
لطیف النساء
ہمیں کتنا خوش ہوناچاہئے اوررب کا شکر گزارہونا چاہئےکہ ہم مسلمان ہیں اور الحمدللہ! اسلامی ملک پاکستان میں رہتے ہیں لیکن نہیں ہروقت ہمارےمسلمان
بھائیوں بہنوں، دوست احباب اوردیگر کاروباری لوگ یا اہل محلہ سے ہمیشہ گلے شکوے رہتے ہیں اور ان میں رشتہ داروں سے تو مت پوچھیں،اللہ واسطے کا بیر ہونے لگا ہے بلکہ نوجوان نسل کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا ہے کہ خاندان میں شادی کا نام تک نہ لیں! اف اللہ! کیا عمل ہے ہمارا! اور کیسا ہے ہمارا رویہ! کتنے ہی خاندانوں میں بہنوں کا آنا بینڈ ہے، تو کتنے ہی خاندانوں میں دیکھا گیا ہے کہ اگر پانچ بہوئیں ہیں تو تین، دو یا ایک ساس، سسر کے ساتھ رہ رہی ہیں ،ظاہر ہے جگہ کی تنگی کی وجہ سے سب کا رہنا ممکن نہیں تو دوبہو ئیں قریبی محلہ میں الگ بھی رہتی ہیں مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ کسی ایک بہو یا دو بہوؤں کو منہ لگایا گیا ہے اور بیٹوں کو ملنےکی اجازت ہے جبکہ بہوئیں بالکل غیر بنادی گئی ہیں جبکہ ان سے دیگر لوگوں سے بھی بول چال بند کروا رکھی ہے۔
سسر جی نے کہہ دیا کہ فلاں فلاں اس گھر میں نہیں آئیں گی اور نہ دیگر بہوؤں یا نندوں سے ملیں گی جبکہ نندیں بھی اس بات پر راضی ہیں بچے چھوٹے آئیں باپ کے ساتھ ملیں جلیں مگر بہو نہ آئیں! یہ کیسی بات! کیسا ظلم؟ اگر کوئی سسرال میں اس طرح بے توقیری کرے تو اس کو کیا کہا جائے۔ پھر بھی نیک بہوئیں اپنےبچوں کوتیار کر کے دادا، دادی کے گھر بھجواتی ہیں کہ وہ خوش ہوں! مگر خود غمگین! اس کے بالکل بر عکس بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بچے اپنے بڑوں کو تنہا اور بے وقعت کر دیتے ہیں۔
مطلب ذرا توجہ نہیں دیتے،دل جوئی نہیں کرتے، جب اولاد ہی ایسا سلوک روارکھے گی تو بچے تو داد ا دادی یا نانا نانی کو بالکل ہی لفٹ نہیں کرواتے۔ گو ماں باپ نہ ہوئے دردِ سر ہو گئے یا بو جھ بن گئے لیکن سوچنے کی بات ہے کیا اس طرح پروان چڑھنے والے بچے کبھی مستحکم خاندان کے افراد کہلا سکتے ہیں؟ خود سکھ چین پاسکتے ہیں؟ کبھی بھی نہیں؟ گذشتہ دنوں ایک تقریب میں،میں نے ایک ایسے امیر ترین شخص کو دیکھا جو مجھے دیکھتے ہی انتہائی اداس اور مغموم لگے۔
اسی طرح اکثر گھروں میں، میں نے بعض ضعیف عورتوں کو، بزرگوں کو مثلاً چچا، دادا، نانی، ماما،دادی، تایا ابو و غیرہ کو انتہائی اداس چپ سادھے تو کسی کو انتہائی درجے کا بڑ بڑاتے مطلب پاگل پن کی حد تک بے تکی حرکات،من مانی، عاجزآجانے والی حرکات میں یا انتہائی غصے میں اور غیر مطمئن پایا ہے۔ افسوس ہوتا ہے کہ کیسے لوگ اس عمر میں اگربے بس اور لاچارکسی کے ہاتھوں مجبور ہو جاتے ہیں اور اگر اپنوں کے ہوں تو دکھ کئی گنا زیادہ کوئی کسی کو برداشت ہی نہیں کرتانہ ہی کرنا چاہتا ہے ظاہر ہے۔ یہ نوبت کیوں آئی؟ کل کو ہم، آپ نے بھی اللہ نہ کرے یہ دن دیکھنا پڑے تو! کہتے ہیں نا کہ اللہ تعالیٰ اچھی کمپنی اور صحبت میں رکھے۔ بعض دفعہ کچھ لوگ پہلی ملاقات چند منٹوں میں بھی وہ درس دے جاتے ہیں۔
دبے دبے الفاظ میں دل کی باتیں کہہ جاتے ہیں جو ہر کسی کو سنبھلنےکیلئے کافی ہو جاتی ہیں اگرہم مسلمان ہیں سلیم فطرت لئے ہوئے ہیں تو ہمیں ہربات سمجھ آتی ہے اور متاثر اس طرح کرتی ہےکہ ہم گزشتہ اپنی غلطیوں اور ظالمانہ رویوں پرتوبہ کرنے سدھرنے کی پوری کوشش کرنے لگتےہیں بلکہ ان عظیم شخصیات کے شکر گزار ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ہمیں زندگی میں نیکی کرنے کے سبق ملے! سبحان اللہ۔ ماں باپ جیسی تو کوئی نعمت نہیں اوررشتے داروں کی محبت اورصحبت بنابندہ کتنا بھی مالدارہو مفلس ہے۔
