
لطیف النساء
ہر وقت بندہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے ۔ کل ہی ہم بارہ پندرہ لوگوں نے ساحل کا بہت بڑاحصہ تفریحی طور پر بڑے پر خطر راستوں
سے گزرتے چار وہیلرز گاڑیوں میں عبور کیا۔ کنارے کنارےسےدریا کی اونچی اونچی موجیں بس گاڑی کے وہیلز تک آنا چاہتی تھیں مگر راستوں کے پرخطر ہونے کی وجہ سے پانی سے دور رہ کر صرف ریتیلے میدان اور اونچی نیچی پہاڑیوں ریتیلے میدانی اور گہرائی اور اونچائی کے پر خطر علاقے تیز اور کم رفتاری کے ساتھ طے کیے ڈرتے بھی رہے اور چلتے بھی رہے، ایک دو مقامات پر رک کر قدرت کے حسین مناظر اور کاریگری دیکھی،ریت کے اندر پائی جانے والی سینکڑوں مخلوقات کے مہین ترین ذرات بھی ریت کے حسن میں اضافہ کر کے اللہ کی مخلوقات،اقسام اور انگنت اشکال، رنگ و شکل کے نہ ختم ہونے والے سلسلے دیکھ کر ہمیں اپنی اہمیت بھی انہی ذروں سے کم لگی مگر واقعی شکر کے کلمات اور سبحان اللہ ہی منہ سے نکلنا تھا۔ انتہاکی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں اور اوپرچمکتا سورج اس کی تپش بھی کم لگ رہی تھی، دیکھتےہی دیکھتے آسمان کے سورج کے رنگ، تیور،ڈیزائن لاجواب مظاہرِ،قدرت پیش کرتی راتیں، گزر گاہیں، سڑک کے کنارے لگے درختوں کے انواع و اقسام ان پر لگے پھول پتے ،انسانوں کی تخلیقی صلاحیتوں سے مرصع سڑ کیں، پل اور ہیڈ پلوں کے چار مختلف سمتوں میں سفر کرتی ہزاروں لاکھوں اقسام کی انگنت گاڑیاں اور ان کا خودکار اسپیڈ کنٹرول سسٹم، رکاوٹیں ،اشارے اور سفری اشتہارات، علامات اور ٹریفک کی یکسوئی سب کچھ دیکھ کر دل شکر اللہ کہہ رہا تھا کہ واقعی اللہ تعالی نے اپنی مخلوق کو خلیفۃ الارض بنا کر سب کچھ ہی تو دے دیا! گاڑی میں بھی ٹمپریچر کو کنٹرول کرنے اور اپنی زندگی کو پرآسائش بنانے والا یہ انسان پھر بھی کتنا ناشکرااورغافل ہے۔واپس کا احساس رکھتے ہوئے بھی اس کی تیاری سےاتنا غافل ہے، جتنا اسے نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دنیا کے سفر چند گھنٹوں میں ختم ہو جاتے ہیں مگر زندگی کا سفر اف اللہ!
