
لطیف النساء
جس کسی کو دیکھیں الگ الک مسائل میں گرفتار ہے کوئی کہتا ہےتنخواہ کم ہے گزارا نہیں ہوتا تو کوئی کہتا ہےشوہراچھا نہیں ،توجہ نہیں دیتا کسی کو
موٹے پیٹ کی فکر ہے تو کوئی دبلا ہونے کے چکر میں لگا ہوا ہے۔ جنکی اولاد ہیں تو وہ انکی فکروں اور مطالبات کو پورا کر نے پر بھی ناخوش اور غیر مطمئن ہیں تو کوئی بےاولاد ہونے سے اتنا دل برداشتہ ہے کہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی دکھی کر دیتا ہے۔
بیماریوں سےبھی لوگ غمزدہ اوراداس ہیں تو کوئی غربت سےپریشان غرض لوگوں کےبہت ہی الگ الگ مسائل نہیں لیکن جب ہم اللہ کی بیش بہا نعمتوں کو دیکھتے ہوئے اپنی صحت کو دیکھتے ہوئے کسی مجبور کراہتے ہوئے بیمار کو دیکھتے ہیں تو شکر بجا لاتے ہیں۔ غریب کو دیکھ کر شکر ادا کرتے ہیں بسا اوقات اترا بھی جاتے میں غرور بھی دیکھاتے ہیں مگر کبھی کسی کے ہاں موت ہوجائے تو وہاں جا کرجب جب دنیا کی اصل حقیقت دیکھتے ہیں ۔ ایک بندے کو مردہ حالت میں دیکھ کرجو یقین دل میں پیدا ہوتاہےوہ نا قابلِ بیان ہوتا ہے۔چند لمحوں کیلئےانسان گُم سُم ہو جاتا ہے کہ کیسے بے وقعت ہوجاتا ہے بندہ اور جب لوگ اس کی تعریفیں کرتے ہیں یا کبھی اچانک زمینی یاآسمانی آفات سے ہلاک ہونے والوں کی خبریں سنتے دیکھتے ہیں تو بھی عجیب حالت ہوتی ہے۔
ابھی حال ہی میں ترکی اور شام میں زلزلے کےالمناک حالات دیکھ کریقین کا لیول کئی گنا بڑھ جاتا ہے کیسے کیسے معجزاتی واقعات کہ دل دہل جائے، قدرت پررشک آئے،کبریائی پرپُختہ یقین آئے کہ کیسے لمحوں میں صدیوں کا سفر دھول ہوجاتا ہے۔ جب کئی کئی گھنٹوں اور دنوں کے بعد زندہ زیرِزمین سے بچے پڑے نکلے تو نا قابل یقین باتیں حقیقت کا روپ ڈھال کر رب کے رب ہونے قادر مالک اور خالق ہونے کا یقین دلا رہی تھی تو مجھے یہ راز درست اور قابل قبول لگنے لگا اور لگنے بھی کیا لگا اب تو پکا یقین ہوگیا ۔
الحمد للہ کہ ہماراسب سےاہم مسئلہ کیا ہے؟ہمارا سب سے اہم مسئلہ آخرت سےغفلت ہے۔واپسی کے اچانک جانے کی بے فکری ہے کیونکہ ہم نے اللہ کے کلام کو اتنا گہرائی سے سمجھا ہی نہیں شاید اسی لیے کلامِ الٰہی کو باربار پڑھنے سمجھنے تدبر کرنے عمل کرکے اور پھیلانے کا ذکرہے کہ ہم اپنے اہم مسئلہ کو سمجھیں،صاف سمجھایا گیاہےکہ اپنی زندگی کے تمام تر مسائل میں سے سب سے اہم" مسئلہ آخرت" کا ہے کیونکہ اگر ہم اس کو ٹھیک کرنے کا ٹھان لیں۔
سوچ لیں گویا کہ ہم اسے اپنےسر پر سوار کر لیں اوراس مسئلےکو حل کرنے کی کوشش میں پوری زندگی بھی لگا دیں تو ہمیں یقین ہونا چاہئے کہ باقی سارے مسائل رب کائنات خود ہی حل کریگا کیونکہ اس کو ماننا ہی کافی نہیں زندگی اس کے احکام کے تابع ہو احساسِ جوابد ہی ہو تو ہی روحانی سکون اور قلبی قرا رملے گا۔
میری سہیلی نے کیا اچھی بات کہی ہے کہ اگر مرد سیرت کو ترجیح دیتے تو عورت اپنی صورت کے بجائے سیرت کو سنوارتی مگر وہ بھی دنیوی زندگی کیلئے جبکہ اصل کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے جو سیدھے راستے پر عمل صالحہ سے ملتی ہے۔ جب دنیا کے معاملات یارا ہوں اور اصولوں سے ناواقفیت نقصان کا باعث بنتی ہے۔سب کو معلوم ہے فطرت کے مطابق چلنے سے ہی زندگی برقرار رہتی ہے ورنہ بیماریاں پریشان اور گناہ گاریاں ہی جنم لیتی ہیں۔ یہ محض آخرت کا احساس ہی ہے جو ہمیں بڑے سے بڑے فیصلے تک کروانے پر آمادہ کر دیتی ہے۔
واقعی وہ شخص کتنا ٹوٹاہوگا کتنا دل اسکا کُڑھا ہوگا جس نے یہ الفاظ کہے ہونگے کہ" میں نے تمہیں اور تمھاری تمام دی گئی دینی اذیتوں کو معاف کر دیا،معلوم ہے کیوں؟ تاکہ ہمیں دوبارہ رب کے سامنے نہ ملنا پڑے'' واقعی زندگی کی کیا حقیقت ہے۔ ہروقت ایک نئی چاہ،ایک نئی آرزو ایک نیا گمان اور ایک نیا مسئلہ یعنی سو چیں۔
بکھری پڑی ہیں پتوں کی طرح لوگوں کی چاہتیں
کوئی حاصل پہ رورہا ہے کوئی لا حاصل پر
کہتے ہیں ہر حال میں رب کا شکر کریں۔ اُس کی نعمتوں کا اس کی مہربانیوں اور اپنے نصیبوں کا کیونکہ کیا یہ خوش نصیبی نہیں کہ آپ کو سب کچھ ملے بلکہ خوشی نصیبی تو یہ ہے کہ آپ کسی بھی حال میں ہوں لیکن آپکادل مطمئن ہو اور آپ اللہ کے ہردم شکر گزار ہوں ۔ یعنی اللہ سے مضبوط تعلق ہو اتنا مضبوط کے اُس احساس سے ہی ہمیں عافیت بھی ملے عزت بھی یعنی یہ خوش نصیبی ہی تو ہے کہ ہمیں رب کی شکر گزاری کی توفیق بھی ملتی رہے اور ہم اپنی ذات کو معاملات کو اللہ ہی کی مدد کے ساتھ خود حل کرنے کی کوشش کریں اور گلہ شکوہ کبھی نہ کریں۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین





































