
لطیف النساء
واقعی کتنی گہری بات ہےکہ یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے۔زندہ لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی کیلئے،دنیا و آخرت کی بھلائی کیلئے۔یہ توایک ایسا معجزہ
ہے کہ جو اس کو سمجھ کر پڑھتا ہےتڑپ سے، لگن سے، طلب سے راہنمائی ہدایت اور شفاما نگتا ہے اس کی دنیا ہی بدلنے لگتی ہے ۔ اس کی زندگی میں ایک سکون اورصبر آجاتا ہے اور وہ استقامت کیلئے اور اسے اپنی زندگی میں عملاًرائج کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ اس کی فکرِ آخرت بڑھ جاتی ہے۔ دنیا میں دلچسپی کم اور آخرت کی فکر اوررب کو جواب دینے اور اس کا سامنا کرنے کی نظرہرلمحہ اس کو لا حق ہوتی ہےاور یوں وہ برائیوں اور بے حیائیوں سے مستقل بچنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
رمضان وہ مہینہ ہے جو قرآن کے تعلق کو مزید مضبوط اور مربوط کرتا ہے۔ لیکن ایک بیان میں، میں نے یہ سمجھا کہ دنیاوی کامیابی اور بڑا مرتبہ ہماری کامیابی نہیں بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کوسمجھنے کی مسلسل کوشش کرے فرض عین سمجھیں کیونکہ اس قرآن کا حق ہے کہ اس کو بار بار پڑھا جائے، سمجھا جائے، عمل میں لایا جائے اورعملی اور قولی طورپر اس اللہ کی کتاب جس میں کوئی شک نہیں اس کو آگے بڑھایا جائے۔
معذرت کے ساتھ ہماری بہنیں مجھ سمیت قرآن کو صحیح طرح نہیں پڑھتیں، سمجھنا تو دور کی بات! ہم کسی باہر لائے ہوئے تحفے یعنی کوئی مشین یا برقی آلہ، نیا ورژن موبائل وغیرہ کو استعمال نہیں کر سکتے جب تک اس کی گائیڈ بک کوسمجھ نہ لیا جائے۔
ہم اُس کی زبان سمجھتے ہیں تو بھی اسی مشن یا آلے کو، موبائل کو استعمال کرسکتے ہیں ورنہ نہیں۔ اس طرح یہ قرآن جو ہماری پوری زندگی بلکہ ہماری حیات کا لائحہ عمل ہے۔ اس کو سمجھے بنا ہم کیسے مسلمان کہلاسکتے ہیں؟ اور اس کا حق ادا کر سکتے ہیں؟ واقعی جھوٹ بولنا، بے پردگی کرنا، غیبت کرنا، شراب پینا گناہ ہیں مگر ان سب سے بڑھکر گناہ قرآن کو نہ پڑھنا، نہ سمجھنا ہے نہ اس کیلئے کوشش کرنا ہے۔ طلب لگن سے قرآن کو صحیح پڑھنا سمجھنا اور مستقل روزانہ کی بنیاد پر اس سے جڑے رہنا ہی دراصل ہمارے لئے ضروری ہے تاکہ حق اور سچ ہم پر واضح ہو اور ہم ہر لمحہ برائی سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی برائی سے روکنے کی کوشش کریں لیکن واقعی بد نظری، زنا، چوری سے بڑا گناہ تو قرآن کو نہ سمجھنا اور اس کمی کا احساس نہ رکھنا ہےکہ اللہ نے اس کلام کو جو میرے لئے آیا میں اس سے بے بہرہ کیوں؟ قرآن کو نہ سمجھنا اور کوشش نہ کرنا بڑا گناہ ہی تو ہے!یہ تو کبیرہ گناہوں سےبھی بڑا گناہ ہے! لہٰذااس مہینے میں اس گناہ کی معافی مانگ کر قرآن پڑھنے سمجھنے اور عمل کرنے کا مضبوط ارادہ کریں،نیک نیت کےساتھ کوشش کریں،تو انشاء اللہ اللہ ضرور رحم فرمائیں گے۔ آپؐ قیامت کے دن رب سے شکایت کر ینگے کہ" اے اللہ یہ میری قوم کے لوگ ہیں جنھوں نے قرآن کو چھوڑ دیا "اس کا حق ادانہیں کیا۔ گویا سمجھا نہیں یعنی صرف تلاوت کرنا بھی کافی نہیں یہ تو اللہ کے خطوط کا ایسا واضح مجموعہ ہے جو میرے نام کھلی بشارتیں اور تنبیہات ہیں جنہیں میں سمجھوں گی ہی نہیں اور زندگی گزاردی تو اس لا پروائی کا خمیازہ ہمیں ضرور بھگتنا پڑے گا! کیونکہ ہم جب اس کو سمجھ ہی نہ پائے تو کیسے عمل کریں گے؟