یہ سفر بھی کتنا طویل ہے؟یہاں وقت کتنا قلیل ہے
کہاں ٹوٹ کر کوئی آئے گا جو چلا گیا وہ چلا گیا
پھر یہ بھی کہ زندگی ایک سفر ہے ،اس سفر میں بھی ہم کتنے انوکھے سفر کر لیتے ہیں ،ہر سفر ہمیں اپنےابدی سفر کی یاد دلاتا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے خود بخود دل نشانیاں دیکھ کر پہنچ ہی جاتا ہے۔ سورج نے بجھتے بجھتے بھی قیامت کی آگ کے مناظر سارے افق پر بکھیر دیے ،جنہیں بادل چھپانے کی کوشش کرتے رہے، دن بھر کی دھوپ میں گرمی تھی مگر شعلے نما مناظر نہیں، مگر ڈھلتے سورج میں شعلے نما مناظر اور آگ کی شدت کے خلاف چند جھلکیاں کیاکچھ سجھا گئیں۔ اے اللہ!ہمارے سفر کے اختتام پر ہمیں
دوزخ کی آگ سے بچانا، آمین۔یہی اس وقت ذہن میں بھی آیا مجھے وہی بات یاد آگئی کہ بھری دوپہر کو:۔
چڑھتا سورج یہ دے رہا ہے صدا
بس یہیں سے زوال ہے تیرا
رب نے فرمایا ہے نا کہ مظاہرِ قدرت میں اس فطرت میں تیرے لیے نشانات ہیں،واقعی ہیں بس دیکھنے والی آنکھ اور عبرت والا دل چاہیے۔ریت کے ان ذروں میں ملے لاکھوں سال پرانے مرے ہوئے سیپی، گھونگے، مونگے، موتی اور خشکی اور تری کی ہزاروں مخلوقات کی باقیات موجود تھیں جو فنا کا سبق دے کر مٹی میں مل کر اپنے خالق کا پتا دے رہی تھیں جن میں ہم نے خود کو بھی شامل کر دیا اور شکر ادا کیا کہ ابھی ہم زندہ ہیں اور معرفت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کتنا ہمارا سفر گزر چکا ہے کتنا باقی ہے۔ کیا گھر پہنچنے میں ڈھائی گھنٹہ باقی ہے میرے دل نے سوال کیا اور اصلی گھر؟ بس دعا کی کہ اللہ نہیں معلوم کب کیسے تجھ تک پہنچیں گے۔وہ سفر کیسا ہوگا پھر وہ گانا بھی یاد آیا:۔
عدل کریں نا انصاف کریں
بس معاف کریں توں مولا معاف کریں
نہ میں عمل کماواں نہ میں فرض نبھاواں
پلّے گُھن کوئی نا جدوں سوچا شرماواں
تیری شان اُچھیری تے میں مِٹیاں دی ٹھیری
سن عرض توں میری مولا معاف کریں توں!
شکر اللہ کا دوست نے اتنا اچھا پیغام بھیجا ،جو میرے دل کی دعا میرے حصار اور میری اللہ سےقوی امید بھی ہے کہ اے اللہ پاک ہمارے دلوں میں اپنی ہر مخلوق کے لیے اتنی نرمی عطا فرما گویا واقعی ہمارا دل ایسا نرم ہو اور جو ہر دم تیرے خوف سے لرزے۔
میری ایسی آنکھیں ایسے موہ جو تیرے غضب سے برسیں اورہمارے مردہ دلوں کوسیراب کر دیں اور ہمیں ایسی نیند دے جو فرحت سے بھرپور ہو۔ اے اللہ میرے فلسطینیوں اور تمام ہم وطن اور دیگر مسلمانوں کو عافیت دے دے۔ اپنی نعمتوں کا شکر گزار اور اپنے دین پر مطمئن ہوں۔ شاکر ہوں، صابر ہوں، ہمیں کبھی بھی بھٹکنے نہ دینا۔
نہ ہمیں مغلوب کرنااے رب ،امت مسلمہ کی مدد فرما اورہم سےراضی ہو جا،ہم میں برائی سے بچنےکی طاقت نہیں،ہمارے لئے نیکیوں پر چلنا آسان کر دے اور برائیوں سے ہمارے منہ موڑ دے ،آمین۔ خصوصا ًہماری خواتین جو قوم کی مائیں ہیں اور قوم کی اصل تعمیر کرنے والیاں انہیں اپنی رضا کے لیے چن لے۔مجھ سمیت ایسے کام لے لے کہ ہماری اور ہماری نسلوں کیلئے صدقہ جاریہ بنیں ،آمین اور اپنے دین کی محافظ اور وارث بنیں۔خوبصورت، خوب سیرت اور خوب تر بھی بنیں، ایسے دل سنوار دے یا رب العالمین۔





































