
لطیف النساء
کہنے اورسہنے میں بڑا فرق ہے۔ میڈیا اتنا آزاد ہونےکے باوجود ظلم کےساتھ ہےاورحقیقت نہیں دکھاتا ۔ لگتا ہے یہ بھی بکا ہوا ہے۔ اکا دکا
ویڈیوز جو نہتے مسلمانوں پراسرائیلی بربریت کی دیکھائی جارہی ہیں اوردیگر مسلم دنیا کواتنا زیادہ باخبر نہیں رکھا جا رہا لیکن پھر بھی ظلم کی یہ انتہا خود ان پرانشاء اللہ بھاری پڑنےوالی ہے۔ ظلم زیادہ عرصے تک جاری نہیں رہتا۔ آخرکار خود اپنا ہی براانجام دیکھتا ہے۔کتنے معصوم بچے عورتیں اور نہتے مرد حضرات، کیسےاسلحہ سے لیس اسرائیلی فوجوں کےچنگل میں پھنسے ہیں؟ کیا یہ اقوام متحدہ کی امن کمیٹیوں کو نہیں دکھائی دیتا؟ اورکیا انسانی حقوق کی تنظیمیں سوئی پڑی ہیں؟ مسلمانوں کی غیرت کیوں نہیں جوش میں آتی اور ساری دنیا کے مسلمان، پاکستان کے مسلمان کیوں اس کھلی برائی کے خلاف نہیں ڈٹتے؟ کیا سب کچھ دیکھ کر بھی ہمارا تماشائی بنے رہنا ہمیں زیب دیتا ہے؟ قرآن کی وہ آیات ہم سب سے کیا مطالبہ کر رہی ہیں کہ جب نہتے بے یار و مددگار لوگ مدد کو پکاریں توکیا ہم ان کی مدد نہیں کریں گے۔ انہیں ظالموں سے نہیں بچائیں گے؟ مدد کا ہر ذریعہ استعمال کرنا ہمارا حق ہےروپے پیسےسےاولین جہاد کریں۔
جہاد بالقلم کریں لوگوں کو اکسائیں۔امن کمیٹیوں کو اعلیٰ حکام کوبین الاقوامی انسانی حقوق کےاداروں کوجھنجوڑیں، ہر میدان میں اپنی سی کو ششیں کیجئے اور اللہ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالی دشمنوں کی چا لوں کو ان ہی پرپلٹ دے اور ان کی ٹیکنالوجی اورآلات حرب کو ناکارہ کردے اور ان ظالم یہودیوں کو ان کی نسلوں کو ان کےگھروں کو تباہ کر دے۔ آمین۔
اُن کے دلوں کا سکون غارت کر دے اور ان چند مسلمانوں کو نہتےمسلمانوں مردعورتوں بچوں کو وہ جرأت حیدری عطا فرماکہ مکھیوں کی طرح ظالموں کو اپنے ایمانی اسپرے سے لمحے میں ہلاک کردیں اور ایک انچ بھی ان کے قبضے میں فلسطین کو نہ جانے دیں۔ اسرائیلی علاقوں پراپنی ایمانی قوت کی ایسی دھاک بٹھائیں کہ وہ خود علاقے چھوڑ کر منہ موڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو جائیں۔ یہ دنیا واقعی دارلامتحان ہے۔ یہاں قدم قدم پر آزمائش ہے۔ اللہ پاک جرأت دے۔
قدم قدم پہ وہی آزمائے جاتے ہیں
کہ زندگی کے نشاں جن میں پائے جاتے ہیں
ہماری اسلامی حکمران دنیا کے 57 اسلامی ممالک کہاں کھوئےہوتےہیں؟ بےایمانی اوربرائی اورظلم کے خلاف نہ تحریک چلا کر یہ تو مزید ظلم کو دعوت دے رہے ہیں۔ ہمیں تو حکم ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا اور ہم سب ظلم دیکھکر کچھ نہیں کر رہے! اسطرح توان ظالموں کے حوصلے اور بڑھیں گے۔ برائی کو ہر سطح پر روکیں اور وقت پر روکیں یہ فرض کفایہ نہیں بلکہ اب تو فرضِ عین بن گیا ہے۔ خوب خوب دعائیں کریں۔ جب دنیا میں ملبوساتی فیشن، اشیاء خوردنی،فوڈآئٹمز اتنے اپناتےہو،ٹیکنالوجی اپناتے ہو تو برائیوں سے ظلم سے کیوں نہیں روکتے۔ اس ٹیکنا لوجی کو انسانی فلاح و بہود کیلئے استعمال کرکے ہی دنیا پر چھا جائیں۔
فطرت پر چلیں اور رب کی مانیں تو ہی کامیابی ہے۔ حق کو حق کہنا ہی نہیں بلکہ اس کیلئے سہنا اوربہت کچھ کرنا ہوگا ۔ مسلمانوں منظم ہو، اتحاد اور ایمان کی قوت بنو، برائی کے خلاف ہر محاذ پر ڈٹ جاؤ،اپنا کام کئے جاؤ ، انجام اللہ پر چھوڑ دو۔ چار دن کی زندگی جسے موت آنی ہی ہے تو کیا اس کو مقصد کیلئے نہ استعمال کیا جائے؟ مسلمان تومسلمان کا بھائی ہےپھ اس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان کب اور کیسے محفوظ ہون گے؟ آج سے ابھی سے اللہ کی مدد اور دعاؤں کے ساتھ منظم رکھنا اپنامشن پورا کرنے کا بڑا ارادہ کریں۔ دنیا کو ہلادیں ہمت کریں کہ ہمت مرداں مدد خدا اپنے ہی چکروں میں رہیں گے تیری میری میں لگے رہے۔ منظم نہ ہوئے دوسروں کا درد نہ پایا توہوئے نہ خود غرض!تو بھلا ایسی زندگی کا کیا فائدہ جو دوسرے مسلمانوں کو تکالیف سے نہ بچائے؟ اللہ ہماری مدد فر مائے ورنہ یا د رکھیں یہ مظلوم بچے رب سے شکایت کر یں گے کہ انہوں نے ہمیں بے یارو مددگار چھوڑ دیا تھا۔ اللہ انہیں دگنا عذاب دے۔ اللہ نہ کرے کہ ہم وہ سہہ سکیں گے؟ مظلوم عورتوں بچوں اور کمزوروں کیلئے اُن کی جانوں کیلئے اپنی جانوں پر نہ کھیلیں گے؟ پھر سوچ لیں اپنا انجام۔





































