہیں اورعالم اسلام بھی اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔ ظلم و بربریت کو روکنے کیلئے صرف یک طرفہ کہا نی میڈیا نہ سُنائے بلکہ کشمیریوں کی پوری صحیح تصویر منظر عام پر لائی جائے میڈ یا حق بجانب ہو، یہ کیا ظلم ہے کہ ان کے بے ضمیر فوجی جب چاہیں جہاں سے چاہیں عورتوں مردوں نو جوانوں بہنوں کو اٹھا لے جائے، گمنام کر دے یا گولیوں سے بھون ڈالے، زخمی کر دے اور بہانے بنائے کہ پولیس مقابلے میں مارا گیا،مزاحمت پر مار دیا گیا، شرم کریں۔ چوری اور سینہ زوری۔ان کا خون کبھی رائیگاں نہ جائے گا۔
کتنوں کو مار کر ان کی فیملیز کوبے سہاراکروگے۔ جان تو جانی ہے مگر ظلم ڈھا کر تم جیتے جی ہی موت سے پہلے ہی مرجاؤ گےجب نیندیں حرام ہوں گی اور دوا بھی بے اثرہو جائیگی۔ کتنے ہی کشمیر ڈے گزر گئے مگر مت سوچیں کہ ان کشمیریوں کے حوصلے پسپا ہوں گے یہ اور پُرجوش ہوکر تمہارا مقابلہ کرینگے۔ جہاں جہاں دنیا میں ظلم ہورہا ہے یہ سب کشمیری ان کی ہم آواز بن کر تمہارا پیچھا کریں گے۔ ظلم کی تاریخ لکھنے والے خود ہی اپنی تاریخ کو تاریک بناتے ہیں۔ یہ کشمیری نوجوان جو حق کی علامت ہیں، آزادی کے پروانے اور حریت کے مینار ہیں اور وہ بھی روشنی کے وہ مینار جنکی روشنی اور شدت ہر ظلم کے ساتھ بڑھتی ہی جائیگی۔ ان کی جنگ حق کی جنگ ہے آزادی کی جنگ ہے۔ اللہ اکبر، اللہ بڑا ہے۔ اس بے ضمیر اور ڈرپوک افواج کو شرم آنی چاہئے جو نہتوں پر اپنی طاقت آزما کر خوش ہوتے ہیں وہ بے چارے گولیوں کے مقابل پتھر اٹھاتے ہیں، تم نے انکا کھانا پینا، لائٹ، روزی روزگار، تعلیم سب کچھ بند کی ہوئی ہے، مذہبی رسومات اور عبادات کو روک کر انہیں تپا رہے ہو! بڑی ہی گری ہوئی بات ہے! یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ نہ سوچو کہ تم جیت رہے ہو؟ ہر گز نہیں، یہ زندگی پہیے کی مانند ہے کبھی اوپر کبھی نیچے، دیر نہیں لگتی۔ نیچے آتے! دنیا میں جہاں جیت ہے اور اس کا تضاد ہا ر بھی ہے۔ ہر چیز کی باری ہے دور دوراں میں جو جیت گیا اس کی ہارباقی ہے۔
یہ دور تو میڈیا کے ہاتھوں بھی کٹ پتلی بنا ہوا ہے۔ دو طرفہ مساوا ت یا بر ابر کا عنصر کم ہے وہ جس کو چاہے بڑھا چڑھا کر دیکھائے، جس کو چاہے چھپائے مگر جب کشمیریوں کے گھر سینکڑوں کی تعداد میں گرائے جائیں۔ مزید لوگوں کو بے بس کیاجائے اور انکی حقیقی تصویر نہ دیکھائی جائے۔حق بات کرنے والی تنظیموں کو پابند کیا جائے۔ حکومتی سطح پر انکے لئے ان کی آزادی اور بقا کیلئے کوششیں نہ کی جائیں تو دشمن تو مزید چڑھتا جائے گا۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک پاکستان میں اور دنیا کے تمام اسلامی ممالک اور مسلمانوں میں وہ جرأت عطا فرمائے جو ظلم کے خلاف ڈٹ جائیں اورظالم کا ہا تھ ہمیشہ کیلئے ایسے پکڑے کہ کسی مظلوم پر ظلم کرنا تو دورکی بات ان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا ہی چھوڑ دیں جو جہاں ہے جس لیول پر ہے۔ اپنی سی کوشش کرے کہ میرے بے بس اور بے کس مظلوم مسلمان آزادی کی دولت سے جلد ازجلد بہراورہوں اورسکون کی زندگی گزاریں۔
اللہ ان ظالموں کو بھی نیک ہدایت دے کہ وہ دنیا میں امن کی بات کریں جنگ کی نہیں۔ جب لوگ بلا جواز کسی کشمیری کا گھر اجاڑتے ہیں۔ بچوں کو یتیم بناتےہیں تو کیا اچھا کرتے ہیں؟کبھی بھی کسی کو بھی یہ اند از جارحانہ کبھی پسند نہیں آئے گا۔مجموعی طور پر لوگ امن پسند ہوتے ہیں۔ اس لئے ہمیں بھی امن کے سلسلے میں کام کرنا چاہئے۔ دوسروں کا جائز حق چھین کر انھیں بے چین کرنے سے بہتر ہے انہیں آزادی سے جینے کا حق دے دیں خود بھی سکھی رہیں اور دوسروں کو بھی سکھی رکھنے کی اپنی سی کوشش کریں کہ یہی انسانیت ہے اور اسے برقرار رکھنا ہی زندگی ہے ورنہ درندگی، فیصلہ آپ کا ہے آپ کیا ہیں؟





































