
لطیف النساء
دنیا حادثات کا گھرہےاورمستقل امتحان کی جگہ۔۔۔۔ یہاں ہر صورت قدم قدم پر نت نئے امتحان سےگزرنا پڑتا ہے۔ سمجھداری یہ ہےکہ اللہ کوحاضر
ناظر جان کر احساس جواب دہی سےاپنے فرائض ادا کرتے رہیں۔ پہلی بیوی میں اگرکوئی ایسی کمی ہو جس کی وجہ سے مرد سمجھوتہ ہی نہ کرپائے مثلاً اولاد نہیں ہورہی توانتظار، صبر، شکر کا راستہ اپنانے کے بجائے فوراً طلاق دے کر دوسرا بیاہ رچالے!اور پر سکون زندگی گزارنے کا سوچ لےجبکہ ایسا بھی ہے کہ کچھ خواتین دوسری شادی کی اجازت بھی دے دیتی ہیں مگر بہت ہی تھوڑی خواتین ایسا کرتی ہیں۔
اس ڈرکے ساتھ کہ شوہرصاحب اس سے بدسلوکی،ظلم زیادتی ناانصافی کرکے اسے تنگ نہ کریں لیکن پھربھی طلاق حل نہیں! لیکن ہمارابےصبرامعاشرہ کیا کیا جائے؟ قرآن میں صاف لکھا ہے کہ اگردوسری بیوی کرو تو عدل کرو یہ نہیں کہ کسی ایک کو توجہ دو اور دوسری کو لٹکا کر چھوڑ دو۔ جورب سے ڈرتے ہیں وہ ایسا نہیں کرتے۔
آج کل میڈیا کی بےلگامی نے بھی خواتین کے اندر طرح طرح کی شیطانیت بھر دی ہے۔ نوکری، دولت، فیشن، دکھاوے اورمقابلے کے چکر میں عورتیں مردوں سے بے وفائی کر جاتیں ہیں۔ جتاتی ہیں،اتراتی ہیں،سر چڑھ جاتی ہیں۔ حقوق کی ادائیگی کی پروا ہی نہیں کرتیں تو بھی طلاق کی شکل آگے آجاتی ہے۔ پھر آج کی مہنگائی میں مرد حضرات روزی روزگارکیلئے پریشان، اچانک روز گاربند ہو جانے یا دکان نہ چلےتو بھی صبر شکر کھوبیٹھتے ہیں یا بیویوں پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو یا تو وہ خود بیزارہوجاتی ہیں اور خلع کا مطالبہ کرکے اپنی اور دوسروں کی زندگی جہنم بنا دیتی ہیں۔
مرد اورعورت دونوں ہی برابر کےشریک ہیں۔ نکاح کی شرط تو دکھ سکھ کے ساتھی ہونے کی تھی مگر یہاں یکسر اللہ کے اس قانون کو پامال کیا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کی عزت اچھالی جاتی ہے۔ مرد قوام ہےاسے بہر حال کوشش اور محنت کرنا چاہئےاوربیوی کو حکمت سے پیارمحبت سے صبر شکرکے ساتھ کفایت سے گھرچلانا اورسکون فراہم کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے اور مرد کےساتھ تعاون کرنا چاہئے۔
محنت سے گھبرانا نہیں چاہئےکیونکہ رات کتنی ہی کٹھن ہوگزر ہی جاتی ہے۔ اللہ ضرورصلہ دیتا ہے،حالات بدل دیتا ہے۔بعض مرتبہ بلکہ اکثرآج کل تو دونوں ہی یعنی مرد عورت نوکریاں کرتے ہیں ۔ اب یہ لک ہےکسی کی اچھی ہوتی ہے تو کسی کی ذرا کم۔۔ تواس پر اکڑنا نہیں چاہیےنہ ہی جتا نا چاہیے۔ اگر مرد ذرا کم ہےتو کوئی بات نہیں، وہ بھی بیوی کا دوسری طرح سے خیال رکھ لےاس کے آرام کا، تفریح کا، کام کاج میں بچوں کو پڑھانےلکھانے،لانے لیجانے میں بھرپورتعاون کرے۔ اگر ماں باپ قابل تیمارداری ہیں تو ان کا خیال رکھ کر بیوی کوذہنی جسمانی سکون دینا بہترین مدد ہے۔ بجائے اسی کے زور زبردستی سے احکام منوانا اور ڈنکے کی چوٹ پراحکام چلوانا،من مانی کرنا، عورت کو بات بات پرذلیل ورسواکرنا ،طعنے دینا دونوں کیلئے براہے بلکہ بہت ہی بُراہے اس طرح بچے بھی متاثر ہوتے ہیں اور اسی خود غرضی کی وجہ سے وہ اپنے ہی بچوں پرنا قابل تلاقی ظلم بلکہ دوخاندانوں پر بلکہ پور ے معاشرے پرظلم ہے اورزمانے بھر کا بگاڑ ہے۔
اس سے بچنا ہی گھر کی،اپنی اور معاشرے کی عافیت ہے۔ ورنہ بچے بھی باغی، یا خودسریا پھر ذہنی مریض بنتے ہیں۔ اپنی انا کیلئے اتنا بڑا ظلم کون کر رہا ہے۔ سوچئے؟ آپ تو با اختیار ہیں۔ اللہ کو ماننے والے ہیں ۔ اللہ کی ماننے والے پھر ایسا کیوں؟ غلطی کا احساس بھی غلطی کرچکنے کے بعدہوتا ہے۔ یعنی جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ ایسے میں بھی کچھ خدا کے بندے اللہ اُن کو اجر عظیم عطا فرمائے خاص کر مرد حضرات! دو تین بچوں کو ساتھ رکھتے ہیں اور دوسری شادی کرلیتے ہیں۔ توقع وہی ہوتی ہے کہ یکسر سب کچھ بلا تعاون یک طرفہ ہو جائے۔بیوی نہ ہوئیں ابا، بچوں، ساس سُسر کیلئے نئی ملازمہ ہو گئیں۔ نیک سیرت خدا خوفی اور دین ایمان والی بچیاں یہ سب کچھ کرلیتی ہیں اور بخوبی گھر چلا لیتی ہیں۔ ہزا رہا مثالیں پڑی ہیں۔ چند دنوں میں کا یاپلٹتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اتنی عزت تو قیر عطا کرتے ہیں کہ زمانہ مثال دیتا ہے لیکن حادثاتی طور پر تو کہیں جان بوجھ کر عور تیں ہی عورتوں کا استحصال کرتی ہیں ان کا حق مارتی ہیں؟ ان سے تعاون نہیں کر تیں بلکہ اتنا تنگ کرتی ہیں کہ یا تو وہ خود خلع لے لیں یا مرد خود بہانے تلاش کرکے، یاسینہ زوری کرکے طلاق دے دیتا ہے جو بڑا گناہ ہے۔
دوخاندانوں پرظلم ہے معاشرےکا کھلا بگاڑہے۔اس کی کبھی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ اچھا یہاں بھی یکسانیت نہیں۔ میڈیا نے دین سے دوری کی راہیں ہموار کر دی ہیں لہٰذا مرد کسی سے دوستی کرتا پھررہا ہے اورعورت جل کڑھ رہی ہے۔ یعنی دوسری شادی کے بعد بھی اس طرح بعض جگہ عورت پریشان ہو رہی ہےتو آج کل دیکھنے میں آیا ہےکہ دوبارہ طلاق ہو جاتی ہے۔ معاشرے کا مزید بگاڑ، مزید تباہی۔اسی لفظ سےتوعرش ہل جاتا ہےجبکہ یہاں اسے مذاق سمجھ لیا گیا ہے۔
