
لطیف النساء
کتنی کوششوں کےبعد ہزاروں لاکھوں روپےخرچ کرکے انتھک محنت اور ڈھیروں دعاؤں کےساتھ والدین اپنےبچوں کی شادی کرتے ہیں۔اس اُمید
کےساتھ کہ اللہ پاک ان رشتوں میں پیارمحبت دے اوریہ پھلے پھولیں۔ تقریبا ًسب ہی والدین کی یہ کوشش ہونی چاہیےکہ جب انہوں نے ایک مرتبہ اللہ کےنام پراپنی بیٹی کورخصت کردیا تو اسے لاکھوں کا جہیزاورپُرآسائش اشیاء دینےسے زیادہ اس بات کی نصیحت کرنا چاہیےکہ بیٹی یہ تیرا نصیب ہے اور نصیب اللہ بناتا ہے۔اس کو سنبھالے رکھنا، گھر بسائے رکھنا ،شوہر کے گھر کی اُس کی اولاد کی عزت آبرو رکھنا اوران کیلئے ہی اپنے آپ کو بخوشی مصروف رکھنا۔ یہ نہ صرف گھرستی ہے بلکہ عبادت ہے۔ اسی طرح اگربیٹا ہوتو اسے ذمہ داروفادار اور محنتی ہونا چاہیے،خودداری ہونی چاہیے۔کم میں بھی پیارمحبت اورتعاون سےبیوی کا دل جیت لینا اوراسی کوسُکھی رکھنا، تحفظ دینا اورعزت سےرکھنا ہی اس کی قوامیت ہے۔شروع شروع میں تو حالات سب کسی نہ کسی حد تک ٹھیک چل رہےہوتےہیں مگرجیسے جیسے ذمہ داریاں بڑھتی ہیں رشتوں کے معاملات سامنےآتے ہیں،سمجھیں کبھی کوئی بات پراونچ نیچ ہوجائے،کوئی کمی بیشی ہو جائے تو آجکل جوواقعات معاملات چل رہے ہیں نہ تو اس میں دیکھا گیا ہےکہ معمولی معمولی باتوں پربہت ہی حقیرسی باتوں پر، ذرا سی تکلیف یا معاملات ہوتے ہیں تووالدین اپنی بیٹیوں کوخود لےجاتے ہیں یا وہ خود ایک کی چارلگا کرجا بیٹھتی ہیں۔بجائےاس کے کہ ا نہیں سمجھائیں بجھائیں اوردکھ تکلیف پرصبراوررا ضی رکھنے کی کوشش کریں۔ صبر شکر سےرہیں، بر وقت قربانی دیکران کی خدمات کریں کیونکہ رشتوں کااحترام ہی قربانی مانگتا ہے لیکن اس کے برعکس لوگ انا کا مسئلہ بنا کر بیٹیوں کو گھر بٹھا لیتے ہیں جو بالکل غلط ہے۔اپنا سمجھ کر داماد کو سمجھائیں پیارمحبت سے جہاں ضرورت ہو خودداری کومجروح کیے بنا اس کی مدد کریں اورگھر بنائے رکھنے میں تعاون کریں ناکہ الٹا بیٹیوں کوشہہ دیں۔ اس طرح وہ چڑھ جاتی ہیں چند دنوں کی محبت لاڈ پیارزندگی بھر کا ازالہ کبھی نہیں کرسکتا۔ شوہر کا گھر شوہر کا گھرہے،اس جیسا سکون قراراورعزت اسے کہیں بھی کبھی بھی نہیں مل سکتی۔ یہ بات اٹل ہے میں اور میری انا، میری مرضی تو کبھی بھی نہیں ہونی چاہیے۔والدین کی اس منفی سوچ اورمنفی رویئےسے آج کل جوبرےحالات واقعات ہورہےہیں اللہ کی پناہ!یہ شیطان کی چالیں ضرورہیں لیکن ہم!شیطان کو اپنے اوپر طاری کیوں کریں؟ فعل بدہم کریں الزام دیں شیطان کو، یہ درست نہیں۔ ذرا سی بات پراپنی بچی کو اپنے گھر بٹھا لینا تو معاملات بڑھ کر طلاق یاخلع تک پہنچ جاتے ہیں جو سراسرمعاشرے کا بگاڑہے، فتنہ ہے جو قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔شادی تو کر دیتے ہیں مگر آئندہ کیلئے حکمت عملی درست ہوگھر میں بناؤ پرلگے رہیں، بگاڑ پر بات کبھی نہ جائے۔
یہ المیہ ہے!جو آج کے دور میں ہرچوتھے گھر ہورہاہے!افسوس! مائیں خاص کراس میں زیادہ ملوث ہیں اور وہ بیٹیاں بھی جو دنیاوی لحاظ سے تو بہت مضبوط ہیں ممکن ہے کوئی بڑے عہدے یا منصب پر بھی ہوں یا نہ ہوں بڑے گھرکی ہوں یا چھوٹے گھر کی ۔اخلاق ہی کسوٹی ہے ایک ذراسی حرفِ نظر ایک ذرا ساصبر اور قربانی نہ صرف سکون دیتا ہے، دلوں کو جوڑ کررشتوں کو مضبوط بناتا ہے،یوں محفوظ گھر، نیک عورت مستحکم گھرانہ اور پر امن معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
اگر بچوں کے باوجود بھی اس طرح کےحربے ہوتے رہے تو بڑی ہی تباہی ہوتی ہے۔ اللہ تو کل پر جب بچی کوجب اللہ کے نام پر دے دیا تو دے دیا ۔ انہیں اس گھر کی عزت کا تو قیر کا پاس رکھنا ہے۔یہ کیا بات ہوئی کہ ذراسی بات پر بہانہ بنا کر دو دو، چار پانچ بچوں کو چھوڑ کر ماں کے گھر جا کر آرام سے بیٹھ جائے تو یہ کتنا بڑا ٹارچر ہے۔ دو خاندانوں کیلئے خود اپنی ہی اولاد کیلئے؟ یہ سوچیں ، باپ انہیں دیکھے یا نوکریاں کرے؟ اس فتنے کے دور میں فتنوں کو کم کرنا ہی بڑی حکمت ہے۔ نکاح کا مقصد سمجھیں۔ ویسے بھی کربھلا ہو بھلا، یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ اچھا کریں، نتیجہ بُرا آئے!وقت لگے گا، رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ پس جانے کے بعد اور جو زیادتی کرے گا تو اللہ سمیع اوربصیر ہےحکیم ہے۔ وہ خود آپ کی نیتوں پر آپ کو اٹھائےگا، اس لیے والدین کوچاہئے کہ معاشرے کی اس اکائی کو یعنی میاں بیوی کے رشتے کو عزت کے ساتھ سدھار کی طرف لےجائیں اور بگاڑ کا سوچیں بھی نہیں،نہ عورت ،نہ مرد۔ اللہ کی لعنت ہے اس برائی پرجو آپ کےسر کا تاج ہےاسے ٹھکرا کر آپ کیسے خوش رہ سکتے ہیں؟





































