
لطیف النساء
اتنے دنوں سے عورتوں کے حقوق" آٹھ مارچ" حقوق نسواں اورنہ جانے کیا کیا موضوعات نظرسے گزر رہےتھے بسا اوقات تو یہ سب باتیں
بڑی مضحکہ خیز لگتی ہیں جب عورتوں کےرنگ ڈھنگ بگڑے، حلیے،بدلے اور بےجا آزادی والی حرکتیں دیکھتی ہوں،پڑھتی ہوں تو افسوس بھی ہوتا ہےمگر ایک بے چینی اور بے سکونی کااحساس ہردم رہتا ہے کہ ہم الحمد للہ مسلمان ہیں اورہمیں کتنا ہی شکر گزارہونا چاہئے کہ ہمارے مرد حضرات کتنے محنتی ذمہ دار اور باکردار ہیں۔
الحمدللہ سوائے چند کے جنہیں دین سمجھنے کی توفیق نہ ملی یا جنہیں دین کاشعورنہیں یا انہوں نے خود کوشش نہیں کی ۔ بہر حال ان مردوں کے غیر ذمہ دارانہ رویوں اور بگاڑ میں بھی کہیں نہ کہیں معذرت کے ساتھ ایک عورت کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔
پچھلے دنوں ایک پڑوسی خاتون سے ملاقات ہوئی جو گزشتہ چند سال سے کراچی میں رہ رہی ہیں۔ سعودی عرب سے اب مستقل یہاں رہنے آگئی ہیں۔ اتفاقاً میں نے کہا کہ ڈبل روٹی جو 35 کی آتی تھی اب 120روپے کی ہوگئی ہے اور چاول کو دیکھیں کتنے مہنگے ہوگئے ہیں؟ آپ نےکیسے لئے، اتنے اچھے چاول؟ رکھا ہوا تھیلا دیکھ کر میں نے پوچھا۔ کہنے لگیں مجھے کسی کا کچھ نہیں پتا ۔ آپ کے بھائی سب کچھ لاتے ہیں کہہ رہے تھے مہنگے ہوگئے ہیں پھر کہنے لگیں یہ سب کام ہمارے آدمی کرتے ہیں سارا سودا سلف ،ہمیں کچھ نہیں معلوم ہوتا،ہم تو وہاں کبھی سودا سلف لانے نہیں جاتے تھے وہی اچھا ہے۔ آپ لوگ خود جاتے ہو توآپ کو معلوم پڑتا ہوگا۔
میں سوچنے لگی واقعی ہمیں کتنا شکر کرنا چاہئے اس رب کا جس نے ہمیں اتنا معزز بنایا۔مرد کو قوام بنا کرواقعی عورت کو ہزاروں فکروں سے آزاد کر دیا۔سبحان اللہ۔ آج بھی ہزاروں گھروں میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔ہم بھی شادی سے پہلے اس طرح خریداری کبھی نہ کر تے تھے۔ زیادہ تر باہر کے کام ابا اور بھائی ہی کیا کرتے تھے۔ پھر مجھے ایک تحریر پڑھنے کو ملی کہ ایک صاحب نے کسی خاتون سے پوچھا کہ کیا آپ کو مردوں کے برابر حقوق ملنے چاہئیں؟ تو اس عورت نے ایسا جواب دیا کہ نہ صرف وہ حیران ہوئے بلکہ لا جواب ہوگئے۔ کہنے لگیں مجھے برابر کے حقوق نہیں چاہئیں۔ میں اس میں ہی خوش ہوں کیونکہ مجھے جائیداد میں باپ کی طرف سے، بھائی کی طرف سے، بیٹے کی طرف سے اور خاوند تک کی طرف سے حصہ ملتا ہے،میں اس سے محروم ہونا نہیں چاہتی۔ میں کہیں جاب بھی کرتی ہوں تو مجھے سہولیات دی جاتی ہیں۔
برابری کے حقوق سے مجھے فائدہ نہیں ملے گا ۔آپ نے دیکھا نہیں بینک، ہسپتال، مارکیٹ ہر جگہ لیڈیز فرسٹ کے اصول پر ہمیں کتنی بڑی سہولت مل جاتی ہے۔ میں کبھی ملنے جاؤں توابو میرے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اورپیار سے ملتے ہیں اوربھیا کو تو بیٹھے بیٹھے سلام کر لیتے ہیں۔ کتنی خوش قسمت ہوں میں!ہم کہیں باہر جاتے ہیں یا سفر پر ہوتے ہیں تو مجھے اور میری بیٹی کو صرف ہینڈ بیگ یاہلکا سامان دیکر باقی سارا بوجھ اور کام وہ کرتے ہیں۔ اگر گاڑی خراب ہو جائے تو دھوپ میں خود کھڑے ہوکر بھیا اور ابو گاڑی ٹھیک کرتے ہیں دھکے لگاتے ہیں ۔ اسٹارٹ ہونے تک بسا اوقات ہم اندرہوتے ہیں۔ برابری کی صورت میں یہ مشکل کام ہمیں بھی کرنا پڑتا ہے۔