کیسے رب کے احکامات کوسمجھیں گے؟ وہ رب جس نے ہمیں اپنا نائب بنا کرتمام مخلوقات پر فوقیت دیکر فرشتوں سےسجدہ کروا کرایک مہلتِ زندگی دیکر، راہنمائی کی کتاب یعنی خطوط کا مجموعہ" قرآن" کی شکل میں دیکربھیجا پھر رسول اللہﷺکو نمونہ بنوا کرواضح کر دیا تو پھر ہم کیوں اس سے اعراض برت رہے ہیں؟ کیونکر بے حسی دیکھا رہے ہیں؟ عمردنیا میں اسکی رعنائیوں میں بڑے مزے سے گزار رہے ہیں اور آخرت کو بھلائے بیٹھے ہیں! اسطرح تو ہم واقعی اس قرآن کی توہین کر رہے ہیں تو یہ تو قیامت کے دن میرے خلاف گواہی دے گا۔
ہم کتنے محروم اور بے بس انسان ہونگے کہ بظاہر نام کے مسلمان بنے ہوئے ہیں دینی کام بھی کرتے ہیں نماز بھی پڑھتے ہیں دیگر عبادات عادات سمجھ کر کرتے ہیں اور خوش ہیں کہ بڑے مزے میں بڑے عہدے پر ہیں، پر آسائش ملی ہے عزت ملی ہوئی ہے۔ قرآن سمجھنے کی کوشش نہ کرنا دنیا کو برائی سے روکنا خود رُکنا اور اللہ کی زمین پر اس کے نظام کو نافذ کی اپنی سی کوشش کرنا کیسے ممکن ہوگا؟جبکہ ہم خود قرآن کا حق صرف تلاوت کرکے نہ ادا کریں بلکہ سمجھ کر غور و فکرسے شعوری طور پر عمل کرے اللہ کے خطوط کو شعوری طور پر سمجھنا اور اس کی کوشش کرتے رہناہی میری اولین ذمہ داری ہے۔ساٹھ ستر سالہ زندگی میں بھی یہ کام نہ کیا وقت نہ نکالا تو کیا کیا؟ اس کا نتیجہ کبھی اچھانہیں نکلے گا۔
قرآن تو مجھ پر لعنت کرے گا کیونکہ نہ سمجھ کر ہم نے اس کی تو ہین ہی تو کی ہے لہٰذا کیسےہمارے لئے حجت بنے گا؟ اب بھی وقت ہے ماحول بنا ہوا ہے اللہ نے رمضان میسرکئے ہیں ہم اس کو نیک نیتی سے سمجھیں پڑھیں عمل کریں پچھلے تمام غلط رویوں کی معافی چاہیں اور اپنی سی کوشش شعوری مسلمان بننے کی کریں تو اللہ کی رحمت بڑی ہے سترماؤں سے زیادہ محبت کرنےوالے رب کا اجٓرسترتو کیا سات سو گنا ہو جائے گا۔انشاء اللہ۔۔۔ اللہ پاک ہمیں برے وقت، برے ماحول برے لوگوں سےبچائے اور ہماری مدد فرمائے۔ قرآن کے حقوق ادا کر نے کیلئے ہماری بہترین راہنمائی فرمائے تاکہ ہمارے دل سکون پائیں اورہم صحیح معنوں میں مسلم کہلائیں۔کلامِ الہٰی کو نہ سمجھ کر ہم نے اپنی ہی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، اللہ کی رحمت مانگیں اس کافضل مانگیں ہدایت مانگیں، شکر ادا کریں کہ اس نے ہمارا نام" مسلم" رکھاہے۔لائحہ عمل دیا ہے اسکا حق اد کرنا ہی زندگی کا مقصد ہے اور دونوں جہاں کی کامیابی! مجھ سمیت میری تمام بہنوں اور بھائیوں کیلئےدعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں ہدایت دے اور ہم تڑپ طلب اور لگن سے قرآن پڑھیں سمجھیں اورعمل کریں آمین۔اسی طرح میرا رب راضی ھوگا اس لیے سمجھیں کہ رب راضی تو سب راضی۔ہر فرد پر فرض عین ہے یہ قرآن کا فہم! کیا اب بھی نہ سمجھو گے؟





