حال ہی میں ایک دوست کی نندکا کینسرسے انتقال ہوا صرف دو مہینے پہلےٓبیماری کا معلوم ہواتھا مگرمرحومہ کو معلوم نہ تھا،مرحومہ خود بیوہ اوربے اولاد تھیں مگر اپنے بھائی کے بچوں سے بے پناہ محبت کرتی تھیں۔ اتنی محبت کہ ماؤں سے بڑھ کر میں نے اپنے گھروں میں بھی اسی طرح دیکھاہے ۔بڑے بچوں کو کتنا پیار کرتے ہیں ،مجھے لگتاہےجیسے بچوں کوکھلونے پسند ہوتے ہیں اور وہ اُن سےگھنٹوں کھیلتے ہیں خوش رہتے ہیں، بالکل اسی طرح گھر کے تمام ہی بزرگ بچوں سے اتنا ہی پیارکرتے ہیں وہ ان کے کھلونے ہوتے ہیں اور بچوں کے والدین یعنی بیٹے اور بیٹیاں بڑے کھلونے جنہیں وہ اپنے سامنے دیکھنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ وقت گزارنا اور باتیں کرنا مطلب ان کی کمپنی میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ ان پر ہر وقت جان چھڑکتے، دعائیں دیتے ہیں ورنہ اداس! کھانے پینے اور دیگر ضروریات سے بڑھ کر انہیں ان سب کی کمپنی عزیزہوتی ہے۔
بس یہی تومستحکم خاندان کی اصل خوبی ہے۔جب گھر کے بڑے اپنے بڑوں کو عزت و احترام سے پیار محبت سے رکھیں گے ۔ اپنی شفقت دیں گے تو ہو نہیں سکتا کہ چھوٹے انہیں ادب احترام عزت و توقیر سے نہ رکھیں اور ان کے ساتھ قیمتی وقت خوشگواری سے گزاریں۔ کوئی استاد ہو،کاروباری سیٹھ ہو یا ملازم، مزدور سب کے جذبات یکساں، رشتے مقدم پیار بھرے ہوتے ہیں انھیں سنبھالے رکھنا اور دل وجان سے جوڑے رکھنا ہی زندگی کا حسن اور معاشرے کا نکھار اور آخرت کی کامیابی ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنکےگھر کوئی بھی بزرگ یا کوئی بھی رشتہ دارہو جنکی لوگ قدر کریں۔
بچے بڑے ان کی خدمت کریں۔ ان میں گھسے رہیں۔ ان کے کاموں میں مدد کریں۔ لکھنے پڑھنے گھومنے گھامنے،مسجد جانے آنے اور اگر خوا تین ہیں تو اُن کے ساتھ پرانی باتیں کرکے انکے ہزار دفعہ دہرائے ہوئے قصوں کو دلچسپی سے تحمل سے سننے کا حوصلہ رکھتے ہوئے انھیں ہمیشہ خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ جب ایک لمبی زندگی گزار کر وہ ریٹائر ہو چکے ہیں یا نہیں بھی ہوئے کسی وجہ سے بے بس ہوگئے ہیں تو بھی انکی عزت احترام، بڑا پن برقرار رکھیں۔ انکی عزت کو ہر گز ہا تھ سے نہ جانے دیں کہ یہ وہ درخت ہیں جنکی ٹھنڈی چھاؤں ہمیں دونوں جہاں میں آگ کی تپش سے بچائے گی، ان کی زندگیاں تو ویسے ہی بجھنے والی ہوتی ہیں، اپنے ناروا رویوں سے انھیں خدارا بجھنے نہ دیں یہ اللہ کی رحمتیں جنت کا انعام ہیں۔ رشتوں کی یہ نعمتیں ہر وقت شکر گزاری کیلئے ہوتی ہیں یہ اللہ کی رحمت ہیں۔ انہیں درختوں کی چھاؤں میں ہمیں دنیا کی نعمتیں اور شعور ملا ہے یہ تو ہمارا چناؤ ہیں۔ ان کی ناقدری رب کو ناراض کر دیگی اور ہم کبھی بھی ایسا نہیں چاہیں گے ہمارا عمل رب کی رضا کیلئے ہونا چاہئے۔واقعی کتنی بڑی بات کسی نے کہی ہے کہ" جس دن تمھیں یہ معلوم ہو جائے کہ جو کام تمہاری مرضی سے نہیں ہوتے وہ تمہارے لئے کتنے بہتر ہوتے ہیں اُس دن تمہاری بے سکونی ختم ہو جائے گی " سبحان اللہ!اللہ تعالیٰ ہمیں سکون عطافرما۔ آمین





