سارے بڑے بڑے مشکل اور محنت والے کام مردوں پر پڑ جاتے ہیں۔ نہ بل ادا کر ناپڑتاہےنہ ہی پینٹ والے کے پیچھے دماغ کھپانا پڑتا ہے۔ نہ الیکٹریشن کو بلوا کر کام کروانا۔کمانے کی ذمہ داری بھی نہیں جبکہ میاں کو، بھیا کو نکلنا ہی نکلنا ہوتا ہے۔ کبھی گرمی ہو تو روٹیاں بھی منگوا لیں۔ کبھی کبھارتھک گئے توکھانا بھی بازار سے منگوا لیا جاتا ہے جو یہ لوگ ہی لاتے ہیں لیکن انہیں کام کی چھٹی نہیں۔ ان کی آمدنی پرمجھے حق ہے۔ میرا لباس جوتے ان سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسے بے شمار فائدے ہیں جو خود بخود مجھے مل گئے ہیں۔
برابر کے حقوق میں تو فائدے کے بجائے نقصان ہی نقصان ہےجیسے مغربی ممالک میں غیر مسلم لوگ کرتے ہیں۔ہمیں توشکر گزار ہونا چاہئے واقعی اس عورت نے لاجواب کر دیا۔
ابھی ہمارے گھر مہمان آئے اُن سے میں نے 12 کلو چاول منگوائے تھے۔ دوعورتیں اورایک بچی تھی ملنے آنا چاہ رہی تھیں ۔کہنے لگیں اچھے چاول آئے ہوئے ہیں آپ لے لیں؟ میں نے کہا لے آئیے گا تو وہ رکشے میں آئیں ان کے ساتھ دو نمکو کے پیکٹ اور چند چھوٹے تھیلے تھے اور اتنے وزنی چاول! میں نے کہا ارے اتنے اوپر آپ چاول کیسے لے آئیں؟ کہنے لگیں ہم نہیں لائے ہیں بے چارے رکشے والے بھائی نے لا کررکھے ہیں۔ مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ دیکھیں کتنی بڑی بات ہے! کیسی خدمت ہے! جواس دین کا تحفہ ہے۔سبحان اللہ! اور واقعی میں نے کتنی دفعہ ان مرد حضرات کو ہزارہا مواقع پر بے لوث خدمات کرتے دیکھا ہے۔سڑک پارکر وانے میں، کتے جو کہ جگہ جگہ ہمیں پریشان کرتے ہیں بسا اوقات آگے بڑھ کر ہمیں بچاتے ہیں۔ مطلب ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ عورتوں پر کم سے کم بوجھ آئے۔ تو بتائیے اس میں ہمارانقصان کیا ہے؟ وہ بھی باعزت طریقے سے۔
ہاں البتہ عورتوں کو بھی ان کی قوامیت کا غلط فائدہ نہیں اٹھاناچاہئےرب کی ذات بڑی قدردان ہے۔ وہ سمیع اوربصیر ہے ہماری نیتوں کو جاننے والا! رائی کے برابر بد لے دے گا۔ قیامت کے دن!ہمیں اس کا کہنا ماننا ہے اور اپنی اس باعزت پوزیشن کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے بلکہ ہمیں بھی ان کا اتنا ہی خیال رکھنا چاہئے۔
ان مال اور عزت وآبرو کو سنبھالے رکھنا ہےاوران پر کبھی آنچ نہیں آنے دینا چاہئے،مرد قوام ہیں۔ ان کی قوامیت ہی در اصل عورتوں کی با عزت زندگی کی ضامن ہے۔ اگر عورتیں ہی انہیں بلا جواز بے عزت کریں، تکبر دکھائیں یا کسی بھی وجہ سے تنگ کریں تویہ معاشرے کا بگاڑ ہوگا کیو نکہ جب گھربگڑتا ہے تو پورامعاشرہ بگڑتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر مرد حضرات اپنے حقوق ادا نہ کریں سستی اور کاہلی دیکھائیں، نہ کمائیں، نہ کام کاج کریں بلکہ بلا ضرورت رعب ڈال کر زبردستی حکمرانی دکھائیں تو یہ بھی غلط رویہ ہے اورمعاشرے کا ناسور ہے۔
جب گھر میں خوشی نہیں تو معاشرہ کیسے خوشحال ہو ہو سکتا ہے؟خوش گوار ماحول اورخوبصورت معاشرے کیلئے ہر بندے کو ایمانداری سے خداخوفی سے اپنا اپنا دنیاوی اوردینی فریضہ احسن طریقے سے نبھانا ہوگا۔ حرام کمائی اور کاموں سے اجتناب کرنا ہوگا اور پوری زندگی شریعت کے مطابق گزارنی ہوگی ۔تب ہی ایک فلاحی اور اصلاحی معاشرہ جنم لے گا۔
الحمد اللہ ہمارے مردوں میں ابھی اتنا شعور ہےاور عورتوں میں بھی اسی لئے ہمارا ملک باوجود ہزار کرائسز کے اچھی طرح ہی چل رہا ہے۔ د عا ہے کہ اللہ پاک ہمیں استقامت عطا فرمائے اور ہم سب حقوق العباد اور حقوق اللہ کو بخوبی سمجھ کر شعوری طور پر مرتے دم تک ادا کرتے رہیں۔





