لڑکی کی اگر دوسری شادی ہوئی ہےتو اتنا تنگ کیا جائیگاکہ الزام لگا کریا کوئی نہ کوئی بہانا بنا کرفارغ کر دیاجا تاہے۔ بہت کم شکرگزاراللہ کے بندے ایسا نبھاتے ہیں کہ نسلیں یاد رکھیں یہ کمال ہے۔ورنہ وبال! آجکل توعجیب ہی حال ہےشادی کو تین مہینے نہیں گزرتے کے طلاق!جی کیا ہوا؟ انڈراسٹینڈنگ نہیں ہوئی! کمال ہے چلو دوبارہ شادی بلکہ دونوں نے دوسری جگہیں شادیاں رچالیں۔ اب بھی چین نہیں معلوم ہوا ۔ اب پھر طلاق ہو گئی کیوں؟ تو معلوم ہوا کہ پہلی شادی کے خمیازہ بھگت رہے ہیں تو کہیں موبائل اور فیس بک نے پرانے عاشق بلکہ بچپنےکے عاشق اچانک سامنے لاکھڑے کر دیئے!لو جی اپنےننھے منھے معصوموں کو چھوڑ چھاڑ بڈھی گھوڑی لال لگام یا بڈھے طوطوں نے نیا ناطہ جوڑا۔ باقیوں سے رشتہ توڑا، نہ افسوس نہ ملال، نہ حقوق نہ فرائض، میں اورمیری مرضی! اللہ کی پناہ۔
ان میں بھی جو حقیقت میں مسائل سےگزررہےہیں اورمعصوموں کی بھر پورمدد کرنا چاہ رہےہیں وہ بھی پس جاتے ہیں ۔انہیں بھی لوگ شک سے دیکھتے ہیں یا پھر ایسی مومنانہ صفات والے لڑکیاں آگے نہیں بڑھتیں یا انہیں ان کے والدین پڑھنے نہیں دیتے۔ زمانے سے ڈرتے ہیں اللہ سے نہیں۔ مستقبل تو کسی نے بھی نہیں دیکھا۔ اگر انسانیت کا احترام کرتے ہوئے بچوں سمیت والد یا والدہ کو تیسری مرتبہ بھی اپنا لیا جائے یعنی ضروری نہیں کہ صرف مرد کے پاس بچے ہیں بلکہ عورت کے پاس ہیں تو اس کی تیسری شادی بھی آسانی سےہو جائے تو کوئی بُری بات نہیں بلکہ ایک نیک اور تعلیم یافتہ عورت ایک معاشرے کی تربیت کے مترادف ہو جائے کوئی احسان نہیں احساس ہے۔ اللہ کی خاطربچوں کے اچھےمستقبل کی خاطر ہر طرح کی قربانی دینا ہی ایک مومن کی آرزو ہوتی ہے۔ اسی طرح دودو، تین تین بچوں کی ماں سے بھی تیسری شادی صاحبِ حیثیت مرد بہت اچھی طرح نبھا سکتا ہےاورہمارے معاشرے میں اس کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ سبحان اللہ!بس اللہ پر یقین توکل اور احساسِ ذمہ داری کی بات ہے اگر رشتے احساس کے ہوں تو سب اپنے ہیں ورنہ اپنے بھی پرائے ہیں۔
آج کل ہمارے معاشرے میں تیسری شادیاں بھی کافی دیکھنےاورسننے میں آرہی ہیں۔ آفرین ہے ان نئی کنواری باشعوربیویوں پر جوبچوں والےدو دو بار اجڑے گھر والے مردوں سے شادی کر کےنہ صرف انہیں تحفظ دیتی ہیں بلکہ ان کے بچوں پرخصوصی توجہ دیکر ماں کا حق ادا کرتی ہیں ۔ بالکل اسی طرح وہ حضرات بھی قابل تعریف ہیں جو بیواؤں اوریک بار یا دو بار کی طلاق یافتہ ، بے اولاد یا اولاد والیوں سے نکاح کرتے ہیں اورسارے حقوق نبھاتے ہیں۔ ساری بات خلوص کی ہے۔
حادثے کے بعد بھی اگرآنکھیں کھل جائیں تو غنیمت جانیں کہ معاشرےکاسدھار بہرحال مقدم ہے۔اللہ پاک سب کو عقل و شعورعطا فرمائے اور انسانیت کا دردعطا فرمائے۔ زندگی جیسی نعمت کومقصدیت پر پرکھنا ہی انسانیت کی معراج ہے اللہ کی خاطر اس کی رضا کی خاطر کئے گئے کام ہی ہمیشہ امر ہوتے ہیں۔





































